Breaking News
Home / اداریہ / انجمن حامی مسلمین: تعلیمی سفر کے سو سال

انجمن حامی مسلمین: تعلیمی سفر کے سو سال

انجمن حامی مسلمین بھٹکل کا نہ صرف ایک تعلیمی ادارہ ہے بلکہ مسلسل اپنی تعلیمی خدمات کی وجہ سے یہ ادارہ ایک تحریک کی صورت اختیار کر گیا ہے۔ اس تحریک کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ پچھلی ایک صدی میں انجمن نے بلا تفریق مذہب و ملت سماج کے ہر طبقے میں تعلیم کی روشنی عام کرنے کی کوشش کی ہے۔ شاید اسی کا نتیجہ ہے کہ آج بھٹکل سمیت آس پاس کے اضلاع میں اکثر سرکاری وغیر سرکاری محکموں کے اعلی عہدوں پر انجمن کے فارغین یا کسی لحاظ سے انجمن کے مستفیدین اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ یہ بات سب پر عیاں ہے کہ ایک صدی قبل 1919 میں سر سید کی تعلیمی تحریک سے متاثر ہوکرقائم کیا جانے والا انجمن حامی مسلمین کا شمار جنوبی ہند کے باوقار تعلیمی اداروں میں ہوتا ہے۔ اپنی قدامت کے لحاظ سے یہ تعلیمی تحریک عوام و خواص میں خاصہ اعتبار حاصل کر چکی ہے۔ بڑی خوش آئند بات ہے کہ فی الحال بھٹکل میں انجمن کے بیس سے زائد تعلیمی ادارے سرگرم عمل ہیں ۔ خوشی کی بات یہ بھی ہے کہ انجمن کے فارغین ملک اور بیرون ملک میں مختلف حیثیتوں سے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منواچکے ہیں۔ سو سال کے اس تعلیمی سفر میں انجمن نے کیا کیا اہداف حاصل کئے یہ کہنا آسان نہیں ہے مگر دینی بنیادوں پر عصری تعلیم فروغ دینے کا اپنا سب سے بڑا مقصد ضرورحاصل کیا ہے ۔ سو سالہ خدمات کسی بھی ادارے کی زندگی میں غیر معمولی اہمیت کی حامل ہیں بالخصوص اس مقام پر جہاں کسی کی جاگیرداری نہیں بلکہ بھانت بھانت کے لوگ ، اور مختلف المزاج لوگ جمع ہوتے ہوں وہاں تک سو سال کا سفر کر کے صحیح سالم پہنچنا یا بالفاظ دیگر کامیابی حاصل کرنا کسی نعمت غیر مترقبہ سے کم نہیں ہے۔ عموما وہ ادارے جہاں نظامت کے لئے باقاعدہ انتخابات ہوتے ہوں تو وہاں اس خوبصورتی کے ساتھ صد سالہ سفر کرنایقینا ایک بڑی بات ہے ۔اجتماعی نظام کے ساتھ سو سال تک قوم کے نہالوں کی تعلیم کا بیڑا اٹھانا اس لئے بھی اہم ہے کہ آج کے دور میں دینی سمجھ بوجھ رکھنے والوں میں بھی مسند اور منصب کی خاطر کھینچا تانی دیکھنے کو ملتی ہے ۔ ایسے حالات میں خوش اسلوبی کے ساتھ سو سال کا سفر طے کر نے پر صدی کا جشن منانے کا پورا حق محبان اور ذمہ داران انجمن کو حاصل ہے ۔ صدی کے جشن کے سلسلے میں تقریبات کا آغاز ایک عظیم الشان جلوس سے ہوا ۔جلوس میں لوگوں کی بھیڑ دیکھ کر یہ تاثر پیدا ہوا کہ افراد قوم کو انجمن سے کس درجہ محبت ہے ۔ اہم بات یہ بھی ہے کہ صد سالہ سفر کی تکمیل پر وابستگان انجمن جہاں اپنی حصولیابیاں گنائیں گے وہیں امید کی جانی چاہئے کہ کمیوں اورخامیوں پر بھی بھرپورتوجہ دے کر انجمن کو مزید اونچائیوں پر پہنچائیں گے ۔ تعلیم کے ساتھ طلبہ کی تر بیت ، تہذیب اور اور پروفیشنل کورسس میں استحکام کے بعداس میں ضروری اضافہ کی طرف بھی پیش قدمی کریں گے ۔

مخلص بانیان کا لگایا ہوا یہ پودا اب تناور درخت بن کر ان کی قبروں میں راحت کا سبب بنے گا۔ انجمن کے در و دیوار میں جب بھی کوئی بھی خیر انجام پائے گا اس کی نیکیاں بانیان کو برابر ملتی رہیں گی۔ اگر ہم نے اب اسی اخلاص اور لگن کے ساتھ دوسری صدی کے سفر کا آغاز کیا ہے تو جس طرح آج ہم اپنے بانیان کو یاد کر کے دعا کر رہے ہیں بالکل اسی طرح ہمارے لئے بھی نسلیں دعا کریں گی شرط یہ ہے کہ شہرت و ناموری کی بھیڑ میں اخلاص کے سرمایے کی ہم حفاظت کریں اور اسلاف کے نہج پر چل کر منزل مقصود کے حصول تک سفر جاری رکھیں۔ سو سال کی خوشگوار تکمیل پر ارباب انجمن کو مبارکباد دیتے ہوئے کہیں گے کہ

میں جب سے چلا ہوں مری منزل پہ نظر ہے    آنکھوں نے کبھی میل کا پتھرنہیں دیکھا

(سالک ندوی)

The short URL of the present article is: http://harpal.in/aKmYL

One comment

  1. محمد طلحہ سیدی با پا

    بہت خوب بہت اچھا اداریہ ہے ۔ یقینا انجمن حامی المسلمین میں اب تک جن لوگوں نے اپنا وقت سرمایہ و صلاحیت لگائے ہیں ان سب کو اور آنے والے دنوں سالوں اور صدیوں میں جو بھی اس ادارے میں یا جیسے کے آپ نے کہا تعلیمی تحریک میں اپنا وقت سرمایہ اور صلاحیتی لگائیں گے ان کھ لئے بھی اللہ رب العزت بہترین اجر سے نوازینگے اور رسول پاک ص کی تعلیمات اور فرامین کی روشنی میں ہم یہ کہ سکتے ہیں کہ یہ سب صدقہ جا رہی میں شمار کیا جائے گا

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے