Breaking News
Home / اہم ترین / آکو پنکچر: بیماری سے شفا پانے کا ایک بہترین طریقہ علاج۔ لوگوں میں عدم بیداری کی وجہ سے اس طریقہ علاج کو نہیں ملی شہرت.اکو پنکچرپرروزنامہ آج کا انقلاب کی خصوصی تحریر

آکو پنکچر: بیماری سے شفا پانے کا ایک بہترین طریقہ علاج۔ لوگوں میں عدم بیداری کی وجہ سے اس طریقہ علاج کو نہیں ملی شہرت.اکو پنکچرپرروزنامہ آج کا انقلاب کی خصوصی تحریر

موجود ہ دور میں انسان کسی نہ کسی بیماری میں مبتلا ہے اور کوئی اپنی صحت کو بنائے رکھنے کے لئے لاکھوں کروڑوں روپئے خرچ کرنے پر آمادہ ہے ، لیکن قدرت نے انسانوں کے لئے ایسے طریقے سے بھی نوازا ہے جس کے ذریعے سے انسان اپنی بیماریوں کا حقیقی علاج کرسکتاہے لیکن وہ اپنی ہر بیماری کو لمحوں میں ختم کرنے کے مقصد سے سالوں کی سزا پارہاہے اور جدیدکیمیائی ادویات کا اس طرح سے استعمال کررہاہے کہ وہ ان سے ہونے والے مضر اثرات سے بالکل ہی لاعلم نظر آرہاہے ۔ اس جدید دور میں دنیا کے سب سے قدیم طریقہ علا ج کے ذریعے سے انسانوں کے مختلف بیماریوں کا علاج کرنے والے اکیو ہیلر سید شبیر اور سید سعادات نے اکوپنکچر علاج کے ذریعے سے نہ صرف ہندوستان بلکہ بیرونی ممالک میں بھی لاکھوں مریضوں کا کامیاب علاج کیا ہے اور انہیں کی زبانی اکوپنکچر علاج کی تفصیل یہاں پیش کی جارہی ہے۔

آکو پنکچر ایک مکمل سائنسی طریقہ علاج ہے۔ جسم کے اندرونی اعضاء وجوارح میں جمع شدہ فضلات اور توانائی کے دورمیں حائل رکاوٹ ہی کا نام بیماری ہے۔ اس کو نسخہ آکوپنکچر کی تشخیص کی بدولت جسم میں رواں توانائی کی رکاوٹ کے مرکزی مقام کو پہچان کر اس کو جلد کے بیرونی حصہ پر واقع ایک نقطۂ آکو پنکچر کو چھیڑنا ہی علاج ہے۔ اس علاج آکو پنکچر کے مریض کو بھوک ، پیاس ،آرام ، اور نیند جیسی جسم کے تقاضوں کی پابندی اختیار کرنی چاہئے۔ اس طرح فطری طریقہ زندگی کی طرف واپس لوٹنا جسمانی صحت کی پائیداری ہے۔ معالج کے مشورہ کے مطابق ہفتہ میں ایک بار یا 15؍ دن میں ایک بار علاج جاری رکھیں ۔آکو پنکچر علاج کے دوران بدن کے فضلات (غلاظت ) کو خارج کرنے کے عمل جاری رکھتے وقت دوسرے ادویات وکیمیائی اشیاء انہیں جسم کے اندرہی روکتے ہیں ۔ لہٰذا آکو پنکچر علاج کے دوران دوسرے طریقہ علاج اختیار نہ کریں ۔آکو پنکچر تشخیص کیلئے خون ٹیسٹ ، اسکین، ایکسرے ودیگر تحقیقات کی ضرورت نہیں ہے۔ آکو پنکچرعلاج کے دوران بخار ، درد سر ،دست، قئے، اور بلغم وغیرہ آجائے تو گھبرانے کی ضرورت نہیں بلکہ اس کے ذریعہ فضلات کے اخراج کا امکان ہوتا ہے ، ان حالات میں غذا کھائے بغیر رہنا ، بھوک کے انتظار کے بعد اسکے مطابق کھالینا تیزی سے صحت یاب ہونے کی راہ ہموار کریگا۔دراصل آکو پنکچر صرف منتخب شدہ ایک ہی نقطہ پر باریک سوئی یا انگلی کے ذریعہ چھوکر کئے جانے والا علاج ہے۔ اور اگر مزید کہاجائے تو صرف انگلی سے چھوکر کی جانے والی علاج ہی کا نام اصل میں آکو پنکچر ہے۔ کیونکہ اس کے شروع دور میں سوئی نما جیسی آلہ ایجاد نہیں ہوا تھا۔ آکو پنکچرچین سے دیگر ممالک میں پھیلنے لگاتو وہاں کی مقامی نوعیت کے موافق مختلف تبدیلیاں پیداہوئیں ۔ امریکہ برطانیہ جیسے ممالک میں یہ طریقہ ترویج پانے کے بعد یہ تجارتی شکل اختیار کرگیا۔ جس کے نتیجے میں برقی رجحان والے آلات (Electric stimulator) ،برقی روتشخیص(computer meridian diagnosis) زیلی غذائی مقویات (food suppliment) دوران خون کے مطلع درستگی (blood circulative messager) جیسے آلات فروخت ہونے لگے ۔ ان آلات کا آکو پنکچر سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس علاج کو صرف 7یا15؍ دن میں ایک مرتبہ علاج کرنے سے مکمل تندرستی اور صحت کیلئے موزوں ہوتا ہے۔ ہر مرتبہ کی جانے والے علاج سے آپ کو بیماری سے افاقہ کی راہ ملے گی۔ ایک یا دو مرتبہ بعض وجوہات کی بنا پر علاج میں ناغہ ہوجانے سے ماقبل کئے گئے علاج کے افاقہ میں کوئی کمی کا امکان نہیں ہوتا۔ دوبارہ تسلسل سے علاج جاری رکھے جاسکتے ہیں ۔علاج کے بعدبعض لوگوں کو آغاز علاج کے پہلے ہی دن سے فائدہ کا احساس ہوجائے گا۔ بعض لوگوں کو ۴؍یا۵؍ہفتہ کے بعد ہی تغیرات رونما ہونگے۔بھوک لگنے پر کھانا ، رات کی نیند صحت کی بنیاد ہے۔ صحت مندی کیلئے ان کو صحیح طور پر اپناناہی کافی ہے۔ مزید کوئی پرہیز کی ضرورت نہیں ہے۔ انگریزی طریقہ علاج کی تحقیقات کو آکو پنکچر علاج کیلئے ضرورت ہی نہیں ہوتی۔ انسانی جسم میں توانائی کی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں ۔ اسی کے ساتھ ہی کیمیائی تبدیلوں کا تسلسل جاری ہو جاتی ہیں ٹیسٹ کے ذریعہ صرف ان کیمیائی تبدیلیوں کی پہنچان ہوتی ہے۔ مسلسل ہونے والی کیمیائی تبدیلیوں کے ذریعہ توانائی تبدیلیوں کو جاننا یا ان کو درست کرناہمارے لئے ناممکن ہے۔ کئی لاکھ روپیہ خرچ کرکے سرسے پیر تک ہزاروں قسم کے جانچ کرنے کے باوجود ان سے ایک بھی ہمارے علاج کیلئے کار آمد نہیں ہوتا۔ بہت کم لوگوں میں اس طرح کی حالت ہوتی ہے۔ جسم میں مامونیت (قوت مدافعت) جن کو بہت کم ہوتی ہے ان کو علاج کے اثر پکڑنے میں چند ماہ لگ جاتے ہیں ۔ آکو پنکچر ان کو ضرور کارآمد ہوگا اور وہ درجہ بدرجہ بیماری سے غیر شعوری طور پر نجات پانے لگیں گے۔ نومولود بچہ سے بڑھاپے تک تمام عمر کے لوگوں کو یہ علاج مکمل فائدہ دیگا۔کچھ لوگوں کا سوال ہے کہ آکوپنکچر علاج کے دوران اچانک بخار، دردسر، جیسے کوئی شکایت ہوتو کوئی دوا گولی غیرہ استعمال کرسکتے ہیں ؟تو اس سلسلے میں اکیو ہیلرس کا کہنا ہے کہ اس کی ضرورت ہی نہیں کیونکہ ہمارے جسم میں پیدا شدہ خراب مادہ (فضلات) مکمل خارج ہوئے بغیر بدن میں رک جانا ہی بیماری کہلاتا ہے۔ آکوپنکچر علاج اختیار کرنے پر جسم کا مدافعتی قوت (immunity power)میں اضافہ ہوکر نجاست خارج ہوتے وقت سردرد ، بخار، وغیرہ کی تکلیف ہوسکتی ہے۔ اس طرح ہونے کا مطلب یہی ہوگا کہ علاج کا اثر بحسن خوبی انجام دے رہا ہے۔ اس لئے بخار، سردر، قئے دست وغیرہ ہوں تو شکایت زائل ہونے تک کسی قسم کی غذا وغیرہ کھائے بغیررہنا چاہئے، وہ شکایتیں اپنے آپ غائب ہوجائیں گے۔آکوپنکچر طریقہ علاج میں کسی بھی بیماری کا علاج ناممکن نہیں ہے۔ ہر بیماری کیلئے تمام ممکن وسائل اس میں موجود ہے۔ دوران حیض ہونے والی تمام تر تکلیفوں سے راحت پانے میں یہ معاون رہے گا۔بیماری کی ابتدائی مرحلہ میں اس کو زائل کیا جاسکتا ہے۔ بیماری میں شدت اور پختگی اختیار کرنے کے بعد بھی اسکو جڑ سے خارج کیا جاسکتا ہے۔ یہ ایک مکمل طریقہ علاج ہے۔یہی اس کی خصوصیت ہے۔

کینسر کے لئے بھی یہ علاج نہایت کارآمد ہے جسم میں پیداہونے والا فضول مادہ(کچرہ) فاسدریاح کی شکل میں اور فاسد مائع کی شکل میں رکنے لگتا ہے۔ جس عضو میں یہ فضول مادہ رکتا ہے۔اسی مطابق یہ تشکیل پاتا ہے۔ لعابی دنبل ، نرم پھٹوں جیسی پھوڑے جیسی شکلوں میں یہ رونما ہوتے ہیں ۔ ان ڈلوں کے اندر حرارت جمع ہونے لگتا ہے۔ دوران نہ پانے والا یہ حرارت خلیوں اور پھٹوں کی نخائیوں کو حد سے زیادہ (تیزی سے) بڑھانے لگتا ہے۔ یہ ڈلے بڑھنے کے بعد پھٹ کرپھلنے کی حد کو پہنچنے لگتی ہے۔ تب یہ کینسرکی شکل اختیار کرجاتا ہے۔ ان ڈلوں کو گھلانے کیلئے کیمیائی ادویات کااستعمال کرنے سے ریڑیو گرافی کرانے سے یا آپریشن کرانے سے وہ مزید بگڑنے (خطرناک ہونے)لگتا ہے۔ اور تیزی سے پھیلنے لگتا ہے۔ اگر ان ڈلوں اور پھوڑوں کو زائل کرنا ہوتو ان کے اندر رکا ہوا فاسد حرارتی توانائی کا دور لگانے سے یہ پھٹ کرغائب ہوسکتا ہے۔ آکو پنکچرطریقہ علاج اپنائے جانے پر ان (پھوڑوں ) ڈلوں کو مکمل طور سے خارج کیا جاسکتا ہے۔

آکو پنکچر علاج کے ذریعہ سے ہر بیماری زائل ہوتی ہے اب سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ، اب بیماری سے احتیاط کس طرح کیا جائے؟ ہم غذا کھانے کے طریقہ جان کر اصلاح کرلینا چاہئے یعنی غذا سے بیماری نہیں ہوتی،غذاکے طریقہ استعمال ہی بیماری کو جنم دیتی ہے۔ طریقہ یہ ہے کہ بھوک لگنے پر ہی غذا کھانا چاہئے، کھاتے وقت آہستہ اور دوسرے کاموں (باتوں ) میں توجہ دئے بغیر کھانا چاہئے۔ اس طرح کھانے سے دانت اپنا (چبانیکا) کام مکمل کریگا۔ پیٹ بھرجانے کا احساس ہوتے ہی کھانا بند کردیں ، رات کی غذا بہت کم اور جلد ہضم ہونے والی چیز ہی کھائیں ۔’’ حدسے زائد آب حیات بھی زہر بنتی ہے‘‘’’چباکر کھاؤ لمبی عمر پاؤ‘‘ جیسی کہاوتیں بیماری سے بچنے کی آسان ترکیبیں ہیں ۔

آخر میں کچھ لوگوں کا سوال یہ بھی ہوتاہے کہ اتنی خوبیوں اور خصوصیتوں سے بھر یہ آکو پنکچر علاج کیوں ابھی تک مشہور نہیں ہوا؟ آکو پنکچر طبیبوں کے صلاحیتوں کی کمی ہی اس کی وجہ ہے۔ ’’ بابائے آکو پنکچر‘‘ کا لقب سے پکارے جانے والے ’’ڈاکٹر او وے پنگ ‘‘کا کہنا ہے کہ’’ ایک ہی سوئی سے دس ہزار بیماریوں کو دور کیا جاسکتا ہے ‘‘ ۔ آکو پنکچر طریقہ علاج میں اسکے لئے ہر ممکن اور مکمل وسائل موجود ہے۔ آکو پنکچرکے بارے میں معالج کا مکمل علم نہ ہونے کی وجہ سے علاج کے طریقہ میں بہت ساری غلطیاں کرجاتے ہیں ۔ اپنے نت نئے اشکالات پیدا کردیتے ہیں خود بھی مشکوک ہوجاتے ہیں ۔ اور کئی سوئیاں ،برقی ، آلات ، اور مصنوعی غذاؤں کو بھی علاج کے نام سے مریضوں کو دیکر’’ دوا کے بغیر آکو پنکچر علاج ‘‘ کے نام پر دھبہ لگاتے ہیں ۔ آکو پنکچرمیں موجود ذرائع کا ایک فی صد بھی پہنچ جائیں تو بس دنیا بھر میں مشہور ہوجائے گا۔ ہم اسی کوشش میں اپنا وقت صرف کررہے ہیں ۔ بیماری سے دنیا کو اور دواؤں سے لوگوں کو بچائیں ۔اس علاج کے تعلق سے اگر استفادہ کرنا ہوتو آپ ان نمبرات پر رابطہ کرسکتے ہیں ۔ 9483092091، 9036200786۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/ykZ6h

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے