Breaking News
Home / اہم ترین / آر ایس ایس ملک بھر میں تناؤ پیدا کرنے کیلئے کوشاں :بھاگوت کے ایک بیان پراسد الدین اویسی کاردعمل

آر ایس ایس ملک بھر میں تناؤ پیدا کرنے کیلئے کوشاں :بھاگوت کے ایک بیان پراسد الدین اویسی کاردعمل

حیدرآباد(ہرپل  نیوز، ایجنسی)25 نومبر۔  حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ و صدر کل ہند مجلس اتحادالمسلمین بیرسٹر اسدالدین اویسی نے کہا کہ 5دسمبر سے سپریم کورٹ میں بابری مسجد کے مقدمہ کے آغاز سے قبل آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت یہ چاہتے ہیں کہ ملک میں تناو کا ماحول پیدا کیا جائے ۔ ملک بھر میں دوبارہ اسے ایک سیاسی مسئلہ بنایا جائے تاکہ وہ اپنی سیاسی روٹیاں سیک سکیں۔ موہن بھاگوت کے رام مندر کے لئے اس طرح کے بیانات ملک کے لئے اور سپریم کورٹ کے لئے ٹھیک نہیں ہے ۔بیرسٹراسدالدین اویسی نے رام مندر سے متعلق موہن بھاگوت کے بیانات اور اعلانات کے سلسلہ میں ایک سوال کے جواب میں یہ بات بتائی ۔ بیرسٹراسدالدین اویسی نے کہا کہ موہن بھاگوت کے بیانات سے یہ نظرآرہا ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس بن چکے ہیں۔ 5دسمبر سے سپریم کورٹ میں سماعت کا آغاز ہوگا۔ اس سے قبل وہ اس طرح کے بیانات دے رہے ہیں کہ ہر حال میں رام مندر کے کام کا آغاز کیا جائے گا‘ اس طرح سے یہ ظاہر ہورہا ہے کہ یہ سپریم کورٹ کے فیصلہ کو جانتے ہیں۔

صدر مجلس نے سوال کیا کہ کیا موہن بھاگوت اس طرح کے بیانات سپریم کورٹ پر دباوبنانے یا سپریم کورٹ پر اثرورسوخ ڈالنے کے لئے دے رہے ہیں۔ کیا بھاگوت کو معلوم ہے کہ سپریم کورٹ کے مقدمہ کا فیصلہ آستھا کی بنیاد پر ہوگا ؟دستور اور ثبوت کی بنیاد پر نہیں آئے گا؟ بھاگوت اس طرح کے بیانات جاری کرکے یہی پیام دے رہے ہیں۔بیرسٹراسداویسی نے امید ظاہر کی کہ سپریم کورٹ ‘ مقدمہ کے آغاز سے قبل اس طرح کے بیانات کا نوٹ لے گا کہ کس طرح مرکزی حکومت ‘ بی جے پی اور آر ایس ایس کی جانب سے سپریم کورٹ میں مقدمہ کے آغاز سے قبل ملک بھر میں تناؤ پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔اس طرح کا کھیل جو کھیلا جارہا ہے اس سے تو یہی پیام دیا جارہا ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلہ سے قبل اپنا فیصلہ سنارہے ہیں۔ بابری مسجد کا مقدمہ سپریم کورٹ میں زیرغور ہے اور سپریم کورٹ آستھا کی بنیاد پر تو فیصلہ نہیں کرے گا بلکہ ثبوت کی بنیاد پر اپنا فیصلہ سنائے گا اور عدالت عظمی میں جو مقدمہ زیرغور ہے وہ ملکیت کا مقدمہ ہے ۔اس ضمن میں آر ایس ایس کے سربراہ کا جو بیان سامنے آیا ہے اس سلسلہ میں وہ سپریم کورٹ سے امید کرتے ہیں کہ سپریم کورٹ اس کا نوٹ لے گا۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/OHMQr

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے