Breaking News
Home / اہم ترین / امریکہ اور روس کی قیادت میں شامی مذاکرات کا آغاز

امریکہ اور روس کی قیادت میں شامی مذاکرات کا آغاز

نیویارک ، 21؍ستمبر(ہرپل نیوز) ؍آئی این ایس انڈیا )شام میں جنگ بندی کے ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں ٹوٹ جانے کے بعد امریکہ اور روس مشترکہ طور پر نیویارک میں شامی بحران کے حل اور امن کی راہیں تلاش کرنے کے لیے مذاکرات کررہے ہیں۔امریکی وزیر خارجہ جان کیری اور ان کے روسی ہم منصب سرگئی لاروف شام کے بارے میں اس بات چیت کی مشترکہ طور پر صدارت کررہے ہیں اور اس میں بین الاقومی شامی مددگار گروپ ( آئی ایس ایس جی) میں شامل تیئیس ممالک کے وزرائے خارجہ شرکت کررہے ہیں۔ان میں سعودی عرب اور ایران کے وزرائے خارجہ بھی شامل ہیں۔اس بات چیت کے آغاز سے قبل امریکی یا روسی وزیر خارجہ نے صحافیوں سے کوئی گفتگو نہیں کی ہے۔نیویارک ہی میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں یو این سکریٹری جنرل بین کی مون نے جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں ایک بحث کا آغاز کیا ہے جس میں انھوں نے شام میں لڑائی بند کرنے کی اپیل کی ہے۔انھوں نے کہاکہ میں اثر ورسوخ کے حامل تمام لوگوں سے اپیل کرتاہوں کہ وہ لڑائی ختم کردیں اور مذاکرات کا آغاز کریں۔بان کی مون سکریٹری جنرل کی حیثیت سے آخری مرتبہ جنرل اسمبلی کے اجلاس کی صدارت کررہے ہیں۔واضح رہے کہ امریکہ اور روس کی ثالثی کے نتیجے میں شام میں طے پانے والی جنگ بندی ایک ہفتے سے بھی کم وقت میں ختم ہوگئی ہے۔ہفتے کے روز امریکی لڑاکا طیاروں نے مشرقی شہر دیرالزور کے نزدیک شامی فوج کو فضائی حملے میں نشانہ بنایا تھا اوراس میں کم سے کم 90 فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔اس واقعے کے دو روز بعد حلب کے نواح میں اقوام متحدہ اور ریڈکراس کے مشترکہ امدادی قافلے کو نشانہ بنایا گیا ہے جس کے بعد جنگ بندی برقرار رہنے کے امکانات قریب قریب معدوم نظر آرہے ہیں۔روس اور امریکہ ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے الزامات عاید کررہے ہیں جبکہ اقوام متحدہ کے امدادی قافلے پر فضائی حملے کی کوئی بھی ملک ذمے داری قبول کرنے کو تیار نہیں ہے۔اس تناظرمیں جرمن وزیر خارجہ فرینک والٹر اسٹینمائیر نے کہا ہے کہ ہمیں جنگ بندی اور اس کے لیے مذاکرات کے طریقوں پر غور کرنا ہوگا اور اس پر بھی کہ آیا یہ معاملہ ناامید بن چکا ہے۔البتہ انھوں نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ ہم گذشتہ دنوں کی کشیدگی کو کم کرسکتے ہیں لیکن فی الحال میں اس کے بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتا ہوں۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/JcgNN

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے