Breaking News
Home / اہم ترین / اعلیٰ کمان کو رقم ادا کرنے کا الزام من گھڑت: وزیر اعلی سدرامیا،یڈیورپا پر برہم۔ صیغۂ واحد میں کیامخاطب

اعلیٰ کمان کو رقم ادا کرنے کا الزام من گھڑت: وزیر اعلی سدرامیا،یڈیورپا پر برہم۔ صیغۂ واحد میں کیامخاطب

بنگلورو(ہرپل نیوز)23؍فروری:کانگریس اعلیٰ کمان کو ایک ہزار کروڑ روپے ادا کرنے کے متعلق سابق وزیراعلیٰ اور ریاستی بی جے پی صدر بی ایس یڈیورپا کے الزام پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سدرامیا نے انہیں صیغۂ واحد میں مخاطب کیا اور چیلنج کیا کہ وہ اس الزام کو ثابت کریں تو وہ فوراً وزیر اعلیٰ کی کرسی سے استعفیٰ دے دیں گے۔آج اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے سدرامیا نے کہاکہ یڈیورپا نے انتہائی غیر ذمہ داری سے الزام لگایا ہے۔ صیغۂ واحد میں مخاطب کرتے ہوئے سدرامیا نے کہاکہ یہ شخص ہمیشہ سے اسی طرح کے بے بنیاد الزام لگانے کا عادی ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہاکہ یڈیورپا نے ان پر اعلیٰ کمان کو رقم دینے کا الزام لگایا ہے تو اس الزام کو ثابت کرنے کی ذمہ داری بھی یڈیورپا کی ہی ہے۔ یڈیورپا کو چاہئے کہ اس کی تائید میں جو بھی ثبوت ان کے پاس موجود ہیں منظر عام پر لائیں وہ کسی بھی سطح کی جانچ کا سامنا کرنے تیار ہیں۔ اگر یڈیورپا نے الزام ثابت کردیا تو وہ فوری طور پر عہدۂ وزیراعلیٰ کے عہدہ سے مستعفی ہوجانے تیار ہیں، لیکن یڈیورپا نے اگر الزام ثابت نہیں کیا تو انہیں سرگرم ساست سے سنیاس لینا ہوگا۔ اس دوران کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی صدر ڈاکٹر جی پرمیشور نے بھی وزیراعلیٰ سدرامیا پر یڈیورپا کے غیر ذمہ دارانہ الزامات کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہاکہ ریاست میں وزیراعلیٰ کے عہدہ پر رہ چکے یڈیورپا کو اپنے مقام اور مرتبے کا لحاظ کرنا چاہئے تھا۔ انہوں نے کہاکہ سدرامیا کے خلاف اگر یڈیورپا کے پاس واقعی ثبوت موجود ہیں تو ان ثبوت کو منظر عام پر لائیں یا پھر اس طرح کے بے بنیاد الزامات لگانابند کریں۔ ڈاکٹر پرمیشور نے کہا کہ ریاستی حکومت کی مقبولیت سے خوفزدہ ہوکر بی جے پی قائدین اس طرح نچلی حرکتوں پر اتر آئے ہیں۔کانگریس اس کے خلاف احتجاج کرے گی اور ان حرکتوں کاموثر جواب دیا جائے گا۔اس دوران کے پی سی سی کی طرف سے کل شہر میں بی جے پی کے خلاف ستیہ میو جیاتے تحریک چلانے کا اعلان کیاگیا، اس سلسلے میں ایک بہت بڑا احتجاجی جلسۂ عام منعقد کیا گیا ہے۔ جس میں پارٹی کے سبھی سینئر قائدین شریک رہیں گے۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/Tm5jQ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے