Breaking News
Home / اہم ترین / آذان کے معاملے پرسونو نگم کا متنازعہ بیان۔ کہا آذان سے ہوتی ہے تکلیف۔سونو کے بیان پر فلمی اورسیاسی دنیا کا شدید رد عمل

آذان کے معاملے پرسونو نگم کا متنازعہ بیان۔ کہا آذان سے ہوتی ہے تکلیف۔سونو کے بیان پر فلمی اورسیاسی دنیا کا شدید رد عمل

ممبئی :ہرپل نیوز،ایجنسی)17اپریل: بالی ووڈ کے معروف سنگر سونو نگم کو فجر کے وقت اذان سے تکلیف ہوتی ہے۔ سونو نگم کا کہنا ہے کہ وہ مسلمان نہیں ہیں ، پھر بھی ان کو اذان کی آواز کی وجہ سے صبح اٹھنا پڑتا ہے اور ان کی نیند میں خلل پڑتا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ سونو نگم نے اذان کی آواز کو ایک شور بھی بتایا ۔سونو نگم نے 17 اپریل کی صبح ساڑھے پانچ بجے سے ٹویٹ کئے ، جن میں لاوڈس اسپیکر پر اذان کو شور قراردیا اور اس کی شکایت کی ہے۔سونو نے کہا کہ میں مسلمان نہیں ہوں ، لیکن پھر بھی مجھے روزانہ صبح 5 بجے اذان کے شور سے اٹھنا پڑتا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ سونو نے گرودوارہ اور مندروں میں بھی لاؤڈ سپیکر کے استعمال پر سوال کھڑا کیا۔سونو نے ٹویٹ کر کے کہا کہ وہ مسلم نہیں ہیں، پھر بھی ان کو اذان کی آواز سن کر اٹھنا پڑتا ہے۔ اسے انہوں نے مذہب کی زبردستی قرار دیا ۔ انہوں نے کہا کہ مذہبی اداروں کو ان لوگوں کے حقوق کا بھی خیال رکھنا چاہئے جو کہ مذہب نہیں مانتے ہیں۔انہوں نے یہ بھی ٹویٹ کیا کہ جب اسلام کا ظہور ہوا تھا ، اس وقت تو بجلی نہیں تھی۔ ساتھ ساتھ کسی بھی مذہب میں لاؤڈ اسپیکر کے استعمال پر بھی انہوں نے اپنی پریشانی کا اظہار کیا۔

جس اذان سے سنگر سونو نگم کو ہوتی ہے تکلیف ، اسی اذان سے اداکارہ پرینکا چوپڑا کے دل کو ملتی ہے تسکین : بالی ووڈ کے معروف سنگر سونو نگم نے اذان کو لے کر کئے ٹویٹس کے بعد تنازعات میں آ گئے ہیں۔ سونو نے 17 اپریل کی علی الصبح کئی ٹویٹ کئے ، جس میں فجر کے وقت لاوڈاسپیکر پر اذان کو لے کر اپنی شکایت درج کرائی ہے ۔جبکہ بالی ووڈ سے ہالی ووڈ تک اپنی شناخت بنانے والی معروف فلم ادکارہ پرینکا چوپڑا کو اذان کی آواز سن کر دلی سکون ملتا ہے۔بالی ووڈ پرینکا چوپڑا کے دل کو بھوپال میں اذان سے سکون ملتا ہے۔ بھوپال کی مساجد سے شام کے وقت آنے والی اذان کی آواز پرینکا کے دل میں بس گئی ہے ۔خیال رہے کہ پرینکا چوپڑا گنگا جل 2 فلم کی شوٹنگ کے لئے بھوپال آئی تھیں۔ وہ یہاں تقریبا 20 دنوں تک رہی اور لوٹتے وقت انہوں نے شام بھوپال کاتذکرہ کیا تھا۔ پرینکا نے کہا تھا کہ وہ روزانہ شوٹنگ مکمل کرنے کے بعد سہانی شام میں ہوٹل کی چھت پر پہنچ جاتی تھی۔ یہاں انہیں ہر سمت سے اذان کی آواز سنائی پڑتی تھی۔پرینکا نے کہا تھا کہ " ہوٹل کے ارد گرد چھ مساجد تھیں ۔ڈھلتی شام میں اذان کے لئے اٹھنے والی آواز سے ان کو دلی سکون ملتا تھا۔ پہلی مرتبہ شوٹنگ کے سلسلہ میں بھوپال پہنچی پرینکا یہاں کی خوبصورتی کی قائل ہو گئی تھیں۔ پرینکا کا کہنا تھا کہ وہ بھوپال آئی تو تھیں پرینکا چوپڑا بن کر لیکن لوٹ رہی ہے پرینکا بھوپالی بن کر۔

سونو نگم نے سستی شہرت حاصل کرنے کیلئے اشتعال انگیزی کا سہارا لیا : ابوعاصم اعظمی

ممبئی : بالی ووڈ کے گلوکار سونو نگم کے فجر کی اذان پر پابندی عائد کئے جانے والے ٹوئیٹر پر تبصرہ پر برہمی کا اظہار کر تے ہوئے رکن اسمبلی اور ایس پی لیڈر سماجوادی پارٹی نے سونو نگم کے اس بیان کو شہرت حاصل کر نے کا ایک سستا طریقہ قرار دیا اور کہا کہ سونو نگم جیسے لوگ اس ملک میں بدامنی پیدا کرنے اور فرقہ پرستی کو فروغ دینے کیلئے اس قسم کے بیانات دیتے ہیں تاکہ ان کو اسی بہانے شہرت حاصل ہوجائے ۔اسی لئے فلمی دنیا سے وابستہ اداکار ، گلوکار اس قسم کے اسٹنٹ کر تے رہتے ہیں ۔سونو نگم نے بھی سستی شہرت کیلئے یہ بیان دیا ہے تاکہ ہندوؤں اور مسلمانوں میں نفرت پیدا ہو ۔ کئی ایسے لوگ ہیں جنہیں فجر کی اذان سے قلبی سکون میسر آتا ہے اورلوگ بیدار بھی ہوجاتے ہیں فجر کی سے متعلق سونو نگم کے اس بیہودہ بیان کو نظرانداز کیا جانا چاہئے کیونکہ یہ بیان اس نے شہرت حاصل کر نے کیلئے ہی دیا تھا ۔ٹوئیٹر پر گلوکار کا ایک ٹوئٹ نے تمام انسانوں میں نفرت پیدا کردی ہے ایسے لوگ ہی نفرت کے سوداگر ہیں ۔ سونو نگم پر فوری طور پر ایف آئی آر درج کی جانے چاہئے کیونکہ انہوں نے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہے سونو نگم جیسے افراد پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے تاکہ ملک کا امن و امان بحال رہے۔ابوعاصم اعظمی نے سخت لہجہ اختیار کر تے ہوئے سونو نگم کو فوری طو رپر گرفتار کر نے کا پر زور مطالبہ کیا ہے ساتھ ہی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کیلئے اس قسم کے لوگوں پر روک لگانی کی بھی بات کہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر کسی کو اپنے مذہب پر عمل پیرا ہونے کی پوری آزادی ہے ایسے میں اس قسم کے فرقہ پرست عناصر ماحول خراب کر نے کیلئے یہ کام کر رہے ہیں۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/uV0sC

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے