Breaking News
Home / اہم ترین / ایس ایس ایل سی کے نتائج : سال گزشتہ کے مقابلہ 7 فیصدگھٹ گیا رزلٹ۔بھٹکل میں سرکاری اسکولس کا بہتر پرفارمینس ۔ملی اداروں کی کارکردگی مایوس کن

ایس ایس ایل سی کے نتائج : سال گزشتہ کے مقابلہ 7 فیصدگھٹ گیا رزلٹ۔بھٹکل میں سرکاری اسکولس کا بہتر پرفارمینس ۔ملی اداروں کی کارکردگی مایوس کن

بھٹکل ،بنگلورو(ہرپل نیوز)13مئی ۔وزیر برائے پرائمری اور ہائی اسکول تنویر سیٹھ نے کل ایس ایس ایل سی نتائج کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ اس مرتبہ ریاستی سطح کے کل نتائج کی شرح 67.87فی صددرج کی گئی ہے، پی یوسی کی طرح ایس ایس ایل سی کے نتائج میں بھی گذشتہ سال کے مقابلہ امسال نتائج کی شرح میں قریب 7فی صد کمی آئی ہے۔ اعلان کردہ نتائج کے مطابق ریاست کے تین طلبا 625میں 625نمبرات حاصل کرتےہوئے پہلا مقام حاصل کیا ہے۔ جس میں سومنتھ ہیگڈے بنگلورو۔ پورنانندا پتور، پلوی ایس بالگلکوٹ شامل ہیں .اُڈپی ضلع یہاں بھی 84.23فی صدنتیجہ کے ساتھ اول مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہوا ہے ، دکشن کنڑا ضلع 82.39فی صد کے ساتھ دوسرے مقام پر ہے ، جبکہ سرسی 80.09فی صد کے ساتھ چوتھے نمبر پر اور اترکنڑا ضلع 79.82فی صد نتیجہ کے ساتھ ریاست میں پانچویں مقام پر ہے۔ ایس ایس ایل سی نتائج میں اترکنڑا ضلع کےکمٹہ تعلقہ کے 2اور یلاپور تعلقہ سے 1سمیت کل 3طلبا 625میں سے 624نمبرات حاصل کرتے ہوئے ریاستی سطح پر دوسرا رینک حاصل کرتےہوئے ضلع کانام روشن کیا ہے۔

بھٹکل تعلقہ کے نتائج :بھٹکل تعلقہ کے نتائج پر نظر دوڑائیں تو 79.92 ہے ۔بھٹکل تعلقہ سے اس سال ایس ایس ایل سی امتحان میں کل دو ہزار ایک سو ستائیس طلبہ نے شرکت کی جس میں سترہ سو طلبہ و طالبات نے کامیابی حاصل کی ۔ جس میں گورنمٹ اردو ہائی اسکول جامعہ جالی نے سو فیصد نتیجہ حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی ۔ وہاں کی ہیڈ مس نے اس موقع پر بات چیت کرتے ہوئے سرکاری اسکولوں کے نظام تعلیم کی ستائش کی ۔ دوسرے نمبر پر بھٹکل کا سرکاری تیر نمکی اسکول ہے جس کی کامیابی کی شرح 96.23ہے جبکہ تیسے نمبر پر نونہال سینٹرل اسکول ہے جس کا نتیجہ 95.92 فیصد ریکارڈ کیا گیا ہے ۔ اس بار تعلقہ میں ٹاپ ٹین میں شمار 19طلبہ کی فہرست پر نظر ڈالی جائے تو انگلش میڈیم سےسترہ طلبہ و طالبات شامل ہیں جبکہ کنڑا میڈیم سے دو اور بد قسمتی سے اردو میڈیم سے کوئی طالب علم ٹاپ میں شریک نہیں ہے ۔ اس بار انگلش میڈیم میں آر این ایس ویدھیا نکیتین مرڈیشور کی اپیشکا مرڈیشور نے 99.36کے ساتھ پورے تعلقہ میں پہلا رینک حاصل کیا ہے۔ یہ طالبہ سائنس دان بننا چاہتی ہے ۔ دوسرے نمبر تعلقہ میں آنند آشرم کانونیٹ اسکول کی پوروی نائک نے 99.20 کے ساتھ پورے تعلقہ میں دوسرا رینک حاصل کیا ہے ۔ تعلقہ سطح میں تیسرے نمبر پر دو طلبہ شامل ہیں جن میں سینٹ تھامس ہائی اسکول کی کماری سی آر سمیتا ۔ آنند آشرم کے شیان شری دھر شیٹ نے 98.56کے ساتھ مشترکہ طور پر تعلقہ میں تیسرے مقام پر ہیں ۔کنڑا میڈیم کی نمائندگی کرتے ہوئے اس بار معمولی پیشے سے وابستہ ایک قلی کے بیٹے نے کمال کر دکھا یا ہے ۔تیرومل ماریا گونڈا نامی اس طالب علم نے پورے تعلقہ میں کنڑا میڈیم میں 97.92نمبرات کے ساتھ تعلقہ میں پہلامقام حاصل کیا ہے ۔ اس طالب علم نے کنڑا اور انگلش میں پورے نمبرات حاصل کئے ہیں ۔ مستقبل میں یہ طالب علم سوفٹ ویر انجیئر بن کر اپنے مالی حالات میں بہترین سہارا بننے کا خواہشمند ہے ۔ اردو میڈیم کی نمائندگی کرتے ہوئے اس بار ایک بڑھئی کے بیٹے نے سرکاری اردو ہائی اسکول سے تعلیم حاصل کرتے ہوئے 87.04کے ساتھ پورے تعلقہ کے اردو میڈیم طلبہ میں پہلا مقام حاصل کیا ہے۔اردو میڈیم کی ہی نمائندگی کرتے ہوئے اس بار ایک ڈرائیور کی بیٹی عالیہ بانو نے انجمن گرلز ہائی اسکول سے تعلیم حاصل کرتے ہوئے 85.92فیصد کے ساتھ پورے تعلقہ کے اردو میڈیم طلبہ میں امتیازی نمبرات مقام حاصل کیا ہے۔ یہ طالبہ بی فارما کرنا چاہتی ہے ۔ مرڈیشور نیشنل ہائی اسکول کی طالبہ ردا ء خواجہ قاضی نے اردو میڈیم سے تعلیم حاصل کرتے ہوئے 85.92 کے ساتھ دوسرے مقام پر ہے ۔ اس سال ریاست بھر کے 924ہائی اسکولس نے 100فی صد نتائج درج کئے ہیں تو 60ہائی اسکولس کا رزلٹ صفر رہاہے۔انگلش میڈیم طلبا کےنتائج کی شرح 87فی صد ہے تو کنڑا میڈیم کی شرح 75.61اور اردو میڈیم کی شرح 70.06فی صد ہے۔

ملی اداروں کی صورتحال : نتائج پر ایک نظر ڈالیں گے تو تعلقہ کی تعلیمی صورت حال کواطمینان بخش کہا جا سکتا ہے ۔ ایس ایس ایل سی نتائج کی خاص بات یہ رہی کہ پرائیویٹ اداروں کے ساتھ سرکاری ہائی اسکولس کی کارکردگی ٹکر کی رہی ہے اورخاص بات یہ رہی کہ سرکاری اردو ہائی اسکول جامعہ جالی تعلقہ کا واحد ہائی اسکول ہے جہاں سوفی صد نتائج درج ہوئے ہیں۔ جب کہ یہ نتائج ملی اداروں کے لئے لمحہ فکریہ ہیں، کیونکہ دیگر اداروں کے برعکس ملی اداروں کی کارکردگی کافی مایوس کن کہی جاسکتی ہے۔ امید لگائی جا رہی ہے کہ ملی ادارے اس کی وجوہات ضرور تلاش کریں گے ۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/IFiqi

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے