Breaking News
Home / اہم ترین / اپنے استاذ’’مولوی صاحب‘‘ کو یاد کر کےجذباتی ہوئے مرکزی وزیر راجناتھ سنگھ ۔ لکھنو یونیورسٹی کے کنویکیشن میں اساتذہ کا احترام کر نے کی تاکید
لکھنؤ یونیورسٹی کی 60ویں تقسیم اسناد کی تقریب میں یوپی کے گورنر رام نائک اور مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ دیکھے جا سکتے ہیں

اپنے استاذ’’مولوی صاحب‘‘ کو یاد کر کےجذباتی ہوئے مرکزی وزیر راجناتھ سنگھ ۔ لکھنو یونیورسٹی کے کنویکیشن میں اساتذہ کا احترام کر نے کی تاکید

لکھنؤ (ہرپل نیوز،ایجنسی)10ڈسمبر۔لکھنؤ یونیورسٹی کی 60ویں تقسیم اسناد کی تقریب میں شرکت کے بعد خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیر راجناتھ سنگھاپنے استاذ’’مولوی صاحب‘‘ کو یاد کر کےجذباتی ہوئے ۔ انہوں نے اقرار کیا کہ اسی مولوی صاحب کی ڈسپلین سکھانے کا نتیجہ ہے کہ وہ آج اس مقام پر پہنچ گئے ہیں ۔ وزیر نے کہا کہ مولوی صاحب بہت ہی دیانتدار آدمی تھے اور طلبہ ان سے بہت ڈرتے تھے ۔ راجناتھ نے کہا کہ جب وہ یوپی کے وزیر اعلی تھے تو انہوں نے اپنے آبائی گاؤں چندولی جا دورہ کیا تھا اس موقع پر لوگوں نے پھول کی مالائیں لیکر گاوں میں ان کا استقبال کیا تھا ۔ اس بھیڑ میں ایک ۹۰ سالہ بزرگ بھی تھے جنھیں دیکھ کر ان کو یاد آیا کہ وہوہ ان کے بچپن کے اتاذ مولوی صاحب ہیں ۔ راجناتھ نے بتایا کہ اس موقع پر انہوں نے اپنے استاذ کا پیر چھو کر اشیر واد لیا۔ راجنتا سنگھ نے اپنے خطاب میں کہا کہ تعلیمی اداروں کو صرف اکیڈمک تعلیم ہی نہیں بلکہ طالب علموں کو علم کی قدر اور اخلاقیات کا بھی درس دینا چاہیے۔ تاکہ ان کے اخلاق و کرادار بہتر ہو سکیں ۔اس موقع پر راج ناتھ سنگھ نے نوجوانوں سے ملک کے انتظامی اور سیاسی نظام میں سرگرمی سے حصہ لینے کی درخواست کی۔ ہندوستان ثقافت اور ادب کا ضامن ہے، اس سلسلے میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے نوجوانوں سے کہا کہ ملک کی تعمیر میں وہ اپنے علم کو بروئے کار لا سکتے ہیں۔اتر پردیش کے گورنر رام نائک نے بھی لکھنؤ یونیورسٹی کی 60ویں تقسیم اسناد کی تقریب میں شرکت کی۔اس سلسلے میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے رام نائک نے عالمی مقابلہ کے پیش نظر تعلیم کے معیار کی بہتری پر زور دیا۔ انہوں نے سماج کے فائدے کے لیے یونیورسٹیوں میں تحقیق کرنے کی بھی درخواست کی۔ راج ناتھ سنگھ نے 159 طالبات سمیت 152 طلبہ کو ڈگریاں تقسیم کیں۔ اس موقعے پر یونیورسٹی نے راج ناتھ سنگھ کو ڈاکٹریٹ آف سائنس کی اعزازی ڈگری عطا کی۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/2qhYj

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے