یادرہے کہ مصر کے مرحوم اٹارنی جنرل ہشام برکات نے فروری 2014ء میں ان تمام افراد کے خلاف مقدمہ سماعت کے لیے جیزہ کی فوجداری عدالت کو بھیجا تھا اور اس نے محمد بدیع سمیت چودہ افراد کو پھانسی اور سینتیس کو عمرقید کی سزا کا حکم دیا تھا۔انھوں نے اس سزا کے خلاف اپیل عدالت میں درخواست دائر کی تھی اور اس نے ان کے خلاف دوبارہ مقدمہ چلانے کا حکم دیا تھا۔

استغاثہ نے ملزمان پر متعدد الزامات عاید کیے تھے۔ان پر قانون شکنی کے مرتکب گروپ کی تشکیل اور اس کی قیادت ،ملک میں افراتفری پھیلانے کی سازش میں شرکت ،صدر ،وزیر دفاع اور متعدد ججوں کو گرفتار کرنے ، پولیس کی تنصیبات اور سرکاری اداروں میں دراندازی اور گرجا گھروں پر حملوں پر اکسانے ، انٹرنیٹ اور سیٹلائٹ چینلز کے ذریعے ملک کی داخلی صورت حال کے بارے میں جعلی خبریں اور ڈیٹا نشر کرنے اور مجاز حکام سے اجازت کے بغیر نشریاتی آلات حاصل کرنے سمیت مختلف الزامات میں فردِ جُرم عاید کی گئی تھی۔