Breaking News
Home / اہم ترین / اتباعِ شریعت میں ہی تمام مسائل کا حل موجود،شریعت میں مداخلت ناقابل قبول:ڈاکٹراسمازہرہ کا بیان۔اورنگ آباد میں شریعہ کانفرنس میں35ہزار سے زائد خواتین نے کی شرکت، کانفرنس میں کئی قراردادیں منظور

اتباعِ شریعت میں ہی تمام مسائل کا حل موجود،شریعت میں مداخلت ناقابل قبول:ڈاکٹراسمازہرہ کا بیان۔اورنگ آباد میں شریعہ کانفرنس میں35ہزار سے زائد خواتین نے کی شرکت، کانفرنس میں کئی قراردادیں منظور

اورنگ آباد (ہرپل نیوز، محمد اظہر الدین ) 27فروری: اتباع شریعت ہی تمام مسائل کا حل ہے اور شریعت میں تبدیلی کی معمولی سی کو شش کو بھی قطعی برداشت نہیں کیا جائیگا اس بات کا ثبوت یہ عظیم الشان اجلاس ہے جس میں ہزاروں کی تعداد میں بنت حوّا جمع ہوئیں ہیں ان خیالات کا اظہار آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی رکن اور چیف آرگنائزر مسولہ ویمنس ونگ محترمہ ڈاکٹر اسما زہرہ نے کیا وہ جماعت اسلامی ہند کی جانب سے میری پہنچان شریعت اسلام عنوان سے منعقدہ ایک روزہ شریعہ کانفرنس سے خطاب کررہی تھیں اس موقع پر ڈاکٹر اسما زہرہ نے حکومت کی نیتا پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ پچھلے ڈھائی برسوں میں اچانک حکومت کو مسلم خواتین سے ہمدردی کیوں ہوگئی کیا صرف مسلم خواتین کے ساتھ ہی زیادتی ہورہی ہے یا حقیقیت کچھ اور ہے ، محترمہ نے آر ٹی آئی کے تحت ملک کے مختلف اضلاع سے حاصل کردہ طلاق کے اعداد وشمار کی روشنی میں واضح کیا کہ طلاق کا رجحان دیگر اقوام کی بہ نسبت مسلمانوں میں بہت کم ہے لیکن اسی کو ہوا بنایا جارہا ہے تاکہ یکساں سیول کوڈ کی راہ ہموار کی جاسکے لیکن ایسی کسی بھی کوشش کو قطعی برداشت نہیںکیا جائیگا، ڈاکٹر اسما زہرہ نے کہا کہ اسلام نے خواتین کو جو حقوق عطا کیے ہیں دیگر مذاہب اس کی برابری نہیں کرسکتے چاہے وہ ازدواجی حقوق ہو یا وراثت کا معاملہ نن نفقے کا معاملہ ہو یا دوسرے نکاح کا معاملہ شریعت اسلامی ایک مکمل بیلنس ہے اس میں مداخلت ناانصافی ہوگی، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی معزز رکن عظمہ ناہید نے بھی کانفرنس سے خطاب کیا اور کہا کہ فسطائی طاقتیں مسلم خواتین کو مظلوم اور مردو ں کو ظالم ظاہر کرکے شریعت میں مداخلت کرنا چاہتی ہے لیکن اس مذموم حرکت کو قطعی برداشت نہیں کیا جائیگا، فہیم النسا نے کانفرنس کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی اسی طرح خان مبشرہ فردوس نے اپنے کلیدی خطبے میں یہ واضح کیا کہ اسلام نے مردوں اور عورتوں کے دائرے کار کا تعین کردیا ہے اور سب کے حقوق کو واضح انداز میں بین کردیا ہے انھوں نے معاشرے میں در آئی خرابیوں کو دور کرنے خواتین کو اپنے حقوق سمجھنے نیز اس تعلق سے پھیلی بدگمانیوں کو دور کرنے کی ضرورت پر زور دیا ، اس موقع پر متفقہ طور پر ایک قرار داد پیش کی گئی جس میں یہ کہا گیا کہ حکومت مسلم پرسنل لا میں کسی طرح کی مداخلت سے پرہیز کرے، تین طلاق، تعداد ازدواج ،حلالہ ، جیسے شرعی امور میں مسلمانوں کو آزاد چھوڑ دے کیونکہ دستور ہند نے انھیں یہ آزادی عطا کی ہے ، اس کےعلاوہ ملک گیر سطح پر شراب پر پابندی کا جائزہ لینے اور پابندی کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا گیا خواتین کی آزادی کے نام پر بڑھتی فحاشی کی روک تھام عریانیت اور پیج تھری کے چلن پر روک لگائی جائے ، شریعہ کانفرنس میں تقریبا پچاس ہزار خواتین نے شرکت کی دن بھر چلی کانفرنس میں کئی امور پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی ، کانفرنس کے آخر میں میری پہنچان شریعت اسلام عنوان پر مضامین تحریر کرنے والی طالبات کو ڈاکٹر اسما زہرہ کے ہاتھوں انعامات سے نوازا گیا۔سمینار کے بعد ڈاکٹر اسما زہرہ نے میڈیا نمائندوں سے بھی بات چیت کی اس دوران محترمہ نے کہا کہ حکومت مسلمانوں کے مسائل حل کرنے کے بجائے انھیں مختلف بہانوں سے الجھانا چاہتی ہے اس لیے نان ایشوز کو ایشوز بنایا جارہاہے ، سچر کمیٹی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے ڈاکٹر اسما زہرہ نے بتایا کہ پسماندگی، تعلیم میں پچھڑا پن، کئی ایسے مسائل ہیں جن سے مسلمان ملک گیر سطح پر جوج رہے ہیں سچر کمیٹی رپورٹ نے ان کی حالت کوواضح انداز میں بیان کردیاہے لیکن حکومت اس معاملے میں سنجیدہ نہیں ہے ، حکومت اگر واقعی مسلمانوں کے تعلق سے سنجیدہ ہے تو اسے ان کے بنیادی مسائل پر توجہ دینی ہوگی۔ کانفرنس میں نظامت کے فرائض ماریہ فاطمہ نے انجام دیئے اور شاکرہ خانم نے اظہار تشکر کیا اجتماعی دعا پر کانفرنس کا اختتام عمل میں آیا۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/c7SdJ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے