Breaking News
Home / اہم ترین / الور پولیس کا بھگوا چہرہ: مسلم دودھ کاروباری کو گئو اسمگلر بتا کر چھینی51 گائیں

الور پولیس کا بھگوا چہرہ: مسلم دودھ کاروباری کو گئو اسمگلر بتا کر چھینی51 گائیں

الور۔راجستھان(ہرپل نیوز،ایجنسی)16 اکتوبر۔ الور ضلع میں مسلم دودھ کاروباری کو گئو اسمگلر بتا کر ہندووادی تنظیم کے لوگوں نے اس کی 51 گائیں چھین کر انہیں گئوشالا میں پہنچا دیں۔ کہا جا رہا ہے کہ تنظیم نے یہ کام پولیس کی ملی بھگت سے کیا ہے۔ یہ معاملہ ضلع کے کشن گڑھ باس تھانہ علاقہ کے ساهوباس کا ہے، جس میں سبا میو ولد نصرو خاں اور ان کی بیوی گائے پالتے ہیں۔ زبردستی گئوشالا پہنچائی گئی گایوں میں سے ایک بھاگ کر واپس آ گئی، اب سبا میو کے خاندان کے پاس ایک گائے اور 20 بچھڑے-بچھڑياں ہیں۔یہ واقعہ 3 اکتوبر کا ہے اور 12 دن کے بعد بھی مسلم خاندان کو اس کی گائیں واپس نہیں دی جا رہی ہیں۔ دوسری طرف دودھ دینے والی گایوں کے بچھڑے-بچھڑياں دودھ نہیں ملنے کی وجہ سے بھوکے پیاسے تڑپ رہی ہیں۔

سبا انتظامیہ اور پولیس دونوں سے گایوں کو واپس دلانے کی گہار لگا چکا ہے، لیکن اس کی کوئی سنوائی نہیں ہو رہی ہے۔ سبا کے حق میں گاوں والوں کی طرف سے ایک درخواست دی گئی ہے، جس میں دیہاتیوں نے کہا ہے کہ یہ سبا میو کے پاس کل 52 گائیں اور بچھڑے-بچھڑياں موجود ہیں اور وہ کئی سالوں سے گئوپالن کرتا ہے اور دودھ کا کاروبار کرتا ہے۔روزانہ 100 کلو سے زیادہ گائے کا دودھ فروخت کرتا ہے اور پہاڑوں میں چرانے کے لئے گایوں کو لے جاتا ہے۔ اس کے بعد گھر لے کر آجاتا ہے۔ فی الحال، خاندان کے لوگ گایوں کی غیر موجودگی میں بوتل سے بچھڑوں کو دودھ پلا رہے ہیں۔پولیس کے ساتھ  مل کر ہندوتو وادی تنظیم نے زبردستی گایوں کو گئوشالہ بھیجی ہے۔ لہذا، کشگڑھ باس پولیس سببا کو گئو اسمگلر ثابت کرنے میں جٹی ہے۔ ضلع میو پنچایت کے سرپرست شیر ​​محمد نے کہا کہ الور ضلع میں مسلم خاندانوں کو گائے پالنے میں مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ لوگوں کو گئو اسمگلر ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اگر انتظامیہ مجرموں کے خلاف کارروائی نہیں کرتی تو تحریک چلائی جائے گی

The short URL of the present article is: http://harpal.in/4N3St

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے