Breaking News
Home / اداریہ / ا لوداع 2018

ا لوداع 2018

دوہزار اٹھارہ کا کیلنڈر دیواروں سے اترنے کو ہے ، آج شام کو جب سورج غروب ہوا تو کئی دلدوز یادیں اپنے پیچھے چھوڑ گیا ، گزار ہوا سال کچھ ہی گھنٹوں میں ماضی کی تاریخ کا حصہ بنے گا ۔ ایام گزشتہ پر سر سری نظر ڈالی جائے تو گزشتہ برسوں کی طرح 2018 بھی کچھ تلخ یادوں کے ساتھ رخصت ہوا ، اس سال ہم نے اپنے کئی چاہنے والوں کو نم آنکھوں سے رخصت کیا تو کئی نوزائیدہ بچوں کی آمد پر خوشی کا اظہار ، کئی رشتے بنتے اور بگڑتے دیکھے ،کسی کو کاروبار میں ترقی ہوئی تو کسی نے اعلی تعلیم حاصل کر کے کمال کیا ۔ ملکی اور عالمی سطح پر ملت اسلامیہ کو مثبت منفی دونوں باتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ خیر جو کچھ بھی ہوا وہ ماضی کی تاریخ کا حصہ بنا۔ 2018 وطن عزیزمیں مسلمانوں کے لئے بڑا آزمائشی دور رہا ، بر سر اقتدار طاقتوں کے ذریعے مسلمانوں کو ان کی شریعت پر عمل کرنے سے روکنے کے لئے طلاق ثلاثہ کا معاملہ اٹھا یا گیا، وہیں ماب لنچگ اور گئو کشی کے نام پر کئی لوگوں نے اپنی جانیں گنوائیں ۔ ملک کے معاشی اور اقتصادی حالات ، بڑھتی ہوئی مہنگائی ، عدم برداشت کے واقعات ، سیاسی اتھل پتھل ، اقلیتوں اور دلتوں کے ساتھ ناانصافی ، حق کی آواز دبانے کی کوشش ، جمہوری اداروں میں حکومت کی مداخلت ، مختلف ریاست کے انتخابی نتائج وغیرہ سب کچھ تاریخ کا حصہ بن گئے ۔ دوہزار چودہ سے بر سر اقتدار بی جے پی کے انتخابی وعدے اب قصہ پارینہ بن گئے ہیں اور لوگ اب چار سال مایوسی اور گھٹن کی کیفیات میں گزار کردو ہزار انیس کی آمد کا انتظار کر رہے ہیں ۔کیونکہ اب تک کی موجودہ حکومت کی کارکردگی دیکھ کر یہ واضح ہو چلا ہے کہ اس حکومت کے پاس نعرے زیادہ اور بصیرت کم بلکہ نہ کے برابر ہے ۔عوام کو لبھانے کی ترکیبیں تو زیادہ ہیں مگر محسوس یہ ہورہا ہے کہ ان کے پاس عوامی فلاح کےلئے ٹھوس اقدامات کی کمی ہے ، نمائشی پیش رفتوں اور انتخابی مفادات کی آڑ میں ملک و قوم کی تعمیر کا جذبہ چھپ گیاہے ۔ ایسے میں لوگوں کو 2019 کے لوک سبھا انتخابات کا انتظار ہے کہ شاید کوئی بڑی تبدیلی آئے اور خوشحالی اور امن و امان کی ان کی امیدیں بر آئے ۔ ویسے یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ ناانصافیاں بغاوت کو جنم دیتی ہیں ۔ اور اس تلخ سچائی کو کسی طور فراموش نہیں کیا جسا سکتا۔ہمارے ملک میں ارباب اقتدار کےذریعہ ناانصافی ،اور منافقت کے اس رویے میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے ایسے میں ارباب مجاز کو یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ معصوم عوام کا استحصال کر کے زبانی جمع خرچی اور پرکشش وعدوں کے ذریعہ انہیں جس طرح بے وقوف بنایا جا رہا ہے اس کی رفتار پر اب بریک لگے گا۔اورعام آدمی جس دن ہوش میں آئے گا تو اس کے بڑھتے قدم کو حکمراں طاقتیں کبھی روک نہیں پائیں گی ۔ ویسے بھی مہنگائی ، عوام مخالف من مانی فیصلے ، اور نظم و نسق پر ٹھیک طرح سے قابو پانے میں حکومت کی ناکامی جیسی کئی باتوں سےعام آدمی کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیاہے ، ان حالات میں دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے آقاؤں کے خلاف نفرت کے عوامی جذبات بڑی تیزی سے فروغ پا رہے ہیں ۔ ایسے حالات میں حکمراں طبقے کو نوشتہ دیوار پڑھ لینا چاہئے کیونکہ اگر یہ سلسلہ اسی رفتار سے جاری رہا تو پھر ’’ بھولے بھالے ‘‘ عوام حکمرانوں کو آنے والے دنوں میں اچھی طرح سبق سکھائیں گے ۔

ابھی نیا شمسی سال شروع ہوگا تو ہم امید کرتے ہیں کہ آنے والے سال میں ہمارا ملک خوشخالی ،ترقی اور امن و امان کے دن دیکھے گا جسکی یاد اہل وطن کو پچھلے چار برسوں سے کچھ زیادہ ہی ستا رہی ہے ۔ دعا ہے کہ آنے والا سال 2019 ملک کے باشندگان کے ساتھ تمام عالم اسلام کے لئے باعث چین بنے اور ماضی کی طرح تلخ یادیں ہمارا مقدر نہ بنے ۔ اس دعا کے بعد احتساب نفس کی دعوت دیتے ہوئے ہم اس نئے شمسی سال کا استقبال کرتے ہیں ۔(سالک ندوی)

The short URL of the present article is: http://harpal.in/iE3no

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے