Breaking News
Home / اہم ترین / اُڑیسہ میں پیش آیاایک عجیب وغریب واقعہ؛غریب بیٹیوں نے اُٹھایا ماں کی لاش؛ جلانے کے لئے استعمال کی چھت کی لکڑیاں

اُڑیسہ میں پیش آیاایک عجیب وغریب واقعہ؛غریب بیٹیوں نے اُٹھایا ماں کی لاش؛ جلانے کے لئے استعمال کی چھت کی لکڑیاں

اڑیسہ 26/ ستمبر (ہرپل نیوز/ایجنسی) ابھی حال ہی میں ایک شخص کے اپنی بیوی کی لاش کو کئی کلومیٹر سر پر رکھ کر لے جانے کا واقعہ موضوع بحث بنا ہوا تھا کہ اڑیسہ میں غربت کا ایک اور واقع سامنے آیا ہے، جس سے اس بات کا اندازہ  لگایا جاسکتا ہے کہ اس ملک میں غریب عوام کیسے کیسے اپنی زندگیاں بسرکررہے ہیں۔ اس بار  کالا ہانڈی ضلع پھر ایک بار سرخیوں میں ہے.، جہاں ماں کی لاش کو کندھا دینے اور اُس کی آخری رسومات کو ادا کرنے بیٹیوں کو ماں کی لاش کے لئے کندھا دینا پڑا، یہ واقعہ معاشرے میں پھیلی بے حسی کی عکاسی کرتا ہے کہ غریب لوگوں کی مدد کے لئے پاس پڑوس کے عوام بھی آگے نہیں آتے، حیرت کی انتہا یہ بھی رہی کہ اس عورت کی آخری رسومات ادا کرنے  کے لئےدرکار لکڑیاں خریدنے جب بیٹیوں کے پاس رقم نہیں تھی تو اُنہیں اپنے گھر کی چھت کی لکڑیاں نکالنی پڑی۔

واقعہ ہفتہ کو اڑیسہ کے کالاہانڈی ضلع کے گولامڈا بلاک کے ڈوكريپاڑا گاؤں میں پیش آیا ہے جہاں 4 بیٹیوں نے پڑوسیوں کی جانب سے تعاون نہ ملنے کی وجہ سے اپنی ماں کی آخری رسومات کے لئے ان کی لاش کو چارپائی پر رکھ کر خود شمشان گھاٹ لے جانے پر مجبور ہوئیں. ان کی مصیبت یہیں پر ختم نہیں ہوئی بلکہ لاش کو آگ دینے کے لئے لکڑیاں نہ ملنے پر اپنے گھر کی چھت کو اجاڑ کر لکڑیاں حاصل کیں اور ماں کی آخری رسومات ادا کیں.

ذرائع کے مطابق، 75 سال کی کنک جمعہ کی شب انتقال کرگئی. موت کے بعد اس کیبیٹیوں نے پڑوسیوں سے ماں کے جنازہ میں مدد کی درخواست کی لیکن کسی نے کوئی مدد نہیں کی.

گھنٹوں انتظار کے بعد جب کوئی بھی مدد کرنے کے لئے آگے نہیں آیا تو ان بیٹیوں نے خود ہی ماں کی لاش چارپائی پر رکھا اور چارپائی کو اپنے سر پر رکھ کر شمشان وادی کی طرف چل پڑیں.

ان چار بیٹیوں کے تعلق سے بتایا گیا ہے کہ ان میں2 بیوہ اور دو کو ان کے شوہر نے چھوڑ دیا ہے. یہ بیچاری خواتین زندگی گزارنے کے لئے بھیک مانگنے پر مجبور ہیں.

اڈیشہ کا کالا ہانڈی ضلع اس سے پہلے تب بحث میں رہا تھا جب ایک شخص اپنی بیوی کی لاش کندھے پر رکھ کر قریب 12 کلومیٹر تک پیدل چلا تھا. واقعہ 14 ستمبر کی رات کو بھواني پٹنا میں پیش آیا تھا۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/YxBUx

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے