Breaking News
Home / اہم ترین / اترپردیش میں بھی شراپ پرپابندی معاملہ: جلدبازی میں نہیں لیں گے فیصلہ، اکھلیش یادوکوروزگارمتاثرہونےکا ڈر

اترپردیش میں بھی شراپ پرپابندی معاملہ: جلدبازی میں نہیں لیں گے فیصلہ، اکھلیش یادوکوروزگارمتاثرہونےکا ڈر

وزیر اعلیٰ اکھلیش یادونے شراب کم پینے کابس مشورہ دیا،پابندی لگانے سے انکارimages (3)

/آئی این ایس انڈیا)بہار کی طرز پراتر پردیش میں بھی شراب کو سیاسی مسئلہ بنائے کے درمیان وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے آج کہا کہ لاکھوں لوگوں کی روزی روٹی سے منسلک ہونے کی وجہ سے اس معاملے پر کوئی بھی فیصلہ اتنی جلدی نہیں لیا جا سکتا۔وزیراعلیٰ نے بھدوہی میں ایک جلسے سے خطاب کرنے کے بعدنامہ نگاروں سے بات چیت میں ایک سوال پر کہا کہ شراب بندی پر کوئی بھی فیصلہ اتنی جلدی نہیں لیاجاسکتا۔انہوں نے کہاکہ شراب کے کاروبار سے بہت سے لوگ منسلک ہوتے ہیں۔ کسان منسلک ہیں،ہزاروں دکانیں ہیں اور لاکھوں لوگوں کی روزی روٹی اس سے منسلک ہے۔اس لئے اس پر کوئی بھی فیصلہ جلد بازی میں نہیں لیا جا سکتا۔ہم اب صرف اتنا کہہ سکتے ہیں کہ لوگوں کو شراب کم پینی چاہیے۔معلوم ہو کہ بہار میں مکمل شراب پرپابندی نافذ ہونے کے بعدوہاں حکمران جنتا دل یونائیٹڈ اترپردیش کے آئندہ اسمبلی انتخابات میں اسے اہم مسئلہ بنا رہی ہے۔ اس سے پہلے صبح آئی تیز آندھی اوربارش کی وجہ سے طے وقت سے تقریباََ ڈیڑھ گھنٹے دیر سے مقام اجلاس پہنچے اکھلیش نے بی ایس پی صدر سابق وزیراعلیٰ مایاوتی کو نشانے پر لیتے ہوئے کہاکہ باجی نے مجسمہ اورمیوزیم بناکرفنڈز کی بربادی کی۔انہوں نے ریاست کوبربادکردیا۔بھدوہی کو تقریباََ 413کروڑ کے 76منصوبوں کے اجراء اور سنگ بنیاد کی سوغات دینے والے اکھلیش نے کہا کہ ترقی کے معاملے میں ان کی حکومت سے کوئی بھی حکومت مقابلہ نہیں کر سکتی۔انہوں نے کہا کہ جب وہ سائیکل چلا کر مجلاپور سے بھدوہی آئے تھے تبھی طے کر لیا تھا کہ ہر ضلع ہیڈکوارٹر کو سڑکوں سے جوڑا جائے گا۔اب چار سال میں تو محض شروعات ہوئی ہے۔اکھلیش نے کہا کہ حکومت اب ایسی بندوبست کرنے جا رہی ہے کہ کوئی واقعہ ہونے پرصرف ایک فون کال پرمحض پندرہ منٹ کے اندرپولیس موقع پرپہنچ جائے گی۔حکومت اسی سال اکتوبرسے قانون نظام میں بڑی تبدیلی کرنے جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ جس طرح بیرون ملک میں پولیس کو فوری رفتار سے پہنچتے ہوئے دکھایاجاتاہے،ٹھیک اسی طرح ریاست کی پولیس بھی اب 15منٹ میں کہیں بھی پہنچے گی۔اس کے لئے گاڑیوں کا انتظام کیاجارہا ہے۔

 

The short URL of the present article is: http://harpal.in/Aahvb

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے