Breaking News
Home / اہم ترین / اتراکھنڈ میں مسلم ملازمین کو جمعہ کی نماز کے لئے ملے ڈیڑھ گھنٹہ کے وقفہ کی بی جے پی نے کی مخالفت

اتراکھنڈ میں مسلم ملازمین کو جمعہ کی نماز کے لئے ملے ڈیڑھ گھنٹہ کے وقفہ کی بی جے پی نے کی مخالفت

دہرادون(ہرپل نیوز)19 ڈسمبر:۔ اتراکھنڈ حکومت نے اسمبلی انتخابات سے ٹھیک پہلے مسلم سرکاری ملازمین کو بڑا تحفہ دیا ہے۔ ہریش راوت حکومت نے جمعہ کی نماز کے لئے مسلم ملازمین کو 90 منٹ کا وقفہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ راوت کابینہ نے اس تجویز کو پاس کر دیا ہے۔ راوت حکومت کے اس فیصلے پر بھارتیہ جنتا پارٹی سوال اٹھا رہی ہے۔

بی جے پی نے اس پر اعتراض کرتے ہوئے اسے راوت حکومت کی مسلم اپیزمنٹ کی پالیسی قرار دیا ہے۔ بی جے پی ترجمان نلن کوہلی نے کہا کہ بہت دکھ کی بات ہے کہ مذہب کی بنیاد پر فیصلہ لیا جائے۔ یہ بہت غلط ہے۔ ہمارا ملک سیکولر ہے۔ اس قسم کی چیزیں مذہب پر مبنی ممالک میں ہو سکتی ہیں۔ یہ ووٹ کی سیاست کے لئے لیا گیا فیصلہ ہے۔ وہیں، انل بلونی نے کہا کہ ہریش جی نے جو کیا ہے وہ کانگریس کی روایت رہی ہے، وہی کر رہے ہیں۔ کہیں نہ کہیں الیکشن کو متاثر کرنے کی منشا ہے۔

حالانکہ کانگریس راوت حکومت کے ساتھ کھڑی ہے۔ کانگریس لیڈر کشور اپادھیائے نے کہا کہ یہ اچھا فیصلہ ہے، اس کا خیر مقدم کیا جانا چاہئے۔ جنہیں لگتا ہے کہ یہ انتخابی اسٹنٹ ہے وہ احتجاج درج کروائیں۔ ہمیں ہر مذہب کا احترام کرنا چاہئے۔ کانگریس اگر اچھا کرے تو انہیں تکلیف ہوتی ہے۔ کانگریس لیڈر سندیپ دکشت نے کہا کہ جمعہ کے دن زیادہ تر مسلم نماز پڑھتے ہیں، اگر وقت دے دیا جائے تو ٹھیک ہے۔ شاید کچھ دشواریاں آ رہی ہوں، اس لئے کیا ہو۔ سہولت دے رہے ہیں تو ٹھیک ہے۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/BeSYp

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے