Breaking News
Home / اہم ترین / اڈپی میں منعقد ہوا شاندار’’اڈپی چلو‘‘ پروگرام، مذہب کی بنیاد پر سیاست کو لیکر جم کر برسے مقررین۔ دلتوں اور مسلمانوں سے انصاف کرنے کی مانگ

اڈپی میں منعقد ہوا شاندار’’اڈپی چلو‘‘ پروگرام، مذہب کی بنیاد پر سیاست کو لیکر جم کر برسے مقررین۔ دلتوں اور مسلمانوں سے انصاف کرنے کی مانگ

اڈپی(ہرپل نیوز؍ایجنسی )10اکتوبر۔ کرناٹک ہندتوا ایجنڈے کو نافذ کرنے اور ملک میں پھوٹ ڈالنے کیلئے ہندتواوادیوں کیلئے تجربہ گاہ بنا ہو اہے اور ا س تجربہ گاہ کو دلت و مسلمان مل کر ہی تباہ کرسکتے ہیں۔اس بات کا اظہار گجرات کے یوا لیڈر اور دلتوں کی قیادت کررہے جگنیش ویمانے نے کیا ۔ وہ یہاں کے گاندھی میدان میں ریاست بھر سے آئے ہوئے ہزاروں ہندوﺅں اور مسلمانوں سے” اُڈپی چلو“ پروگرام کے تحت خطاب کررہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ گجرات  کےاونا دیہات میں مری ہوئی گائے کی چمڑی نکالنے کے معاملہ کو لیکر دلتوں پر جو حملہ ہو اتھا،اس کے خلاف جو تحریک چلائی گئی تھی اسے وہیں پر ختم کرنے کے بجائے ملک بھر میں اس تحریک کو جاری کرنے کیلئے اقدامات اٹھائے گئے ہیں ۔ جہاں کہیں بھی اونچی ذات والوں سے نچلی ذات والوں کو نقصان پہنچے یا ظلم ہو وہاں پر تحریک چلانے کی اشد ضرورت ہے۔آج سنگھ پریوار اور اس کی سیاسی جماعتیں جس ہندتوا ایجنڈے کی بات کررہی ہے اُ س کا مطلب ہمیں سمجھنے کی ضرورت ہے کیونکہ سال2002 میں گجرات میں جو فسادات ہوئے تھے اس میں یقینا مسلمان مظلوم ہیں،لیکن فسادات میں صرف دو برہمن، چار بنیا،17 پٹیل اور27 الگ الگ اونچی ذاتوں کے افراد پر ہی مقدمہ درج کئے گئے تھے،جبکہ 747 مسلمانوں اور740 دلتوں پر مقدمہ درج کئے گئے ہیں،اس سے واضح ہوتا ہے کہ سنگھ پریوار کس طرح کا ہندوراشٹر چاہتا ہے۔یہاں سنگھ پریوار نے لفظ ہندو کو ہائی جیک کرلیا ہے اور صرف اونچی ذات کے لوگوں کو ہی فوقیت دے رہا ہے۔اس سے قبل دلت لیڈر بھاسکر پرسادنے بات کرتے ہوئے کہا کہ آج کا دن مظلوم لوگوں کےسر اٹھانے کا دن ہے ، اُدپی چلو پروگرام مظلومین کیلئے منعقد کیا گیا ہے،کرناٹک کی تحریکوں میں یہ تاریخ رقم کرنے جارہا ہے۔عیسائیوں پر حملہ کرنا حب الوطنی نہیں ہے ، دلتوں کوجلانا مذہب نہیں ہے،گائے کھانے کے الزام میں کسی عورت کی عزت پامال کرنا ہندو دھرم نہیں ہے،پتہ نہیں کس بنیاد پر آر ایس ایس نے اپنے آپ کو ہندو تنظیم مان رکھا ہے۔اُڈپی میں پےجاور سوامی بھی ہیں،یہاں تحریکی فکر رکھنے والے لوگ بھی ہیں لیکن کرناٹک کے لوگوں کو پیجاور سوامی کے نقش و قدم پر چلنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ پیجاور سوامی مختلف مذاہب کے درمیان زہر گھولنے والا شخص ہے اور انہیں کی وجہ سے ملک میں آج فرقہ وارانہ زہر تیزی کے ساتھ پھیل رہا ہے۔اُڈپی میں منعقدہ اس تاریخ جلسہ میں قریب پچاس ہزار لوگوں نے شرکت کی جس میں مختلف مذاہب اور ذاتوں کے لوگوں موجود تھے۔مہمان خصوصی کے طور پر وزیر اعلیٰ سدرامیا کے میڈیا اڈوائزر دنیش امین مٹو ، لنکیش اخبار کی ایڈیٹر گوری لنکیش جیسے سرکردہ لیڈران موجود تھے۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/Bbw0m

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے