Breaking News
Home / اہم ترین / اسٹریلیائی گیند بازوں کے سامنے ہندوستانی بلے بازوں نے ٹیکے گھٹنے،ہندوستان کی 333رن سے شرمناک شکست

اسٹریلیائی گیند بازوں کے سامنے ہندوستانی بلے بازوں نے ٹیکے گھٹنے،ہندوستان کی 333رن سے شرمناک شکست

پونے(ایجنسی)25فروری:۔ کپتان اسٹیون اسمتھ (109) کی بہترین سنچری کے بعد لیفٹ آرم اسپنر اسٹیو او کیفے نے خطرناک گیندبازی کرتے ہوئے کُل 12 وکٹ لے کر اپنے دم پر ہندوستانی بلے بازوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا۔ کیفے نے پہلی اننگز میں چھ وکٹ لینے کے بعد دوسری اننگز میں بھی چھ وکٹ حاصل کرکے آسٹریلیا کو پہلے کرکٹ ٹیسٹ کے تیسرے دن ہی ہفتہ کو 333 رنز سے جیت دلا ئی۔ آسٹریلیا نے اس کے ساتھ ہی چار ٹسٹ میچوں کی سیریز میں ایک ۔صفر سے برتری حاصل کرلی۔ ہندوستانی ٹیم نے دونوں ہی اننگز میں ناقص کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ ہندوستان کی پہلی اننگز 105 اور دوسری اننگز 107 رن پر سمٹ گئی۔ اس شکست کے ساتھ ہی کپتان وراٹ کوہلی کا 19 ٹسٹ میچوں سے ناقابل تسخیر برتری کا سلسلہ بھی ختم ہوگیا۔ آسٹریلیا نے ہندوستان کے سامنے جیت کے لیے 441 رن کا ہدف دیا تھا اور ہندوستانی بلے بازوں نے لیفٹ آرم اسپنر او کیفے اور آف اسپنر ناتھن لیون کے سامنے 33.5 اوور میں 107 رن پر گھٹنے ٹیک دیے۔ كيفے نے 15 اوور میں 35 رن پر چھ وکٹ لے کر میچ میں کل 12 وکٹ حاصل کئے جبکہ لیون نے 14.5 اوور میں 53 رن پر چار وکٹ حاصل کئے۔ لیون نے میچ میں کل پانچ وکٹ لئے۔

کیفے نے پہلی اننگز میں 35 رن پر چھ وکٹ اور دوسری اننگز میں بھی 35 رن پر چھ وکٹ لئے۔انہوں نے 70 رن پر 12 وکٹ لے کر ہندوستانی سر زمین پر کسی غیر ملکی اسپنر کی بہترین کارکردگی کا اعزاز بھی حاصل کیا۔ کیفے کی یہ کارکردگی ہندوستانی سر زمین پر کسی غیر ملکی گیندباز کی دوسری بہترین کارکردگی ہے۔ انگلینڈ کے ایان باتھم نے 1980 میں ممبئی میں 106 رنز پر 13 وکٹ لئے تھے۔ 32 سالہ كيفے نے اس سے پہلے چار ٹسٹ میچوں میں کل 14 وکٹ حاصل کئے تھے۔ ان کا ایک اننگز میں بہترین کارکردگی 53 رن پر تین وکٹ اور میچ میں بہترین کارکردگی 103 رن پر چار وکٹ تھا لیکن ہندوستان کے خلاف انہوں نے ایک میچ میں ہی 12 وکٹ جھٹک لئے۔ ہندوستان کے پاس روی چندرن اشون اور رویندر جڈیجہ کے طور پر موجودہ ٹیسٹ رینکنگ میں نمبر ایک اور نمبر دوگیندباز تھے لیکن میچ کے اصل ہیرو کیفے رہے۔ انہوں نے دوسری اننگز میں ہندوستان کے چار بلے بازوں کو ایل بی ڈبلیو کیا۔کیفے نے مرلی وجے (دو)، چتیشور پجارا (31)، کپتان وراٹ کوہلی (13)، اجنکیا رہانے (18)، اشون (آٹھ)، اور ردھمان ساہا (پانچ) کو اپنا شکار بنایا۔

آف اسپنر لیون نے لوکیش راہل (10)، رویندر جڈیجہ (تین)، جینت یادو (پانچ) اور ایشانت شرما (صفر) کو آؤٹ کرکے اپنی ٹیم کی جیت میں اہم تعاون دیا۔ہندوستانی ٹیم نے پہلی اننگز میں جہاں 40.1 اوور کھیلے تھے وہیں دوسری اننگز میں وہ صرف 33.5 اوور کا ہی سامنا کرسکی اور میچ کے تیسرے دن چائے کے وقفہ کے کچھ دیر بعد ہی سمٹ گئی۔ جو ہندوستانی ٹیم اس سے پہلے گھریلو سیریز کے میچوں میں حریف ٹیموں کو تین دن میں شکست دے رہی تھی لیکن اسی ٹیم کو کنگاروووں نے تین دن کے اندر ہی اپنا شکار بنا لیا جس آسٹریلیائی ٹیم کو ہندوستان آنے والی سب سے کمزور ٹیم بتایا جا رہا تھا اسی ٹیم نے ہندوستانی کھلاڑیوں کا ایسا شکار کیا کہ ٹیم انڈیا کے حامی بھی حیرت زدہ ہو گئے۔ میچ کے بعد لیون کے اس بیان نے دکھایا کہ آسٹریلیائی ٹیم نے ہندوستان کے دورے کے لیے کس قدر تیاری کی تھی۔ لیون نے میچ ختم ہونے کے بعد کہا "ہم نے جو منصوبہ بنایا تھا اس پر ہم نے پوری طرح عمل کیا۔ ہم نے اشون کی گیند بازی کو کافی دیکھا تھا اور وہی دوبارہ کرنے کی کوشش کی جو اشون ان حالات میں کرتے ہیں۔ اگر میرا بس چلے تو میں ایسی پچ کو ہر جگہ لے جانا چاہوں گا۔ "

آسٹریلیا کے کوچ ڈیرن لہمن نے بھی کہا "زبردست جیت۔ میں اپنی ٹیم کی بلے بازی سے بہت متاثر ہوں۔ پچ دونوں ٹیموں کے لیے کافی چیلنجنگ تھی۔ ہم نے سری لنکا میں کچھ سبق سیکھا تھا ۔ ہم نے اچھے ڈیفنس کو لے بات کی تھی اور تمام موقعوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جیت حاصل کی۔ " آسٹریلیا کی رنز کے اعتبار سے ہندوستان کے خلاف یہ تیسری سب سے بڑی جیت ہے۔ اس نے 2004 میں ہندوستان کو ناگپور میں 342 رنز سے اور 2007 میں میلبورن میں 337 رنز سے شکست دی تھی۔ آسٹریلیا نے صبح چار وکٹ پر 143 رنز سے آگے کھیلتے ہوئے دوسری اننگز میں 285 رنز بنائے اور ہندوستان کو جیت کے لئے 441 رنز کا ہدف دیا۔ہندوستان کی ایک بار پھر خراب شروعات رہی اور مرلی وجے کو پانچویں اوور میں گنوانے کے بعد ٹیم انڈیا پٹری پر واپس نہیں لوٹ سکی۔ کیفے نے وجے کو اپنا شکاربنایا اور اس کے بعد ہندوستانی بلے بازوں کا وکٹ گرنے کا سلسلہ شروع ہوگیا۔

ہندوستان کی ناقص کارکردگی دوسری اننگز میں بھی جاری رہی اور ٹیم نے پہلی اننگز میں تین وکٹ 44 رن تک گنوائے تھے اور پھر آخری سات وکٹ 11 رن جوڑ کر گنوا دیے تھے۔ دوسری اننگز میں ہندوستان کے پہلے تین وکٹ 47 رن تک گرے اور باقی سات وکٹ 30 رن جوڑ کر گر گئے۔ ہندوستانی بلے بازوں نے پہلی اننگز کی غلطیوں سے کوئی سبق نہیں لیا اور دوسری اننگز میں بھی وہی غلطیاں دہرائی۔ كيفے کو ان کے شاندار 12 وکٹوں کے لئے مین آف دی میچ دیا گیا ۔ کوچ انیل کمبلے نے دوسرے دن کے کھیل میں ہندوستانی اننگز کا 105 رن پر سمٹنے کے بعد کہا تھا کہ یہ ایک خراب دن تھا اور مسلسل اچھا کھیل رہی کسی بھی ٹیم کے ساتھ ایسا ہوسکتا تھا۔ لیکن شاید کمبلے یہ نہیں جانتے تھے کہ ہندوستانی بلے باز مسلسل دوسرا دن بھی خود اپنے لئے خراب کر لیں گے۔ دوسری اننگز میں امید تھی کہ ہندوستانی بلے باز کچھ جدوجہد کریں گے لیکن ایسا نہیں ہوا۔ پجارا نے یکطرفہ جدوجہد کرتے ہوئے 58 گیندوں میں دو چوکوں کی مدد سے 31 رنز کی اننگز کھیلی۔ پجارا چائے کے وقفہ کے بعد آؤٹ ہوئے اور ہندوستانی ٹیم چائے کے وقفہ کے چھ وکٹ پر 99 رن کے اسکور سے 107 رن پرسمٹ گئی ۔ ہندوستان کی دوسری اننگز لنچ کے بعد شروع ہوئی تھی اور چائے کے وقفہ کے کچھ دیر بعد ختم ہو گئی۔ ہندوستانی بلے باز دو گھنٹے سے کچھ ہی زیادہ وقت ٹک پائے۔کپتان وراٹ نے خاص طور سے مایوس کیا اور 37 گیندوں میں 13 رن میں ایک چوکا لگایا۔ رہانے نے 21 گیندوں پر 18 رن میں تین چوکے لگائے۔ راہل نے نو گیندوں پر 10 رنز بنائے۔ اس سے پہلے اسٹیون اسمتھ (109) نے ہندوستان کے خلاف اپنی پانچویں سنچری بنائی۔ جس کے دم پر آسٹریلیا کی دوسری اننگز 285 تک پہنچی۔ آسٹریلیا کو پہلی اننگز میں 155 رنز کی برتری حاصل تھی۔ اسمتھ نے 202 گیندوں کی اننگز میں 11 چوکے لگائے۔ 27 سالہ اسمتھ کی یہ 18 ویں ٹیسٹ سنچری ہے۔

آسٹریلیائی ٹیم نے صبح اپنی دوسری اننگز کو کل کے چار وکٹ پر 143 رن سے آگے بڑھایا۔ اسمتھ نے 59 اور مشل مارش نے 21 رنز سے آگے کھیلنا شروع کیا۔ دونوں بلے بازوں نے پانچویں وکٹ کے لئے 56 رن کی ساجھےداری کی۔ دنیا کے نمبر ایک ٹیسٹ بلے باز اسمتھ کی سنچری ٹیم کے لئے سب سے اہم ثابت ہوئی جنہوں نے ٹیم کے پانچ دیگر بلے بازوں کے ساتھ چھوٹی چھوٹی شراکت کی بدولت ہندوستان کے سامنے بڑا ہدف رکھا۔ ہندوستان کو صبح 26 رن کے بعد اپنی پہلی کامیابی مل گئی جب جڈیجہ نے مشیل کو وکٹ کیپر ساہا کے ہاتھوں کیچ کرایا۔ آسٹریلیا کا پانچواں وکٹ 169 کے اسکور پر گرا۔ مشیل نے 76 گیندوں کی اننگز میں چار چوکے اور ایک چھکا لگا کر 31 رنز بنائے۔ میتھیو ویڈ نے 42 گیندوں میں دو چوکے لگا کر 20 رنز بنائے اور چھٹے وکٹ کے لئے ایک سرے پر ٹک کر اسمتھ کے ساتھ 35 رن جوڑے۔ ویڈ کو امیش نے ساہا کے ہاتھوں ہی کیچ کرایا اور آسٹریلیا کو چھٹا جھٹکا دیا۔

مشیل اسٹارک نے 31 گیندوں میں دو چوکے اور تین زبردست چھکے لگا کر 30 رنز بنائے۔اسٹارک نے پہلی اننگز میں بہترین 61 رنز بنائے تھے۔اسٹارک اور اسمتھ نے ساتویں وکٹ کے لیے 42 رنز کی ذمہ دارانہ شراکت ادا کی اور اسکور کو 246 تک لے گئے۔جڈیجہ نے اسمتھ کو پھر ساتویں بلے باز کے طور پر آؤٹ کرکے دن کا سب سے اہم وکٹ حاصل کیا۔ جڈیجہ کی ایک فلیٹ گیند پرا سمتھ ایل بی ڈبلیو ہو گئے۔ اس فیصلے پر ریویو بھی ہوا لیکن سمتھ کو آؤٹ دیا گیا اور ان کی سنچری اننگز ختم ہو گئی۔ تقریباً تین اوور بعد ہی اسٹارک کو اشون نے لوکیش راہل کے ہاتھوں کیچ کرایا۔ اس کے بعد لیون (13) کو امیش نے ایل بی ڈبلیو کیا اور آسٹریلیا کا نو وکٹ حاصل کیا ۔کیفے نے 42 گیندوں میں ایک چوکا لگا کر چھ رنز بنائے۔ ان کا وکٹ جڈیجہ نے لیا اور انہیں ساہا کے ہاتھوں کیچ کراکر آسٹریلیائی اننگز کو 285 رن پر ختم کیا۔ آسٹریلیا کی دوسری اننگز میں اشون نے 119 رن دے کر چار وکٹ، جڈیجہ نے 65 رنز دے کر تین وکٹ، امیش نے 39 رنز دے کر دو وکٹ اور جینت نے 43 رن دے کر ایک وکٹ لیا۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/cQmQO

Check Also

جے این یو کے گمشدہ طالب علم نجیب کی والدہ فاطمہ نفس سمیت 35 افراد حراست میں،تاہم بعد میں رہا

Share this on WhatsApp نئی دہلی(ہرپل نیوز،ایجنسی)17۔اکتوبر۔ گزشتہ ایک سال سے لاپتہ جواہر لال نہرو …

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے