Breaking News
Home / اہم ترین / اپنی تربیت کیسے کریں؟ عبد العزیز
Bouquet of multicolored calla lilies. Floral pattern. Close-up. Abstract background

اپنی تربیت کیسے کریں؟ عبد العزیز

تحریر: خرم مرادؒ ۔۔۔ ترتیب: عبدالعزیز
(تیسری قسط)
تربیت آسان ہے، بالکل بس میں ہے: جنت کی خواہش کرنا تو آسان لگتا ہے، جنت کی طلب بھی دل میں محسوس ہوتی ہے مگر اسے حاصل کرنے کیلئے اپنی تربیت کرنا انتہائی دشوار کام لگتا ہے؛ بلکہ بعض اوقات ناممکن سا لگتا ہے۔ زندگی اس طرح بسر کرنا کہ جنت میں داخل ہوسکیں، اس لائق بننا کہ جنت کے راستے پر چل سکیں، لگتا ہے کہ یہ اپنے بس میں نہیں۔
لیکن جب تم تربیت کے راستے پر پہلا قدم اٹھالو اور سوچ سمجھ کر یہ فیصلہ کرلو کہ اللہ کی رضا اور جنت کا حصول ہی زندگی میں سب سے بڑھ کر محبوب و مقصود ہونا چاہئے۔۔۔ تو سب سے پہلی یہی بات جاننا اور اسی پر یقین رکھنا ضروری ہے کہ تربیت کا راستہ آسان ہے اور جنت کا حاصل کرنا بالکل اپنے بس میں ہے۔ اسے آسان اور بس میں ہونا ہی چاہئے؛ تاکہ ہم سہولت سے اس راستے پر چل سکیں جو ہمیں جنت تک لے جائے۔ اس بات کو صرف ایک دفعہ جان لینا کافی نہیں بلکہ اس کو بار بار دہرانا اور ہر دم تازہ رکھنا ضروری ہے۔
آسان ہونے اور بس میں ہونے سے ہماری مراد یہ نہیں کہ اپنی تربیت کیلئے محنت نہیں کرنا ہوگی۔ ریاضت نہیں کرنا ہوگی، مجاہدہ نہیں کرنا ہوگا یا یہ کہ اس راہ میں تکلیفیں پیش نہیں آئیں گی، ناگوار چیزیں برداشت نہیں کرنا پڑیں گی، دکھ اور ایذا نہیں پہنچے گی، مشکل اور دشوار مراحل سے نہیں گزرنا ہوگا۔ نہیں، ان میں سے ہر چیز پیش آسکتی ہے۔ ہمارا مطلب یہ ہے کہ ہر ناگوار اور تکلیف دہ چیز کا مقابلہ کرنے کیلئے ہمت و قوت اور ہر مشکل سے نکلنے کیلئے راستہ بھی موجود ہے اور دستگیری کا سامان بھی۔ ہر کام جس کے کرنے کا مطالبہ ہے، وہ انسان کے اختیار اور بس میں ہے۔
آسان کیوں ہونا چاہئے؟ امتحان کا تقاضا: ہم نے صرف یہ نہیں کہا کہ تربیت کرنا آسان ہے، بلکہ یہ بھی کہا کہ اسے آسان ہی ہونا چاہئے۔ اس بہ ظاہر تعجب خیز بات کو خوب اچھی طرح سمجھ لو۔ یہ آسان ہونا اس مقصد کا ناگزیر تقاضا ہے جس کیلئے انسان کو پیدا کیا گیا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت و رحمت اور عدل کا بھی ناگزیر تقاضا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے تمھیں اس زمین پر کس مقصد کیلئے یہ زندگی بخشی ہے؟ اس امتحان کیلئے تم حسن عمل کی روش اختیار کرتے ہو یا بدعملی کی۔ شکر کی راہ چاہتے ہو یا ناشکری کی۔ ایمان لاتے ہو یا کفر کرتے ہو۔ اطاعت کرتے ہو یا سرکشی و طغیانی۔ صرف اللہ کی بندگی کرتے ہو یا اس کے علاوہ دوسرے خدا بنالیتے ہو۔ بات کسی اسلوب سے بھی کہو، مطلب ایک ہے اور مدعا بھی ایک۔ اللہ کو تمہارا امتحان مقصود ہے:
’’جس نے موت اور زندگی کو ایجاد کیا تاکہ تم لوگوں کو آزما کر دیکھے، تم میں سے کون بہتر عمل کرنے والا ہے‘‘ (الملک:2)۔
’’ہم نے اسے راستہ دکھادیا، خواہ شکر کرنے والا بنے یا کفر کرنے والا‘‘ (الدہر:3)۔
جب امتحان ہے تو تمہیں اختیار اور آزادی عمل بھی حاصل ہے۔ یہ اختیار دینا ضروری تھا۔ مجبور و مقہور کا امتحان ایک بے معنی کام ہوتا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور عدل سے بعید تھا کہ وہ ایسا کرتے۔ عمل کے امتحان میں بھی ڈالتے، عذاب و ثواب کو بھی اس امتحان کے نتیجے پر منحصر کرتے لیکن عمل کرنے کا اختیار اور آزادی تمہیں نہ بخشتے۔ چاند، سورج، ستارے اور فرشتے، بال برابر اللہ تعالیٰ کے حکم سے سرتابی نہیں کرتے، کرنہیں سکتے۔ ان کا نہ حساب ہے، نہ ان کیلئے جنت میں داخل ہونے کے انعام کا امکان۔
یہ امتحان بھی عجیب نوعیت کا امتحان ہے۔ اگر چہ امتحان کی مدت بہت مختصر، فانی اور ختم ہونے والی ہے لیکن اس کے نتیجے میں حاصل ہونے والا عذابِ شدید یا رضوان و جنت ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ہے، مَا عِنْدَکُمْ یَنْفَدُ وَ مَا عِنْدَاللّٰہِ بِاقٍ ط (النحل:96) ’’جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ ختم ہوجانے والا ہے، جو کچھ اللہ کے پاس وہاں ہے، وہ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے باقی رہنے والا ہے‘‘۔
کیونکہ جنت کا حصول تربیت پر موقوف ہے اور جنت ہی مقصودِ زندگی ہے، اس لئے اللہ کی ربوبیت و رحمت کا تقاضا ہوا کہ جنت کی راہ، تربیت کا راستہ آسان ہو اور ہر شخص کو دستیاب ہو۔ اس کی ربوبیت و رحمت کے اس قانون کا جلوہ تم زندگی میں ہر جگہ دیکھ سکتے ہو۔
جسم کی بقا اور تربیت کیلئے ہوا ناگزیر ہے، ہم چند لمحے بھی ہوا کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے۔ ہوا اس طرح عام ہے کہ ہر جگہ موجود ہے، ہر شخص کو دست یاب ہے اور بلا کسی کوشش کے دستیاب ہے۔
پانی بھی زندگی کیلئے ناگزیر ہے لیکن ایک درجہ کم، وہ بھی ہر جگہ پہنچایا جاتا ہے۔ بہ آسانی دستیاب ہوتا ہے لیکن ہوا کی طرح عام نہیں۔ تو جس تربیت پر عارضی نہیں ابدی زندگی میں بقا و فلاح کا انحصار ہو، کیا وہ ہوا اور پانی کے مثل، اپنی نوعیت کے لحاظ سے، آسانی سے اور عام طور پر دستیاب نہ ہوگی؟
امتحان تو ہر شخص کا مقصود ہے، جنت کی منزل تو ہر شخص کے سامنے رکھی گئی ہے، پھر کیا یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور عدل کے مطابق ہوتا کہ وہ امتحان میں بھی ڈالتا، دوڑ میں شریک بھی کرتا، سامنے جنت جیسا انعام اور ہدف بھی رکھ دیتا، مگر پھر جنت کی راہ پر دوڑنا اتنا دشوار بلکہ ناممکن کام ہے، اس پر کیسے یقین کیا جاسکتا ہے! اسی لئے ہم دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جنت اور اس کیلئے تربیت کے راستے پر چلانے کی ذمہ داری خود اپنے اوپر لی ہے:
’’بیشک راستہ بتانا ہمارے ذمے ہے اور درحقیقت آخرت اور دنیا دونوں کے ہم ہی مالک ہیں‘‘ (الیل:12,13)۔
اور جنت کے راستے، اطاعت کے راستے اور دین کے راستے کو اَلْیُسْرٰی کا نام دیا ہے: ’’جس نے (اللہ کی راہ میں) مال دیا اور (اللہ کی نافرمانی سے) پرہیز کیا اور بھلائی کو سچ مانا، اس کو ہم آسان راستے کیلئے سہولت دیں گے‘‘ (الیل:5-7)۔
’’اللہ تمہارے ساتھ نرمی کرنا چاہتا ہے، سختی کرنا نہیں چاہتا‘‘ (البقرہ:185)۔
اور یہ بھی کہ ’’اللہ تم پر سے پابندیوں کو ہلکا کرنا چاہتا ہے کیونکہ انسان کمزور پید ا کیا گیا ہے‘‘ (النساء:28)۔
اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف صاف اعلان فرمایا کہ الدین یسر، دین کا راستہ، جنت اور تربیت کا راستہ، آسان راستہ ہے۔ بڑی شدت اور اہتمام سے، اپنے ساتھیوں کو جنھیں دنیا بھر کو جنت اور مغفرت کے راستے پر چلنے کی دعوت دینا تھی، آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تاکید فرمائی ہے اور بار بار فرمائی ہے کہ ’’دین کو آسان اور سہل بناؤ، تنگ اور مشکل نہیں اور لوگوں کو بشارت دے کر خوش کرو، تنگی پیدا کرکے متنفر نہ کرو‘‘ (مسلم)۔
چنانچہ ہمیں یقین رکھنا چاہئے اور بشارت دینا چاہئے کہ ہم جس امتحان میں ڈالے گئے ہیں، اس کا ناگزیر تقاضا یہی ہے کہ تربیت اور آخر کار دین پر چلنے اور جنت میں پہنچنے کی راہ آسان راہ ہے۔
رحمت و عدل الٰہی کا تقاضا: اللہ تعالیٰ کی رحمت و عدل سے جہاں یہ بات بعید تھی کہ وہ ہم کو جنت کی دعوت دیتا: وَاللّٰہُ یَدْعُوْا اِلٰی الْجَنَّۃِ وَالْمَغْفِرَۃِ بِاِذْنِہٖ (البقرہ:221)۔ ’’اور اللہ اپنے اِذن سے تم کو جنت اور مغفرت کی طرف بلاتا ہے‘‘۔ وَاللّٰہُ یَدْعُوْا اِلٰی دَارِالسَّلَامِ (یونس:25)۔ ’’اور اللہ تمھیں دارالسلام کی طرف دعوت دے رہا ہے‘‘ اور ہم سے جنت کی طرف دوڑ لگانے کا مطالبہ بھی کرتا۔
وَسَارِعُوْا اِلٰی مَغْفِرَۃٍ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَ جَنَّۃٍ (آل عمران:133)۔ ’’دوڑ کر چلو اس راہ پر جو تمہارے رب کی بخشش اور اس جنت کی طرف جاتی ہے‘‘ ۔
اور ساتھ ہی اس راہ کو اتنا دشوار گزار بنا دیتا کہ چل نہ سکتے، وہاں یہ بات اور بعید تر تھی کہ وہ ہمیں امتحان میں ڈالتا اور اس لئے اور اس طرح ڈالتا کہ ہم ناکام ہوجائیں۔ ’’کیا ایک ماں اپنے بچے کو آگ میں ڈال سکتی ہے‘‘ ایک عورت نے حضورؐ سے پوچھا۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم آبدیدہ ہوگئے اور فرمایا ’’نہیں مگر لوگ اس کے سوا اور دوسرے خدا بنا لیتے ہیں!‘‘ خود اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’’آخر اللہ کو کیا پڑی ہے کہ تمھیں خواہ مخواہ سزا دے، اگر تم شکر گزار بندے بنے رہو اور ایمان کی رَوِش چلو۔ اللہ بڑا قدردان ہے، اور سب کے حال سے واقف ہے‘‘ (النساء:147)۔
تربیت کا کام شروع کرو تو اسی یقین کامل اور بھر پور اعتماد کے ساتھ شروع کرو کہ راستہ آسان ہے، اللہ نے تمھیں ناکام ہونے کیلئے اس امتحان میں ہرگز نہیں ڈالا ہے، نہ وہ تم کو ناکام ہوتا دیکھنا چاہتا ہے نہ تمھیں عذاب دے کر اسے کچھ ملے گا۔ یہ یقین بھی کہ تم سے جو مطالبہ ہے، خاص ہو یا عام، جس آزمائش میں ڈالے جاؤ، تمھیں وہ سب کچھ دیا گیا ہے جس سے تم وہ مطالبہ پورا کرسکو اور اس آزمائش سے کامیاب نکل سکو۔
آسانی کے پہلو: آسانی کے پہلو بے شمار ہیں۔ ہم تین پہلوؤں کی طرف توجہ دلائیں گے، جن کو یاد رکھنا ضروری ہے۔
فطرتِ انسانی سے مطابقت: ایک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کی، تمہاری فطرت ایسی بنائی ہے کہ اس کو نیکی محبوب اور مطلوب ہے، وہ اسے اچھی اور خوب صورت لگتی ہے، وہ اس کے مزاج سے مطابقت رکھتی ہے، وہ اس کیلئے جانی پہچانی چیز ہے۔ انسان کتنا ہی برا اور بدکار ہو، وہ پھر بھی سچائی، ہمدردی، حسن اخلاق، عدل، دیانت، امانت اور وفائے عہد جیسی چیزوں کی تعریف کرے گا۔ ہر انسان بے گناہ قتل، ظلم و زیادتی، بدزبانی، حسد جیسی چیزوں کو ناپسند کرے گا۔
جب تم نیکی کرتے ہو تو تمہارا دل خوش ہوتا ہے، تمھیں اطمینان نصیب ہوتا ہے۔ جب تم برائی کرتے ہو تو دل میں خلش ہوتی ہے، اس کو زنگ لگ جاتا ہے، تم اپنی نگاہوں میں گر جاتے ہو۔ رسول اللہ نے ایک صحابیؓ کو نیکی اور برائی کی تعریف انہی الفاظ میں بتائی۔ اسی کو اللہ تعالیٰ نے فطرت اللہ قرار دیا ہے، جس پر اس نے سارے انسانوں کو پیدا کیا ہے۔
چنانچہ نیکی اور حسن عمل کی راہ تو سیدھی اور آسان ہے مگر وہ اس لئے مشکل ہوجاتی ہے کہ ہم خود اپنے کو ٹیڑھا میڑھا بنا لیتے ہیں۔ ایک گول سوراخ میں اگر ٹیڑھی چیز اندر نہیں جاسکتی تو قصور سوراخ کا نہیں۔ اگر چٹان پر فصل نہیں لہلہاتی تو قصور بارش کا نہیں ہے۔اگر ہم اپنے قلب و فطرت کو سلیم بنالیں تو الیسر پر چلنا ہمارے لئے آسان ہوگا۔ اسی لئے قرآن مجید نے بڑے بلیغ اور معنی خیز انداز میں یہ فرمایا ہے کہ فَسَنُیَسِّرِہٗ لِلْیُسْریٰ (اللیل:7)۔ ہم انسان کو آسان کر دیتے ہیں، اَلْیُسْرٰی پر چلنے کیلئے (لفظی ترجمہ یہی ہے)، یہی نہیں کہ ہم اَلْیُسْرٰیکو آسان کر دیتے ہیں، انسان کیلئے ‘‘۔ قلب کو سلیم بنانے کا نسخہ بھی بڑا آسان ہے جو ہم اپنے مقام پر بتائیں گے۔
ساری زندگی تربیت گاہ ہے: آسانی کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زندگی اور ساری کائنات کو تربیت گاہ بنا دیا ہے۔ چند تربیتی امور لازم ضرور کئے گئے ہیں؛ مثلاً نماز، زکوٰۃ، روزہ اور حج۔۔۔ لیکن در اصل زندگی میں پیش آنے والا ہر واقعہ، ہر حادثہ، دل پر گزرنے والی ہر واردات، ہر کیفیت، ہر نعمت، ہر مصیبت، ہر نیکی، ہر بدی، آسمان و زمین اور ان کے اندر ہر مخلوق جس سے انسان کو سابقہ پیش آئے، اس کیلئے مربی بنا دی گئی ہے، بشرطیکہ وہ اس مربی کو پہچانتا ہو اور اس سے تربیت حاصل کرنے کیلئے آمادہ اور مستعد ہو۔
جو لوگ ان ہمہ وقت اور ہمہ جگہ مربیوں سے درس لیتے رہتے ہیں، انہی کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ’’یہ ہیں جو کھڑے، بیٹھے، لیٹے اللہ کو یاد رکھتے ہیں‘‘ (آل عمران:191)۔ ’’عنقریب ہم ان کو اپنی نشانیاں آفاق میں بھی دکھائیں گے‘‘ (حٓمٓ السجدہ:53)۔
جو کتاب وحی، کتاب فطرت اور کتاب زندگی پڑھتا ہو اور ان سے تربیت حاصل کرتا ہو، وہ فی الواقع پھر کسی تربیتی کورس کا محتاج نہیں رہتا، اگر چہ واجب اور نفل تربیتی کورس، اللہ نے بتائے ہوں یا ہم نے خود وضع کئے ہوں، تمہارے مددگار و معاون ہوتے ہیں، لیکن یہ صحیح معنوں میں اسی وقت موثر ہوتے ہیں، جب وہ تمھیں ساری زندگی کو تربیت گاہ بنانے کے مقام پر پہنچانے میں مدد کریں۔
(جاری)

The short URL of the present article is: http://harpal.in/sLGXd

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے