Breaking News
Home / اداریہ / امریکہ کے دروازے مسلمانوں پربند ۔اورنگ آباد کے ممتازصحافی اظہرالدین کی چشم کشا تحریر

امریکہ کے دروازے مسلمانوں پربند ۔اورنگ آباد کے ممتازصحافی اظہرالدین کی چشم کشا تحریر

 امریکہ کے نئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ  کے  حوالے سے مسلم دنیا میں جن خدشات کا اظہار کیا جارہا تھا  وہ  اب عملی صورت  میں ظاہر ہونے لگے ہیں، سات مسلم ممالک  کے باشندوں پر امریکہ میں  داخلے پر پابندی کا آرڈیننس اس کی پہلی کڑی ہے  حالانکہ   امریکہ کی سابق وزیر خارجہ  میڈلین البرائٹ جو کہ مذہبی اعتبار سے یہودی ہیں   لیکن ان کی  جرائت مندی کو سلام کہ  آرڈیننس کی اجرائی سے قبل ہی انھوں  نے  ٹوئیٹر پر  جاری اپنے پیغام میں    امریکہ کے نئے صدر کو   انتباہ دیاتھا  کہ مسلمانوں  کے رجسٹریشن کروانے کے انتخابی نعرے کو عملی جامہ پہنایا گیا تو وہ خود کو مسلم کے طور پر رجسٹر کوائیں گی لیکن ٹرمپ کی متعصب حکومت پراس کا کوئی اثر نہیں ہوا اور آرڈیننس جاری کردیا گیا ، نیویارک کی ایک عدالت نے آرڈیننس پر وقتی روک ضرور لگائی ہے لیکن اس  کا  ٹرمپ انتظامیہ کی صحت پر کوئی اثر ہوگا اس کے آثار کم ہی ہیں امریکہ نے جن سات ممالک  کے باشندوں کے امریکہ میں داخلے پر پابندی عائد کی ان میں  ایران ، عراق، شام ، لیبیا، صومالیہ،، سوڈان، اور یمن شامل ہیں قابل ذکر بات یہ ہیکہ  گرین کارڈ ہولڈرس بھی اس پابندی سے مستثنٰی نہیں  ہیں، بظاہر یہ پابندی سات ملکوں کے باشندوں تک محدود ہے لیکن اس کا دائرہ وسیع ہونے کے آثار  نمایاں ہیں امریکی حکام نے  اس کے واضح اشارے دینے بھی شروع کردیئے ہیں   دراصل ٹرمپ انتظامیہ  امریکیوں کی حفاظت کی آڑ میں دوہرا کھیل کھیل رہی ہے ، ایک طرف ایک  مخصوص طبقے کو رجھانے کی کوشش کی جارہی ہے اور  دوسری طرف مسلمانوں کے خلاف نفرت اور تعصب پر مبنی ایک منظم مہم کا آغاز کردیاگیا ہے ، امریکہ آج بھی دنیا کا سپر پاور ملک کہلاتا ہے  اور امریکی صدر کا ایک جملہ پوری دنیا کے لیے اہمیت کا  حامل  ہوتا ہے  ٹرمپ انتظامیہ  نے مسلمانوں کو راست طور پر مہذب دنیا کے لیے  خطرہ  قرار دیا ہے،  ایک  مخصوص مذہب کے ماننے والوں کو  خطرہ قرار دینا  اس بات کا  واضح ثبوت ہیکہ  عالمی سطح پر مسلمانوں کا  عرصہ حیات تنگ کیا جارہا ہے ، جس کے عالم گیر سطح پر تباہ کن اور المناک اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے ، اس کے  عملی مظاہروں کا آغاز ہوچکا ہے آرڈیننس کی اجرائی سے قبل امریکہ کی  ایک  طرانگاہ پر نماز میں مصروف مسلم خاتون کو  ذلیل و رسوا کیا گیا ، آرڈیننس جاری ہونے کے فوری بعد امریکی ریاست ٹیکساس کے  وکٹوریہ شہر میں  ایک مسجد کو نذر آتش کردیا گیا ، کینیڈا کے کیوبک شہر میں  ایک مسجد پر بلااشتعال فائرنگ کردی گئی جس میں  چھ مصلیان شہید ہوگئے یہ ابتدائی علامتیں ہیں ان کا سلسلہ مزید دراز ہوسکتا ہے ، امریکہ بہادر کی اندھی تقلید کرنے والے ملکوں کی کمی نہیں  دوسرے ممالک بھی امریکہ کو خوش کرنے کے لیے ایسے اعلانات کرسکتے ہیں اتنا ہی نہیں  مسلمانوں کو  دنیا کے مختلف ملکوں میں ملک بدر ی کا سامنا بھی کرنا پڑھ سکتا ہے، مسلم ملکوں پر نت نئی پابندیاں عائد ہوسکتی ہے ، غریب  مسلم ملکوں کی معیشیت تباہ ہوسکتی ہے ، کیونکہ  دنیا کے سپر پاور ملک نے  اپنے عمل سے    دنیا کو ایک طرح سے مسلمانوں کے خلاف کارروائی کاجواز فراہم کردیا ہے ،  ٹرمپ انتظامیہ نے  مسلمانوں کے خلاف عالمی جنگ چھیڑ دی ہے  دہشت گردی کے خلاف جنگ کو اب مذہبی لبادہ پہنادیا  گیا ہے   امریکہ کا یہ عمل دنیا بھر کے مسلم ممالک کے لیے لمحہ فکر ہے  یہ باتیں ہوا میں کی جارہی ہے  ایسا سمجھنے سے پہلے یوروپ میں اسلام دشمنی کے رجحان میں تشویش ناک  اضافے کی رپورٹوں  کا جائزہ لینا ضروری ہے ، جرمنی، ہالینڈ اور برطانیہ جیسے بیشتر ممالک میں  دائیں بازو کی بنیاد پرست سیاسی  جماعتیں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف   نفرت آمیز بیانات اور مظاہرے کررہی ہیں جن کا  سیدھے طور پر مسلم پناہ گزین شکار بن رہے ہیں جرمنی   میں قائم انتہا پسند تنظیم  پیگیڈا ان میں نمایاں  ہے جو اسلام دشمنی میں پیش پیش  ہے، میڈیا ان جماعتوں  کی حوصلہ افزائی کررہا ہےتو سیاسی لیڈران جلتے پر تیل کا کام کررہے ہیں   یہ منظم طریقے سے مسلمانوں کا عرصہ حیات تنگ کرنے کی سازش ہے جس کے ہولناک اور المناک اثرات ہوسکتے ہیں۔  ایسا نہیں ہیکہ حالات بالکل ہی نہ  گفتہ بہ ہیں  خود امریکہ  اور دنیا بھر میں  اس کی مخالفت شروع ہوچکی ہے   عالمی سطح پر بھی سخت ردعمل سامنے آرہے ہیں  لیکن مسلم دنیا پرخاموشی طاری ہے  سوائے ایران ،عراق اور او آئی سی  کے کسی نے لب کشائی کی بھی جرائت نہیں کی ایران  نے  فوری ردعمل ظاہر کرتے ہوئے امریکی صدر کے آرڈیننس کو دہشت گردوں کے لیے تحفہ قرار دیا ساتھ ہی  جوابی  کارروائی کے طور پر ایران میں مقیم  امریکیوں کو ملک چھوڑنے کا بیان جاری کردیا عراق کے رہنما مقتدا الصدر نے بھی بیان جاری کیا کہ  امریکیوں کو عراق سے نکل جانا چاہیئے   عالمی رہنماؤں نے بھی ٹرمپ کے  فیصلے سے اختلاف کیا جرمنی کی چانسلر انجیلا میرکل نے  سات مسلم ملکوں کے شہریوں پر امریکہ میں داخلے پر پابندی کو ناانصافی سے تعبیر کیا برطانیہ کی وزیر اعظم  ٹیریزامے نے  ٹرمپ کے فیصلے سے اختلاف کیا میکسیکو کے صدر اینریک پینا ٹیٹو نے احتجاجی طور پر  اپنا دورہ واشنگٹن منسوخ کردیا جبکہ کینیڈا کے  وزیراعظم جسٹس ٹروٹو نے مہاجرین کے لیے اپنے  ملک کے دروازے کھولنے کا اعلان کیا، اسلامی تعاون کی تنظیم اوآئی سی نے آرڈیننس کو دہشت گردی میں اضافے  کا سبب بننے کی بات کہی او آئی سی کا کہنا ہیکہ اس سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کو نقصان پہنچے گا عالمی سطح پر ٹرمپ کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے  لیکن ان سب کے بیچ تقریباً ساٹھ  مسلم ملکوں کے سربراہان نے  جس طرح کا ردعمل ظاہر کرنا چاہیئے تھا ویسا نہیں  ہوا ابھی بھی کچھ ممالک  اس خوش فہمی میں ہیکہ امریکہ بہادر کی جی حضوری کرکے  وہ بچ جائیں گے  لیکن عنقریب ان کی خوش فہمی دور ہوجائے گی کیونکہ   نفرت کی آگ کو پھیلنے میں زیادہ دیر نہیں لگتی یہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے  لمحہ فکر ہے اگر اب بھی  ملی حمیت کا ثبوت نہیں دیا تو پوری امت مسلمہ اس نفرت کی آندھی کی  زد میں  آسکتی ہے

The short URL of the present article is: http://harpal.in/YQOwm

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے