Breaking News
Home / اداریہ / اب آسمانی مدد نہیں آئے گی تحریر۔ مدثر احمد،ایڈیٹر، آج کا انقلاب شیموگہ

اب آسمانی مدد نہیں آئے گی تحریر۔ مدثر احمد،ایڈیٹر، آج کا انقلاب شیموگہ

موجودہ دورمیں سیاست کی گلیاروں میں84سالہ دےوے گوڈا،85 سال کے ایس ایم کرشنا،79سال کی شیلادکشت،86سال کے مرلی منوہر جوشی،75 سال کے ملیکارجنا کھرگے،93 سال کے کروناندھی،77 سال کے شرد پوار،78 سال کے ملائم سنگھ یادو،74 سال بی ایس یڈویورپا،86 سال کے شامنوشیوشنکرپا،85 سال کے کاگوڈ تمپا،76 سال کے آسکر فرنانڈئز،92سال کے این ڈی تیواری،71 سال کی سونیا گاندھی،70 سا ل کے دگ وجئے سنگھ سیاست کے بے تاج بادشاہ مانے جاتے ہیں،اگر کل ہی انتخابات کا اعلان ہوجائے تو یہ لوگ ٹکٹوںکی تقسیم،ہارجیت کے حساب وکتاب اور انتخابی تشہیر کیلئے کھڑے ہوجاتے ہیں۔جبکہ اس ملک میں چالیس سال سے کم عمر کی نوجوان نسل سیاست کی باگ ڈور سنبھالنے کے بجائے ٹی 20-20 کے مزے لوٹ رہی ہے،بگ باس میں جیتانے اورہرانے کیلئے ووٹنگ کرنے کو اپنا فرض مان لیا ہے۔ہر ہفتے کی شام سے ویک ینڈ منانے کی تیاری کی جاتی ہے اور اتوار کو سیر وتفریح کرنا ہمارا مزاج بن گیاہے۔اگر نوجوان نسل کی یہ صورتحال رہی تو یہ ملک کیسے ترقی کرپائیگا۔ملک کی جملہ آبادی میں سب سے بڑی تعداد نوجوانوںکی ہے ،جبکہ نوجوانوں کا ایک بڑا حصہ سیاست سے بہت دور ہے،خصوصاً مسلمانوں میں یہ رجحان بہت کم ہے۔مسلم نوجوانوں کاتعلیم یافتہ طبقہ خالص روزی روٹی کی تلاش میں رہتا ہے اور کئی لوگ تو برسوں تک ملک سے دور رہتے ہیں،انہیں ہندوستان کے سیاسی حالات سے کوئی لینا دینا ہے اور نہ ہی انہیں یہاں کی مسلم قوم کے مسائل سے کوئی دلچسپی ہے،وہ بس اپنی زندگی اپنے لئے گذار کر ختم کردیتے ہیں،وہیں ہندوستان میں مقیم نوجوان بھی سیاست میں صرف اسی وقت دلچسپی دکھاتے ہیں جب یہاں انتخابات کا موسم آتا ہے،حالانکہ وہ امیدوار بننے کی کوشش نہیں کرتے ،البتہ امیدوار کے خاص لوگوں میں شمار ہونے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں ۔ہمارے مسلم سیاستدانوں کی فہرست بنائیں،اُس میں سے یہ جائزہ لیں کہ کتنے نوجوان ہمارے قائدین کے طور پر کام کررہے ہیں،سیاستدانوں کا لباس پہنے ہوئے یہ نوجوان قوم وملت کی رہنمائی میں کتنا بڑھ چڑھ حصہ لیتے ہیں۔آپ کو بہت کم ایسے لوگ ملے گے جو قائدین کی صف میں شمار ہونے کی کوشش کررہے ہیں۔لیکن ان نوجوانوں کیلئے بھی راہیں آسان نہیں ہیں۔وہ کوشش تو کرتے رہتے ہیں مگر ان کی کوششوں کو توڑنے کیلئے ہمارے اپنے ہی ان کے پیچھے رہتے ہیں۔ان کی مثال اُس کیکڑے کی طرح جو کسی برتن میں اپنی ہی ذات کے کیکڑے کو نیچے کرکے اپنے آپ کواوپرلانے کی کوشش کرتا ہے۔ہمیں کیکڑا بننے کے بجائے چیونٹی بننے کی کوشش کرنا چاہےے جو وقت کے مطابق کبھی سیڑھی بن جاتے ہیں تو کبھی اپنی منزل کو پانے کے سفرمیں ایک دوسرے کا ساتھ دینا بیحد ضروری سمجھتی ہیں۔ہمیں اُس بات کا ہوتا ہے کہ ہمارے ووٹوں پر کامیابی حاصل کرنے والے خود انتخابات کے بعد ہم سے دور ہوجاتے ہیں اور جو لوگ ان کے خاص کہلاواتے ہیں وہ پوری معیاد تک ان کے خاص ہی رہتے ہیں۔قائدانہ صلاحیتیں ناپیدہوتی جارہی ہیں اور ہر کوئی اپنی صلاحیتوں کو محض چمچہ گری و مفاد پرستی تک محدود کررہا ہے،ا س سے مسلمانوں کو بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑرہا ہے۔جب تک نوجوان نسل اپنی قائدانہ صلاحیتوں کو نہیں ابھارتے اس وقت تک قوم کو کامیابی نہیں مل سکتی۔ہماری ہی قوم کا مالدار طبقہ نہیں چاہتا کہ ہمارے لیڈر بن کر سامنے آئیں کیونکہ کوئی لیڈر بن جاتا ہے تو ان کے ادب واحترام کا جو سلسلہ جاری رہتا ہے وہ بکھر جاتا ہے،لوگ لیڈر کو بھی عزت دینے لگیں گے،اس سے ان کی ذات پر منفی اثرات پڑھنےلگیں گے۔آج قوم کو جو قیادت کی ضرورت ہے،اس قیادت کی کمی پورا کرنے کیلئے قائدین کو ہمارے اپنوں میں سے ہی تیار کرنے کی ضرورت ہے۔اللہ  ہماری قیادت کیلئے نہ آسمان سے فرشتوں کو بھیجے گا اور نہ ہی ہمارے لئے آسمانی فوجیں اترآئینگی۔اللہ نے ہمارے لئے دنیا کو وسیع میدان بنادیا ہے جو جہاں چاہیں اپنی کامیابی کے پرچم بلند کرسکتے ہیں۔لیکن شرط یہ ہے کہ جب قوم کے نام پر قیادت کاموقع ملتا ہے تو قوم کے ساتھ ہی رہنا پڑیگا۔کیونکہ ہمارے مرنے کے بعد ہماری ہی قوم ہمیں چار کندھوں پر سوار کرکے ہماری آخری منزل تک پہنچائیگی۔کوئی یادو،کوئی گوڈا یا کوئی برہمن یا پھر دلت ہماری زندگی کے آخری سفر کا ساتھی نہیں بن سکتا بلکہ ہماری اپنی ہی قوم ہمارے ساتھ ہوگی۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/fHYvZ

Check Also

جے این یو کے گمشدہ طالب علم نجیب کی والدہ فاطمہ نفس سمیت 35 افراد حراست میں،تاہم بعد میں رہا

Share this on WhatsApp نئی دہلی(ہرپل نیوز،ایجنسی)17۔اکتوبر۔ گزشتہ ایک سال سے لاپتہ جواہر لال نہرو …

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے