Breaking News
Home / اہم ترین / اقوام متحدہ میں مقبوضہ بیت المقدس سے متعلق امریکی فیصلہ کے خلاف قرارداد منظور۔ ٹرمپ کی دھمکی صدا بصحراء۔ قرارداد منظور ہونے پر اسرائیل چراغ پا، اقوام متحدہ کو بتایا جھوٹ کا گڑھ۔ ہندوستان نے بھی امریکہ کے فیصلے کے خلاف دیا ووٹ

اقوام متحدہ میں مقبوضہ بیت المقدس سے متعلق امریکی فیصلہ کے خلاف قرارداد منظور۔ ٹرمپ کی دھمکی صدا بصحراء۔ قرارداد منظور ہونے پر اسرائیل چراغ پا، اقوام متحدہ کو بتایا جھوٹ کا گڑھ۔ ہندوستان نے بھی امریکہ کے فیصلے کے خلاف دیا ووٹ

نیویارک (ایجنسی)22ڈسمبر۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کیے جانے کے فیصلے کے خلاف قرارداد بھاری اکثریت سے منظور کر لی گئی۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں 193 ممبران ممالک نے مقبوضہ بیت المقدس سے متعلق امریکا کے متنازع فیصلے پر ووٹ ڈالے۔ ترکی اور یمن کی جانب سے پیش کی جانے والی قرارداد کے حق میں 128 ووٹ ڈالے گئے جب کہ 9 ممالک نے اس کی مخالفت کی اور 35 ممالک نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس امریکی شہر نیویارک میں واقع ہیڈ کوارٹر میں منعقد ہوا جس میں امریکا کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا معاملہ زیر بحث آیا۔قبل ازیں 18 دسمبر کو سلامتی کونسل میں مقبوضہ بیت المقدس سے متعلق متنازع امریکی فیصلہ مسترد کرنے کی درخواست امریکہ نے ویٹو کردی تھی۔

خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے امریکی فیصلے کے خلاف پیش کی جانے والی قرارداد کی حمایت کرنے والے ممالک کی مالی امداد روک لی جائے گی۔ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکی فیصلے کی مخالفت کرنے والے ہم سے لاکھوں ڈالر اور یہاں تک کہ اربوں ڈالر لیتے ہیں اور اس کے بعد بھی ہمارے خلاف ووٹ دیتے ہیں، ہم اس ووٹنگ کو دیکھ رہے ہیں، اگر ہمارے خلاف ووٹ دیا گیا تو اس کی کوئی پروا نہیں ہم بہت سے پیسے بچا لیں گے۔قابل ذکر ہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے 6 دسمبر کو مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے اور امریکی سفارتخانہ وہاں منتقل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ امریکی صدر کے اس اعلان پر نہ صرف مسلم ممالک میں شدید ردعمل دیکھنے میں آیا بلکہ یورپی اور مغربی ممالک میں بھی اس فیصلے کے خلاف مظاہرے دیکھنے میں آئے۔ٹرمپ کے فیصلے کے خلاف اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کا ہنگامی اجلاس ترکی میں ہوا جس میں امریکی صدر کے فیصلے کی شدید مذمت کی گئی اور ڈونلڈ ٹرمپ سے فیصلہ فی الفور واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا۔

 امریکی فیصلہ کے خلاف قرارداد منظور ہونے پر اسرائیل چراغ پا ، اقوام متحدہ کو بتایا جھوٹ کا گڑھ:  اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں مقبوضہ بیت المقدس سے متعلق امریکی صدر کے اعلان کے خلاف پیش کی جانے والی قرارداد کے منظور ہونے سے اسرائیل بوکھلاگیا ہے۔ وزیراعظم نتن یاہو نے رائے شماری کے نتائج کو مسترد کرتے ہوئے اسے ’جھوٹ کا گڑھ‘ قرار دیا۔انھوں نے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل یروشلم کے حوالے سے امریکہ کی واضح پوزیشن پر صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا شکریہ ادا کرتا ہے، اور ان ممالک کا بھی جنھوں نے اسرائیل  کےحق میں ووٹ دیا۔

خیال رہے کہ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے وہ قرارداد منظور کرلی ہے جس میں امریکہ سے کہا گیا ہے کہ وہ مقبوضہ بیت المقدس یا مشرقی یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان واپس لے۔ قرارداد کے حق میں 128 ممالک نے ووٹ دیئے جن میں ہندستان بھی شامل ہے۔ 35 نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا جبکہ 9 نے اس قرارداد کی مخالفت کی۔

امریکہ کے فیصلے کے خلاف ہندوستان نے   دیا ووٹ: اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے وہ قرارداد منظور کرلی ہے جس میں امریکہ سے کہا گیا ہے کہ وہ مقبوضہ بیت المقدس یا مشرقی یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان واپس لے۔ قرارداد کے حق میں 128 ممالک نے ووٹ دیئے جن میں ہندستان بھی شامل ہے۔ 35 نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا جبکہ 9 نے اس قرارداد کی مخالفت کی۔قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ شہر کی حیثیت کے بارے میں فیصلہ ’باطل اور کالعدم‘ ہے اس لیے منسوخ کیا جائے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ مذکورہ قرارداد کے حق میں رائے دینے والوں کی مالی امداد بند کر دی جائے گی۔ مسٹر ٹرمپ نے وہائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے کہاتھا کہ ’’وہ ہم سے اربوں ڈالر کی مدد لیتے ہیں اور پھر ہمارے خلاف ووٹ بھی دیتے ہیں۔‘‘انھوں نے کہا کہ ’’انھیں ہمارے خلاف ووٹ دینے دو ،ہم بڑی بچت کریں گے ،ہمیں اس سے فرق نہیں پڑتا۔‘‘اس سے قبل اقوام متحدہ میں امریکہ کی سفیر نکی ہیلی نے ممبرممالک کو وارننگ دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس سلسلہ میں مسٹر ٹرمپ نے ان سے رپورٹ مانگی ہے کہ آج کون کون سے ملک انکے خلاف ووٹ کرنے والے ہیں ۔ ووٹنگ سے پہلے فلسطینی وزیرِ خارجہ نے اقوام متحدہ کے رکن ممالک پر زور دیا تھا کہ وہ دھونس اور دھمکیوں کو خاطر میں نہ لائیں۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/icE8C

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے