Breaking News
Home / اہم ترین / این ڈی ٹی وی کے خلاف فیصلہ سے حکومت کی تاناشاہی بے نقاب : مولانا ارشد مدنی کا بیان

این ڈی ٹی وی کے خلاف فیصلہ سے حکومت کی تاناشاہی بے نقاب : مولانا ارشد مدنی کا بیان

نئی دہلی 6 ؍نومبر(ہر پل نیوز ایجنسی):جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے نیوز چینل این ڈی ٹی وی پر حکومت کے ذریعے ایک دن کی پابندی عاید کئے جانے کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے اظہار رائے کی آزادی کی خلاف ورزی اور جمہوریت پر حملہ قرار دیا ہے ۔ مولانا مدنی نے کہاکہ غیر جانبدارانہ، ایماندارانہ اور متوازن خبریں اور رپورٹیں نشرکرنا این ڈی ٹی وی کی پہچان ہے ۔این ڈی ٹی وی نے بہت سے مواقع پر ملک کے کمزور طبقات، اقلیتوں اور دلتوں کے حقوق کے لئے آواز بلند کی ہے اور حکومت کو آئینہ دکھایا ہے۔ حال ہی میں جب بہت سے نیوز چینل بھوپال انکائونٹر پر شیو راج چوہان سرکارکی واہ واہ میں مصروف تھے تب این ڈی ٹی وی نے بہت ہی جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ا س انکائونٹر کی خامیوں اورکمزوریوں کو اجاگر کرتے ہوئے واضح کر دیا تھا کہ اس انکائونٹر کے تعلق سے سماج کے ایک طبقہ کی جانب سے اٹھائے جا رہے سوالات غلط نہیں ہیں اور یہ انکائونٹر شک کے دائر ے میں ہے۔مولانا مدنی نے کہاکہ حالانکہ مودی حکومت نے این ڈی ٹی وی کے خلاف یہ فرمان پٹھان کوٹ دہشت گردانہ حملہ کی رپورٹنگ کے تعلق سے جاری کیاہے لیکن ملک کا ذی ہوش طبقہ اس بات کواچھی طرح سمجھ رہا ہے کہ اس کارروائی کے پیچھے حکومت کی منشا ء کیا ہے اور وہ کس طرح اپنے خلاف اٹھنے والی ہر ایک آواز کو طاقت سے دبادینے پر آمادہ ہے۔مولانا مدنی نے کہا کہ میڈیا جمہوریت کا چوتھا ستون ہے اور اگر ملک کا میڈیا کمزور ہوا تو یہ جمہوریت کے لئے بے حد خطرناک ہوگا اور ملک میں تاناشاہی کو فروغ حاصل ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ افسو س کی بات ہے کہ جولوگ ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے لئے 40سال گذر جانے کے باوجود آنجہانی اندرا گاندھی کونشانہ بنانے سے نہیںچوکتے اب خود بھی اسی راہ پر چل پڑے ہیں۔ مودی حکومت کا یہ فیصلہ یقینی طور سے ملک کو ایمرجنسی کی جانب لے جانے والاہے ۔ ایسے وقت میں جب ملک کا زیادہ تر میڈیا حکومت کی ہاں میں ہاں ملانے اور پسماندہ طبقات واقلیتوں باالخصوص مسلمانوں کی آواز کودبا کر حکومت کی منشا کو پورا کرنے میں مصروف ہے ،مظلوموں اور اقلیتوں کے حق کے لئے آواز اٹھانے والے ٹی وی چینل این ڈی ٹی وی پر پابندی بھلے ہی وہ ایک دن کے لئے ہی ہو،باعث تشویش ومذمت ہے۔ ایسے میں ملک کی جمہوریت اور اظہار رائے کی آزادی کو برقرار رکھنے کے لئے حکومت کے ا س فیصلے کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/YBUJD

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے