Breaking News
Home / اہم ترین / کشمیر میں ہڑتال پانچویں ماہ میں داخل ،121 ویں دن بھی پبلک ٹرانسپورٹ سروس متاثر

کشمیر میں ہڑتال پانچویں ماہ میں داخل ،121 ویں دن بھی پبلک ٹرانسپورٹ سروس متاثر

سری نگر 6 ؍نومبر(ہر پل نیوز ایجنسی  ) وادی کشمیر میں علیحدگی پسند قیادت کی اپیل پر جاری ہڑتال اتوار کو 121 روز میں داخل ہوگئی۔ اگرچہ گذشتہ 120 دنو ں کی طرح اتوار کو بھی دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے ، تاہم درالحکومت سری نگر کے سیول لائنز کی سڑکوں پر سینکڑوں کی تعداد میں چھاپڑی فروش مختلف اشیاء فروخت کرتے ہوئے نظر آیے۔وادی کے تمام حصوں میں پبلک ٹرانسپورٹ مسلسل 121 ویں روز بھی سڑکوں سے غائب رہا۔ پائین شہر میں واقع تاریخی جامع مسجد جہاں گذشتہ 18 ہفتوں کے دوران ایک بھی دفعہ نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، کے باب الداخلے بدستور مقفل رکھے گئے ہیں۔ تاہم مقامی لوگوں نے بتایا کہ اس تاریخی جامع مسجد میں گذشتہ شام مغرب اور عشاء کی نماز ادا کرنے کی اجازت دی گئی۔پولیس نے بتایا کہ وادی کے کسی بھی حصے میں اتوار کو کرفیو یا پابندیاں نافذ نہیں رہیں، البتہ سیکورٹی فورسز کی تعیناتی جاری رکھی گئی ہے۔ حریت کانفرنس کے دونوں دھڑوں کے سربراہان سید علی گیلانی و میرواعظ مولوی عمر فاروق اور جے کے ایل ایف چیئرمین محمد یاسین ملک نے وادی میں جاری ہڑتال میں پہلے ہی 10 نومبر تک توسیع کا اعلان کر رکھا ہے۔تاہم انہوں نے ہڑتال میں اتوار کو شام چار بجے سے پیر کی صبح سات بجے تک ڈھیل کا اعلان کیا تھا۔ ہڑتال کے باوجود سری نگر کے سیول لائنز میں ہر اتوار کو لگنے والا سنڈے مارکیٹ لگ گیا تھا جس میں سینکڑوں کی تعداد میں چھاپڑی فروشوں نے مختلف اشیاء فروخت کے لئے سجارکھی تھی۔ تاہم پبلک ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی کی وجہ سے وادی کے اضلاع سے تعلق رکھنے والے لوگ اس مشہور سنڈے مارکیٹ تک نہیں پہنچ سکے۔ سیول لائنز میں دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر پبلک ٹرانسپورٹ کی آواجاہی معطل رہی۔تاہم نجی گاڑیوں کی ایک اچھی خاصی تعداد چلتی ہوئی نظر آئی۔ سیول لائنز کے مختلف علاقوں بشمول مولا نا آزاد روڑ، ریذیڈنسی روڑ ، مائسمہ اور دیگر علاقو ں میں سیکورٹی فورسز اور ریاستی پولیس کے اہلکاروں کی بڑی جمعیت تعینات رکھی گئی تھی۔ ایسی ہی صورتحال بتہ مالو، ہری سنگھ ہائی اسٹریٹ، ڈلگیٹ اور گونی کھن میں بھی نظر آئی۔ بالائی شہر کی صورتحال میں بھی کوئی بڑی تبدیلی نظر نہیں آئی جہاں کاروباری سرگرمیاں بدستور مفلوج رہیں جبکہ سڑکوں پر پبلک ٹرانسپورٹ کی آواجاہی معطل رہی۔بالائی شہر میں بھی امن وامان کی صورتحال کو بنائے رکھنے کے لئے سیکورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات رکھی گئی ہے۔ شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ سے موصولہ ایک رپورٹ کے مطابق ضلع بھر میں معمول کی زندگی آج بھی متاثر رہی۔ ضلع میں دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر پبلک ٹرانسپورٹ کی آواجاہی معطل رہی۔پرانے قصبے کو سیول لائنز کے ساتھ جوڑنے والے پلوں پر سیکورٹی فورسز کی اضافی نفری بدستور تعینات رکھی گئی ہے۔ شمالی کشمیر کے دوسرے حصوں بشمول کپواڑہ، ہندواڑہ، بانڈی پورہ، اجس، پٹن اور پل ہالن میں بھی مکمل ہڑتال رہی۔ جنوبی کشمیر کے اضلاع اننت ناگ، کولگام، پلوامہ اور شوپیان سے موصولہ اطلاعات کے مطابق ان اضلاع میں آج مسلسل121 ویں دن بھی مکمل ہڑتال رہی۔ان اضلاع میں تجارتی سرگرمیاں بدستور ٹھپ ہیں جبکہ سڑکوں پر پبلک ٹرانسپورٹ کی آمدورفت معطل ہے۔ وسطی کشمیر کے بڈگام اور گاندربل اضلاع سے بھی ایسی  ہی  اطلاعات موصول ہوئیں۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/b0hn8

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے