Breaking News
Home / اہم ترین / اورنگ آباد اسلحہ ضبطی مقدمے میں 8مسلم نوجوان باعزت بری، ابو جندال سمیت 11 لوگ ٹھہرائے گئے مجرم

اورنگ آباد اسلحہ ضبطی مقدمے میں 8مسلم نوجوان باعزت بری، ابو جندال سمیت 11 لوگ ٹھہرائے گئے مجرم

 فیصلہ کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کرے گی جمعیۃ علما۔ فیصلہ اطمینان بخش نہیں، مولانا ارشد مدنی کا ردعمل

نئی دہلی، 28؍جولائی( ہرپل نیوز/آئی این ایس انڈیا )اورنگ آباد اسلحہ ضبطی مقدمہ میں ممبئی کی خصوصی مکوکا عدالت نے آج جہاں 20 مسلم نوجوانوں پر سے مکوکا قانون ہٹاتے ہوئے 8کو باعزت بری کردیا ہے وہیں 12 مسلم نوجوانوں کو غیر قانونی سرگرمیوں اور آرمس ایکٹ کے تحت مجرم قراردیا ہے ۔ وکیل دفاع اور استغاثہ کے دلائل سننے کے بعدعدالت کل قصوروار ٹھہرائے گئے مجرمین کی سزاؤں کی میعاد طے کرے گی۔عدالت نے اپنے فیصلہ میں کہا ہے کہ استغاثہ مجرمین پر یہ الزام ثابت کرنے میں کامیاب رہا کہ مجرمین نے گجرات فرقہ وارانہ فساد کے بعد 2006میں ٰ نریندر مودی اور وشو ہندو پریشد کے لیڈر پروین توگڑیا کے قتل کی سازش رچی تھی اور وہ گجرات میں ہو ئے مسلم کش فسادات کا بدلہ لینا چاہتے تھے واضح ہوکہ اس سلسلے میں کل 22مسلم نوجوانوں کی گرفتاری عمل میں آئی تھی ، جن میں سے 20ملزمان کے خلاف ہی فی الوقت مقدمہ چلایا گیا ،جبکہ عدالت نے وعدہ معاف گواہ ملزم سید مصطفیٰ اورمفرور ملزم شیخ نعیم کا مقدمہ دیگر ملزمین کے مقدمہ سے علیٰحدہ کر دیا ہے، ان کی قسمت کا فیصلہ بعد میں کیا جائے گا ۔خصوصی جج ایس این انیکر نے جن 12 مجرمین کو قصور وارقراردیا ہے ان میں ابو جندال کے علاوہ محمد عامر شکیل احمد، محمد مظفر تنویر،جاوید احمد عبدالمجید انصاری، افضل خان نبی خان، ڈاکٹر محمد شریف شبیر احمد، بلال احمد عبدالرزاق، سید عاکف سید ظفر الدین، افروزخان شاہد خان پٹھان، فیروز تاج الدین شیخ، شیخ عبدالنعیم اور فیصل عطاالرحمن شیخ شامل ہیں۔اس کے علاوہ عدالت نے جن ملزمین کو نا کافی ثبوت کی بناء پربا عزت بری کرنے کا حکم جاری کیا ہے ان میں فیروز دیشمکھ کے علاوہ سید زبیر سید احمد قادری، عبدالعظیم عبدالجمیل شیخ، ریاض احمد محمد رمضان ،خطیب عمران عقیل احمد، شیخ وقار محمد نثار، محمد صمد شمشیر خان پٹھان اور محمد عقیل محمد اسماعیل مومن شامل ہیں۔ان تمام لوگوں کا تعلق مہاراشٹر کے مختلف اضلاع مالیگاؤں،بیڑ،اورنگ آباد اور دیگر مقامات سے ہے۔ عدالت نے باعزت بری کئے گئے تمام ملزمین کو فوری طور پر رہا کرنے کا حکم جاری کیا ،جبکہ آرتھر روڈ جیل میں قائم شدہ ہائی سیکورٹی جیل میں جب فریقین سزاؤں کے تعین کے تعلق سے اپنی بحث کا آغاز کرنے واکے تھے اس وقت جج انیکر نے مالیگاؤں سے تعلق رکھنے والے ضمانت پر رہا شدہ دو مجرمین جاوید احمد عبد المجید اور مشتاق احمد محمد اسحاق کو گھر جانے کی اجازت دی اور کل صبح عدالت میں طلب کئے جانے کا حکم جاری کیا ۔ ممبئی کی خصوصی مکوکا عدالت کے فیصلے پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے جمعیۃ علما ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے کہا کہ یہ فیصلہ نا مکمل اور ادھورا ہے، البتہ یہ قابل اطمینان بات ہے کہ 20ملزمان پر سے نہ صرف مکوکا ہٹا لیا گیا بلکہ ان میں سے 8کوناکافی ثبوتوں کی بنیاد پر با عزت بری کر دیا گیا ۔ انہوں نے اسے جمعیۃ علما ہند کی کامیابی قرار دیا۔ مولانا مدنی نے کہا کہ عدالت نے جن12ملزمان کو قصور وار قرار دیا ہے انکے خلاف بھی استغاثہ ایسا کوئی پختہ ثبوت پیش نہیں کرسکا کہ یہ ملزمان نریندرمودی یا توگڑیا کے خلاف کسی سازش میں ملوث تھے یاکہ انکا تعلق کسی دہشت گرد تنظیم سے تھا۔ مولانا مدنی نے کہا کہ جمعیۃ علما ہند ا س فیصلے کو ہائیکورٹ میں چیلنج کرے گی ۔انہوں نے کہا کہ یہ ہمارا تجربہ ہے کہ نچلی عدالتوں نے جن معاملات میں ملزمان کوپھانسی تک کی سزائیں دے دیں تھیں ان معاملات میں وہ سپریم کورٹ سے بری کر دئے گئے۔ مولانا مدنی نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ ماضی کی طرح اس معاملہ میں بھی اوپری عدالت سے انصاف ملے گا۔ مولانا مدنی نے کہا کہ عدالت سے آج 10سال کے بعد جو 8ملزمان باعزت بری کئے گئے ہیں ، انکے دس سال کا حساب کون دے گا ۔ اس دوران انہیں جو سماجی مالی خسارہ جھیلنا پڑا اور انکے اہل خانہ اتنے سال تک ذہنی کشیدگی کا شکار رہے ،اس کیلئے ذمہ دار بد عنوان اور لا پرواہ افسران کے خلاف کب کارروائی ہوگی اور کیا بری ہونے والے ان بے قصور لوگوں کوحکومت معاوضہ اداکریگی؟ مولانا مدنی نے کہا کہ دہشت گردی کے نام پر برسوں سے قید و بند کی صعوبتیں جھیلنے والے بے قصور مسلمانوں پر حکومت کی جانب سے یہ ظلم آخر کب تک روا رہے گا ؟۔ انہوں نے کہا کہ بے قصور لوگوں کو اس وقت تک مکمل انصاف نہیں مل سکتا جب تک کہ انہیں معاوضہ ادا نہ کیا جائے اور جھوٹے معاملات میں پھناسنے والے افسران پر شکنجہ نہ کسا جائے ۔ مولانا مدنی نے کہا کہ اس معاملے میں ایک پٹیشن بھی زیر سماعت ہے جس پر فیصلہ کا ہمیں انتظار ہے۔
ان ملزمان کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء کی قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے عدالت کے فیصلہ پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ عدالت نے مجرمین کو جن الزامات کے تحت قصور وار ٹھہرایا ہے ان الزامات کی تصدیق کے لئے عدالت میں استغاثہ نے کوئی ایسا ثبوت نہیں دیا تھا جس سے یہ ثابت ہو سکتا تھا کہ مجرمین متذکرہ لیڈران کی قتل کی سازش شامل تھے، نیز جن گواہوں نے عدالت میں اپنا بیان درج کرایا تھا اس میں سے کسی بھی گواہ نے یہ گواہی نہیں دی تھی کہ مجرمین مودی اور توگڑیا کے قتل کی سازش میں شامل تھے ۔انہوں نے کہا کہ انہیں حیرانی ہے کہ خصوصی عدالت ان ملزمان کو کس طرح سے ان الزامات کے تحت قصور وار ٹھہرا سکتی ہے جنہیں ثابت کرنے کے لئے عدالت میں کوئی ٹھوس ثبوت نہیں پیش کیا گیا ہے۔گلزار اعظمی نے کہا کہ جمعیۃ علماء 12ملزمان کومجرم قرار دئے جانے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل داخل کرے گی اور انشاء اللہ ان بے قصور مسلم نوجوانوں کو بھی رہائی حاصل ہوگی۔واضح رہے کہ اس معاملے میں20؍ ملزمین کے خلاف9؍ جنوری 2013ء کو 16 نکات پر مشتمل فرد جرم عائد کی تھی ۔اس کے مطابق ملزمین نے 1996 سے2006کے درمیان ہندوستان اور بیرون ہند دہشت گردی کی سازش رچی تھی ۔ملزمین کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعہ 120(B) ، غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام والے قانون کی دفعہ 10(a) اور 18، 20، 38،39، اور مکوکا قانون کی دفعہ 3(4) و آرمس ایکٹ دیگر قوانین کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ قائم کیا گیا تھا ۔ملزمین کے قبضہ سے ایک درجن AK47 رائفل ، زندہ کارتوس، آر ڈ ی ایکس خلد آباد کے قریب واقع گرونیشور مندر، انکئی کی پہاڑی کے دامن میں واقع ریلوے لائن کے نیچے سے اور مالیگاؤں میں واقع الیکٹرک شاپ ضبط کیئے جانے کا دعوی اے ٹی ایس نے کیا تھا ۔اس معاملے میں استغاثہ نے 100 سرکاری گواہوں کے بیانات قلمبند کرائے تھے جبکہ دفاع نے 16؍ دفاعی گواہوں کو عدالت میں ان کے بیانات کے اندراج کے لیئے طلب کیا تھا ، پولس افسران کو چھوڑ کر بیشتر سرکاری گواہ اپنے سابقہ بیانات سے منحر ف ہوگئے تھے جس کی وجہ سے اے ٹی ایس کو ہزیمت بھی اٹھانی پڑی تھی ۔معاملے کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ضمانت پر رہا ملزمین کو ضمانت حاصل کرنے میں 8سال تک کا عرصہ انتظار کرنا پڑا لیکن ممبئی ہائی کورٹ سے ملزم جاوید عبدالمجیدانصاری کی ضمانت پررہائی کا پروانہ دیگر 9؍ ملزمین کی ضمانت پر رہائی میں مدد گار ثابت ہوا اور دوران مقدمہ بقیہ ملزمین کو یکے بعد دیگر ے جمعیۃ علماء کی کوششوں سے ضمانت پر رہائی نصیب ہوئی لیکن اس درمیان اس معاملے کا سامنا کررہے ملزم عبدالنعیم کے مبینہ طورپرپولس تحویل سے فرار ہوجانے سے معاملہ تین ماہ تک التواء کا شکار رہا لیکن پھر عبدالنعیم کا معاملہ الگ کرتے ہوئے خصوصی مکوکا جج نے مقدمہ کی بقیہ سماعت کا آغاز کردیا ۔ عبدالنعیم کا مقدمہ الگ کرنے کے ساتھ ساتھ اس معاملے کے وعدہ معاف گواہ مصطفی سید جو اب وعدہ معاف گواہ نہیں بننا چاہتے ہیں کا بھی مقدمہ بقیہ ملزمین کے مقدمہ سے الگ کردیاگیاہے۔مہاراشٹر کے مختلف اضلاع سے ہوئی مسلم نوجوانوں کی گرفتاری کے بعد معاملے کی سماعت ممبئی میں شروع ہونے کے بعد سے جمعیۃ علماء مہاراشٹر نے ملزمین کو قانونی امداد فراہم کی اور دوران مقدمہ میں سینئر ایڈوکیٹ نتیاراماکرشنن،ڈکٹر یوگ موہیت چودھری،ایڈوکیٹ عبدالوہاب خان، ایڈوکیٹ شریف شیخ، ایڈوکیٹ مبین سولکر، ایڈکیٹ طارق سید،ایڈوکیٹ افروزصدیقی،ایڈوکیٹ متین شیخ،ایڈوکیٹ خضر پٹیل، ایڈوکیٹ عادل بیابانی، ایڈوکیٹ رازق شیخ،ایڈوکیٹ انصارتنبولی،ایڈوکیٹ آصف نقوی، ایڈوکیٹ شاہد ندیم انصاری، ایڈوکیٹ افضل نواز، ایڈوکیٹ نعیمہ شیخ،ایڈوکیٹ شازیہ،ایڈوکیٹ چراغ شاہ، ایڈوکیٹ ابھیشک پانڈے، ایڈوکیٹ ارشد صدیقی ویگر کی خدمات حاصل کی گئیں

The short URL of the present article is: http://harpal.in/cAhsj

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے