Breaking News
Home / اہم ترین / آٹو ڈرائیور پر حملہ کے معاملہ میں آئی شدت۔ملزموں کی گرفتاری نہ ہونے سےناراض لوگوں نے دی شدید احتجاج کی دھمکی ۔لوگ پولیس پر جابندرای کا لگا رہے ہیں الزام

آٹو ڈرائیور پر حملہ کے معاملہ میں آئی شدت۔ملزموں کی گرفتاری نہ ہونے سےناراض لوگوں نے دی شدید احتجاج کی دھمکی ۔لوگ پولیس پر جابندرای کا لگا رہے ہیں الزام

بھٹکل (ہرپل نیوز)9 مئی: گز شتہ دنوں بھٹکل بندر روڈ پر  ایک آٹو رکشہ ڈرائیور پر ہونے والا حملہ شدید رخ اختیار کرتا جا رہا ہے ۔  آٹو رکشہ ڈرائیور اشرف پر حملے کے ملزمین  کی گرفتاری عمل میں نہ آنے سے   بھٹکل آٹو ڈرائیورس اسوسی ایشن کے ایک وفد نے بھٹکل ڈی وائی ایس پی شیوکمار سے ملاقات کرکے  حملہ آوروں کو فوری گرفتار کرنے کا مطالبہ کیاہے۔ یونین کے صدر وینکٹیش نائک نے ڈی وائی ایس پی سے  حملہ آوروں کے خلاف ہالف مرڈر کی دفعہ 307 بھی عائد کرنے کا مطالبہ کیا ۔ انہوں نے پولس کے اعلیٰ حکام کو متنبہ کیا کہ اگر حملہ آوروں کے خلاف سخت کاروائی نہیں کی گئی تو پھر آٹو رکشہ یونین احتجاج پر اُترے گی۔رکشہ ڈرئیوا کا تعلق  مخدوم کالونی سے ہے جس کے باعث مخدوم کالونی کے نوجوانوں نے بھی اس معاملہ میں  سخت کارروائی کی مانگ کی ہے ۔ واقعہ کو  48 گھنٹوں سے زائد کا وقت گذرنے کےباوجود گرفتاری نہ ہونے سے ناراض ہیں ۔ پیر کی شام کو  حملہ آوروں میں سے ایک ملزم جالی روڈ پر واقع  اپنے مکان میں موجود  ہونے کی خبر  کے بعد بڑی تعداد میں لوگ جمع ہو گئے اور پولیس  آنے کا انتظار کرنے لگے مگر پولیس کے تاخیر سے پہنچنے اوربروقت  کارروائی نہ کرنےپر لوگ پولیس پر مجرموں کو بچانے کاالزام لگا رہے ہیں ۔ عوام کا یہ بھی  الزام ہے کہ حملہ میں  شدید زخمی ہوجانے کے باوجود بھی  پولیس نے حملہ آوروں پر  معمولی دفعات کے تحت کیس درج کیا ہے

 پولس کی سردمہری کو دیکھتے ہوئے  مخدوم کالونی کے احتجاج منظم   کرنے  کا منصوبہ بنارہے ہیں۔دوسری جانب کچھ لوگوں  نے گزشتہ رات   بدریہ کالونی میں ایک اسکوٹر کو نذر آتش کردیا جس کے تعلق سے خبرملی ہے بائک پر سوار کچھ نوجوانوں نے اسکوٹر پر سوار شخص کا پیچھا  کیا ۔مگر  جب اسکوٹر سوار اپنی اسکوٹر کو چھوڑ کر جنگل کی طرف بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوگیا تو متعلقہ نوجوانوں نے اُس کی اسکوٹر کو ہی نذر آتش کردیا۔ ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق متعلقہ اسکوٹر عبدالرحمن نامی ایک نوجوان کی تھی جوگزشتہ دنوں رکشہ ڈرائیور پر حملہ کرنے والوں میں شامل تھا ۔

خیال رہے کہ دو روز قبل بھٹکل کے  بندرروڈ سکینڈ کراس پر ایک آٹورکشہ ڈرائیور کو  لڑکی سے چھیڑ چھاڑ کا الزام لگا کر کچھ لوگوں نے رکشہ سے باہر کھینچ کر اُس کی بری طرح پیٹائی کرکے اس کو شدید زخمی کرنے کے بعد اس کا رکشہ  لے کر فرار ہونے کی واردات پیش آئی تھی اور اس واقعہ میں ملوث افراد کو پولیس کی جانب سے گرفتار نہ کئے جانے سے رکشہ یونین اور مقامی لوگ سخت ناراضی کا اظہار کر  رہے ہیں ۔ رکشہ یونین اور مقامی نوجوانوں  کی جانب سے احتجاج کے سلسلے میں  دی جانے والی  دھمکی کے ساتھ پولیس کیا ٹریٹ کرے گی یہ دیکھنا اہم ہے ۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/lrVIq

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے