Breaking News
Home / اہم ترین / اگر بنگلہ دیش روہنگیا پناہ گزینوں کو رکھ سکتا ہے تو ہندوستان کیوں نہیں؟ تسلیمہ نسرین

اگر بنگلہ دیش روہنگیا پناہ گزینوں کو رکھ سکتا ہے تو ہندوستان کیوں نہیں؟ تسلیمہ نسرین

نئی دہلی(ہرپل نیوز،ایجنسی)20 ستمبر۔ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے جلاوطنی کی زندگی گزارنے والی بنگلہ دیش کی متنازعہ مصنفہ تسلیمہ نسرین نے ہندوستان میں رہ رہے روہنگیا پناہ گزینوں سے متعلق ایک بڑا بیان دیا ہے۔ مصنفہ نے روہنگیا مسلمانوں کو ہندوستان میں پناہ دینے کی بات کی ہے۔ یوروپ اور امریکہ میں رہنے کے بعد 2004 سے ہندوستان میں قیام پذیر تسلیمہ نسرین نے نیوز 18 کی ارم آغا سے بات چیت کے دوران کہا کہ سبھی روہنگیا دہشت گرد نہیں ہیں۔ تسلیمہ نسرین نے کہا کہ اگر حکومت روہنگیاوں کو اپنی سلامتی کے لئے خطرہ سمجھتی ہے، تو یہ اس کا فیصلہ ہے۔ لیکن میں حکومت سے اپیل کروں گی کہ وہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے۔ اس نے کہا کہ اس طرح سے تو روہنگیا بنگلہ دیش کے لئے بھی خطرہ بن سکتے ہیں۔ لیکن بنگلہ دیش نے انہیں پناہ دی ہے۔ تسلیمہ نسرین نے مزید کہا کہ سارے مسلمان دہشت گرد نہیں ہوتے، سارے روہنگیا دہشت گرد نہیں ہیں۔ : تصویر، نیوز ۱۸متنازعہ مصنفہ نے کہا کہ میں ایسا اس لئے کہہ رہی ہوں کیونکہ میں نے ہمیشہ ستائے گئے لوگوں کا دفاع کیا ہے؛ جب بھی خواتین پر ظلم ہوا تو اس کے خلاف میں نے اپنی آواز اٹھائی۔ میں ہمیشہ لوگوں کے حقوق اور ان کی آزادی کے لئے کھڑی ہوئی ہوں۔ تسلیمہ نے کہا کہ اسی طرح جب بنگلہ دیش میں ہندوؤں کو دبایا گیا تو میں نے ان کا دفاع کیا۔ جب فلسطین، بوسنیا اور گجرات میں مسلمانوں کے ساتھ نا انصافی ہوئی تو میں نے آواز اٹھائی۔ جب پاکستان میں عیسائیوں کو ستایا گیا تو میں نے ان کا دفاع کیا۔ تسلیمہ نسرین نے مزید کہا کہ سارے مسلمان دہشت گرد نہیں ہوتے، سارے روہنگیا دہشت گرد نہیں ہیں۔ اور اگر ان میں سے بعض دہشت گرد ہیں، تو مجھے یقین ہے کہ ہندوستانی حکومت ان کی تلاش کر لینے میں بنگلہ دیش یا پاکستان سے زیادہ بہتر ہے۔ ایسا اس لئے کیونکہ ہندوستان میں جمہوریت ہے جو پڑوسی ممالک کے مقابلے میں زیادہ طاقتور ہے۔ متنازع مصنفہ نے کہا کہ  ہندوستان کے پاس طاقت ہے، اگر ہندوستانی حکومت کو کسی دہشت گرد کا پتہ چلتا ہے، تو وہ اسے سزا دے سکتی ہے۔ بنگلہ دیش میں ابھی 4 لاکھ سے زیادہ روہنگیا پناہ گزین ہیں، مجھے لگتا ہے کہ وہاں ان کے لئے دہشت گردوں کو تلاش کرپانا مشکل ہے۔#تسلیمہ نسرین#روہنگیا بحران

The short URL of the present article is: http://harpal.in/myQyI

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے