Breaking News
Home / اہم ترین / اجودھیا تنازعہ… از: سید منصور آغا

اجودھیا تنازعہ… از: سید منصور آغا

اس حکمت الٰہی کو کیا کہا جائے کی شاہ جہاں نے دہلی میں جامع مسجد بنوائی تواسے ایسی قبولیت حاصل ہوئی کہ کیا اہل ایمان اور کیا دولت ایمان سے تہی دست، دنیا بھر سے لوگ جوق در جوق اس کی طرف کھنچے چلے آتے ہیں۔کسی وقت کی نماز ایسی نہیں ہوتی کہ ہزاروں سر اپنے رب کے حضور سجدہ ریز نظر نہ آتے ہوں۔رمضان میں درجنوں حفاظ الگ الگ جماعتوں میں قرآن سناتے ہیں۔ 1857کے بعدانگریزوں نے اس پرقبضہ کرلیا۔ اس میں گھوڑے باندھے۔ مگرافتاد ٹلی اور اس کی میناروں سے اذان کی آواز پھرگونجی ۔ آج اسے مرکزی مسجد کی حیثیت حاصل ہے۔ خدا کی شان کہ جو اس سے وابستہ ہوگیا ہے وہ بھی عزت پاتا ہے۔ جب کہ بابر کے سپہ سالار میر باقی نے اجودھیا میں ایک مسجد تعمیر کرائی۔یہ مسجد بھی اپنے فن تعمیر کی وجہ سے یکتا تھی۔ شہرت اس نے بھی پائی، مگر غلط وجوہ سے۔ ہمارا یہ مقام نہیں کہ شاہ جہاں کو للٰہیت کی سند عطا کریں یا میر باقی کے اخلاص پر شک کریں، تاہم یہ سوال ضرور ہے کہ دونوں کی تقدیر میں یہ تضاد کیوں؟

حضور اکرم ﷺ نے ہجرت کرکے مکہ پہنچے اورمسجد بنانے کا ارادہ فرمایا ۔جس جگہ کومسجدکیلئے پسند فرمایا، پہلے یہ معلوم کیا کہ وہ کس کی ملک ہے؟ جب اس کے نابالغ مالکان اور ان کے ورثاء نے زمین ہدیہ کرنے کی پیش کش کی تو آپ ؐنے کمال احتیاط سے کا م لیا ، ہدیہ قبول نہیں فرمالیا بلکہ مروجہ شرح سے زیادہ رقم ادا کرکے اس کو خریدا اور پھر مسجد بنوائی۔چنانچہ ہمارے لئے اس گمان کی گنجائش موجود ہے کہ اجودھیا میں ’رام کوٹ ‘ کے ٹیلے پرمسجد کی جگہ کے انتخاب میں میر باقی سے چوک ہوئی اور اس احتیاط کو پیش نظرنہیں رکھا جس کی مثال نبی کریم ؐنے قائم کردی تھی۔

گمان کیا جاسکتا ہے کہ اودھ کے گورنرپر وقتی سیاسی رعب و دبدے کی مصلحت حاوی آگئی ورنہ اس پر فوری تنازعہ کھڑانہ ہوگیا ہوتا۔بابرکی حکومت ہندستان میں 1526میں قائم ہوئی۔ مسجد 1928-29 میں بنی ۔بابرکا پوتا اکبر 1556میں گدی نشین ہوا اور اس مسجدکا قضیہ اس کی عدالت میں بھی پہنچا ۔ بادشاہ نے درمیانی راہ نکالی اور مسجد کے احاطے میں، صدردروازے متصل ایک 17 فٹ چوڑا21لمبا چپوترہ تعمیر کرا دایا جس پر رام للا، سیتا جی اور لکشمن کی مورتیاں رکھ دی گئیں جن کی باضابطہ پوجاہوتی رہی۔غالباً اسی لئے اس کو ’’مسجد جنم استھان‘‘ بھی کہاجاتا تھا(بابری مسجد: سید صباح الدین عبدالرحمٰن مرحوم)۔ یہی وہ مورتیاں تھیں جن کو دسمبر1949 میں مسجد کی محراب میں رکھ دیا گیا ۔

دسمبر1949تک یہ قضیہ مقامی نوعیت کا رہا۔ لیکن تقسیم وطن کے بعد اس کی نوعیت بدل گئی اور اس کو ہندو آستھا اور عقیدہ کا مسئلہ بنادیا گیا۔ہندوعقیدے کے مطابق شری رام وشنو کے اوتارہیں اور ’تریتا یگ ‘ میں آئے جو 12لاکھ96ہزارشمسی سال پر محیط تھا۔ اس کے بعد ’دواپر‘ یگ آیا جو آٹھ لاکھ 64ہزارسال کا تھا۔ اب کل یگ چل رہا ہے جوچارلاکھ32ہزارسال پر ختم ہوگا۔گویا رام جی کا جنم کوئی 21لاکھ سال قبل ہوا تھا۔ اگرچہ ویدوں کے نزول کا زمانہ ایک کروڑ97لاکھ سال قبل تصور کیا جاتا ہے لیکن ان کی ٹیکائیں توہردورمیں لکھی جاتی رہیں اورانمیں اس طرح مدغم ہوگئیں کہ اب الگ شناخت بھی ممکن نہیں۔ یہی حال اپنشدوں کا ہے، لیکن کسی بھی قدیم ہندوگرنتھ سے اس عقیدے کی تائید نہیں ہوتی کی رام جی کا جنم اسی مقام پرہوا تھا جہاں مسجد تھی۔ لیکن یہ بحث لاحاصل ہے۔ ہمیں تواتنا معلوم ہے کہ خودہمارے دورکی کسی ممتازشخصیت کے بارے میں متعین طریقہ یہ نہیں بتایا جاسکتا کہ اس کی ولادت چارفٹ مربع کے کس مقام پرہوئی، جیسا کہ دعوی کیا جارہاہے کہ رام جی عین اس جگہ پیداہوئے تھے، جہاں مسجد کی محراب تھی، گوکہ ان کی ولادت قبل تاریخ دور کی ہے اورگاندھی جی نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ وہ کوئی تاریخی ہستی نہیں تھے۔ لیکن عقیدہ تو بس عقیدہ ہوتا ہے اوراس کو پروان چڑھاکرسیاسی حربہ بنادیا گیا ہے۔

اس عقیدے کو پروان چڑھانے کا سیاسی عمل آزادی کے فوراً بعد ہی اس وقت شروع ہو گیا تھا جب 22 اور23دسمبر1948کی رات میں چبوترے سے اٹھاکر مورتیاں مسجد کی محراب میں رکھ دی گئیں اور6دسمبر1992کو اس وقت شباب پر پہنچا جب آڈوانی جی، اشوک سنگھل اوردیگرسنگھی لیڈروں کی پکار پر لاکھوں قانون شکن اجودھیا میں جمع ہوگئے اورا ن لیڈروں کی موجودگی میں ایک قدیم عبادت گاہ کو مسمار کردیا گیا اورپھرسرکارکی نگرانی میں اس کے ملبہ پر عارضی ہی سہی، مندربنادیا گیا۔اس دوران کس کس کا کیارول رہا؟ یہ بتانے کی ضرورت نہیں۔ جب مورتیاں رکھی گئیں تب بھی کانگریس کی سرکارتھی۔ جب تالا کھلا تب بھی، جب شیلانیاس ہوا تب اورجب مسجدگرائی گئی تب بھی سرکار کانگریس کی ہی تھی۔ یہ بات بھی روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اس کو قومی مسئلہ بنانے اور اس سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی شاطرانہ چال کا سنگھ پریوار کا حربہ دراصل سیاست کے کھیل میں کانگریس کے نہلے پر دہلے کا حکم رکھتا ہے۔

لبراہن کمیشن نے اپنی رپورٹ میں فاسد ہندوقوم پرستی کے فروغ میں عبوری وزیر اعظم گلزاری لال نندا کا توذکرکیا ، لیکن باقی کو چھوڑدیا۔ان میں سے کئی نام ذہن میں آج بھی تازہ ہیں۔ مثلاً جدید ذہن کے حامل وزیر اعظم راجیو گاندھی( جن کو سبرامنیم سوامی نے اصل ہندووزیراعظم قرارددیا ہے) ان کے وزیر داخلہ سردار بوٹا سنگھ اور وزیر مملکت برائے داخلی سلامتی ارون نہروجن کے ورغلانے پر مسجد کا تالا کھلواکر باضابطہ مندر میں تبدیل کرادیا اور پھر دھوم دھام سے الیکشن سے چندروزقبل شیلانیاس کرادیا اورراجیو نے اپنی انتخابی مہم کا آغاز بھی اجودھیا سے ’رام راجیہ‘ کے قیام کے وعدے کے ساتھ کیا۔

راجیو گاندھی گو کہ سیاسی گھرانے میں پیدا ہوئے تھے، مگر ان کو سیاست سے دلچسپی نہیں تھی۔ 1980ء میں چھوٹے بھائی سنجے گاندھی کی ہوائی حادثہ میں موت کے بعد ان کوسیاست میں لایا گیا اور صرف چار سال بعد1984ء میں محترمہ اندرا گاندھی کے قتل کے بعدوزیر اعظم بنادیا گیا۔ یہ اتفاقات سیاسی تجربہ کا بدل نہیں ہوتے۔ وہ مشیروں پرمنحصررہے۔تالا کھلوانے سے پہلے سرکاری دوردرشن پر ایک سال تک ’رامائن سیریل‘ کی نمائش ہوئی جس کی بدولت ذہنوں میں شری رام کی عظمت کے نقوش خوب نکھرگئے اس کے بعد تالا کھلوانا ، شیلانیاس کرانا اور ’رام راجیہ‘ کا بھولا بسرا سبق یاد دلانا وغیرہ روشن خیالی اورترقی پذیری کے منافی سیاسی حکمت عملی تھی جس کیلئے ان کے کوتاہ نظراورسیکولرزم سے بے خبر مشیرکم ذمہ دار نہیں تھے۔یہ سب محض اتفاقات نہیں تھے بلکہ ہندوؤں کے مذہبی جذبات کو ابھارکر ان سے انتخابی فائدہ اٹھانے کی منظم کوشش تھی۔ اسی کے بعد ہندواکثریت پرستی کے تحریک کو پرلگ گئے اورآندھی میں کانگریس خودبھی بہہ گئی۔جوماحول کانگریس نے بنایا تھا آڈوانی اوروی ایچ پی نے اسے چرالیا۔

بابری مسجد کی آراضی کی ملکیت پر تنازعہ بھی نیانہیں۔ جنوری 1885میں ایک ہندومہنت رگھوبر داس نے فیض آباد کے سب جج کی عدالت میں ایک عرضی گزاری کہ مسجدجس مقام پربنی ہے وہ رام جنم بھومی ہے۔ وہاں رام مندربنانے کی اجازت دی جائے مگرجج پنڈت ہری کرشن نے اس کو خارج کردیا۔ دسمبر 1949میں مسجد میں مورتیا ں رکھ دئے جانے کے بعد دوطرفہ کیس دائر ہوئے ۔ سپریم کورٹ میں یہ انہی مقدموں کی اپیل ہے جو 69سال سے جاری ہیں، جن کوانتہائی حساس اورجذبات سے وابستہ قراردیتے ہوئے چیف جسٹس جے ایس کھہرنے 21مارچ کو مشورہ دیا ہے کہ فریقین باہمی بات چیت سے تنازعہ کو حل کرلیں اوریہ کہ وہ خود ثالثی کیلئے آمادہ ہیں۔اس تجویز پر بحث چھڑ گئی ہے۔

بیشک اصولی بات یہ ہے کہ عدالت کو آراضی کی ملکیت پر فیصلہ دینا چاہئے اور سرکار کو اس فیصلہ کو نافذ بھی کرنا چاہئے۔ لیکن ایسی نظیریں موجود ہیں کہ حساس معاملات میں عدالتی فیصلوں کا نفاذ نہیں ہوپاتا۔ اس تنازعہ کے باب میں یہ بات روز روشن کی طرح صاف نظرآتی ہے کی اگرفیصلہ مسلم فریق کیخلاف ہوا تو وہ تو گھربیٹھ جائیں گے لیکن اگرخلاف گیا تو پورے ملک میں قتل وغارت کا جو طوفان اٹھ سکتا ہے،وہ مابعد مسجد انہدام 1992 اورگجرات 2002سے زیادہ بھیانک ہوگا۔ ہمارا جواب بیشک اس اندیشہ کو ذہن میں رکھ کر ہونا چاہئے۔ اصول پراڑنے سے زیادہ دور اندیشانہ سیاسی حکمت عملی وقت کا تقاضا ہے۔ہمارے موقف میں یہ لحاظ رکھا جانا چاہئے کہ غیرجانبدار ہندستانیوں کی ہمدردی ہمیں حاصل ہو اورسپریم کورٹ میں بھی خیرسگالی پیداہو۔چیف جسٹس کی پیش کش کو پریس کانفرنس میں مستردکردینا نہایت غیرموزوں اورغیرحکیمانہ ہے۔

اس طرح کی ایک باضابطہ تجویز جون 2003میں کانچی کی شنکرآچاریہ کی طرف سے آئی تھی جس میں یہ پیش کش تھی کہ اگراجودھیا کی آراضی مندرکیلئے دان کردی جائے تومحکمہ آثار قدیمہ کے تحت بند پڑی ایک ہزار سے زیادہ مسجدوں کو نماز کیلئے کھو ل دیا جائیگا۔ مسلم نوجوانوں کوسرکاری ملازمتوں میں9؍ فیصد ریزرویشن دیدیا جائے گا۔ کاشی اور متھرا کی عبادت گاہوں پر سے مطالبہ ہٹا لیا جائے۔اس وقت یہ یقین کرنے کی وجوہات موجود تھی کہ اس پیش کش کوباجپئی حکومت کی حمایت حاصل تھی۔دو صفحات پر مشتمل یہ تجاویز 21؍جون کو مسلم پرسنل بورڈ کو ملی تھیں،لیکن ان کونہ تو مسلم فریق نے قبول کیا اور نہ وی ایچ پی نے ۔( ہندستان ٹائمز ۲۲؍ جون2003)

اس وقت ماحول یہ ہے کہ جس طرح اپوزیشن کی عیارانہ تائید سے’اینمی پراپرٹی ایکٹ‘ منظور ہوگیا، راجیہ سبھا میں اس کی مخالفت کرنے کے بجائے اپوزیشن نے واک آؤٹ کیا اسی طرح ’رام مندر ‘ کے لئے بھی قانون پاس کرایا جاسکتا ہے۔جمع خاطررکھئے کوئی اپوزیشن پارٹی اس کی مخالفت نہیں کریگی۔ غورکیجئے کہ اس وقت کیا صورت ہوگی؟ ہمارے لئے جینا کتنا دشوار ہوگا؟

یہ بھی غورکیجئے، اگرمندربنا تو اس پر رات دن جو دولت برسے گی، وہ کن ہاتھوں میں جائے گی، اور اس کا استعمال کس مقصدکے لئے ہوگا؟اس کا تجزیہ کرتے ہوئے میں نے روزنامہ قومی آواز میں ایک طویل مضمون (28-27جون 2003)میں یہ عرض کیا تھا:اگرمسلم فریق شنکرآچاریہ کی تجویز کو اس شرط کے ساتھ قبول کرلے کہ مندر کی تعمیر اور انتظام حکومت اپنے ہاتھ میں لے اور وی ایچ پی کو اس سے بے دخل کیا جائے تو وی ایچ پی کو بے نقا ب کرنے اورفرقہ پرستی کے ناگ کو کچلنے میں بڑی مدد مل سکتی ہے۔ وی ایچ پی اگر اس کے باوجود خودمندرتعمیر کرنے کے اصرار پر قائم رہتی ہے توعوام کو یہ بات سمجھنے میں دیر نہیں لگے گی کہُ اس کا مقصد رام مندر نہیں، کچھ اور ہے۔ اگرچہ خیال یہ ہے کہ کسی سمجھوتے کیلئے تمام فریقوں کا رضامند ہونا ضروری ہے ، مگر ہمیں یہ بات نہیں بھولنی چاہئے کہ اصل فریق کوئی تنظیم نہیں بلکہ پوری قوم ہے۔ ہمارے موقف کو چاہے وی ایچ پی مسترد کردے مگروہ ان اعتدال پسند مذہبی ہندوؤں کے دل میں اتر جانی چاہئے جن کوورغلا کر فرقہ پرست عناصر طاقت حاصل کرتے ہیں۔ عوام کو شری رام سے عقیدت ہے اور ان کورام کے نام پر ایک مندر کی تعمیر میں دلچسپی ہوگئی ہے لیکن اس بات سے ہر گز نہیں کہ یہ مندر وی ایچ پی ہی تعمیر کرے۔جس طرح ہزاروں مساجد پر قبضہ مخالفانہ انگیز ہے، اسی طرح اس ایک اور مسجد کے ملبے پر بھی کر لیا جائے تو ملک کی فرقہ ورانہ فضا کو بدلنے میں بڑی مدد ملے گی۔‘‘لیکن افسوس یہ صداسنی نہیں گئی۔ اورکیوں سنی جاتی!اپنی اپنی قیادت کا مسئلہ جو ہے۔ اب وہ قائد نہیں رہے جو قوم کو ساتھ لیکر چلیں۔ اب وہ ہیں جو قو م کے جذبات بھڑکاتے ہیں اورپھرجذبات میں بہتی قوم کے آگے آگے چلتے ہیں۔اگرآثارقدیمہ کے تحت بندہماری کوئی ایک ہزارمساجد کھل جاتیں، تو اللہ کے یہاں کسی کی پکڑ نہیں ہوتی۔ رہا اجودھیا میں بدلہ میں مسجد تو کہہ دیجئے اگراصل جگہ نہیں تو نہ کوسی کے اس پار اورنہ اس پار ہمیں مسجد نہیں درکار۔

نوٹ: مضمون نگارکی اپنی ذاتی رائے ہے اس سے اداریے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے 

The short URL of the present article is: http://harpal.in/2B01w

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے