Breaking News
Home / اہم ترین / بابری مسجد معاملہ: اڈوانی،جوشی سمیت کئی لیڈروں پر چل سکتا ہے مقدمہ: سپریم کورٹ کا اشارہ

بابری مسجد معاملہ: اڈوانی،جوشی سمیت کئی لیڈروں پر چل سکتا ہے مقدمہ: سپریم کورٹ کا اشارہ

نئی دہلی(ہرپل نیوز،ایجنسی)6مارچ:سپریم کورٹ نے اتر پردیش کےایودھیا واقع متنازعہ ڈھانچے کو تباہ کرنے کےکیس کی سماعت دو الگ الگ عدالتوں میں کرنے کی بجائے ایک جگہ کرنے کا آج اشارہ دیا۔ عدالت عظمی نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر لیڈر لال کرشن اڈوانی، سابق وزیر اعلی کلیان سنگھ، مرلی منوہر جوشی، مرکزی وزیر اوما بھارتی اور دیگر رہنماؤں کے خلاف مجرمانہ مقدمہ چلائے جانے کے بھی اشارے  دیے ہیں۔ جسٹس پناكي چندر گھوش اور جسٹس روهگٹن ایف نریمن کی بنچ مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) اور حاجی محبوب احمد کی درخواست پر سماعت کر رہی ہے۔

سماعت کے دوران عدالت عظمی نے سی بی آئی سے پوچھا کہ مندرجہ بالا رہنماؤں کے خلاف الہ آباد ہائی کورٹ نے جب مجرمانہ سازش رچنے کی دفعہ خارج کی تھی تو ضمنی چارج شیٹ داخل کیوں نہیں کی گئی۔ عدالت نے کہا کہ صرف تکنیکی بنیاد پر کسی کو راحت نہیں دی جا سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی بنچ نے یہ بھی پوچھا کہ معاملے کی سماعت دو الگ الگ عدالتوں میں کرنے کے بجائے ایک ہی جگہ کیوں نہیں کی جا سکتی؟ عدالت نے کہا کہ رائے بریلی میں چل رہی سماعت کو لکھنؤ منتقل کیوں نہ کر دیا جائے، کیونکہ اس سے منسلک ایک معاملہ کی سماعت پہلے ہی وہاں جاری ہے۔ کورٹ نے معاملے کی اگلی سماعت 22 مارچ کو مقرر کی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ ایودھیا میں متنازعہ ڈھانچہ منہدم کئے جانے کے بعد مسٹر اڈوانی، ریاست کے سابق وزیر اعلی کلیان سنگھ، مسٹر جوشی، محترمہ بھارتی اور بی جے پی اور وشو ہندو پریشد کے کئی لیڈروں سے مجرمانہ سازش رچنے کے معاملہ کو ہٹا لیا گیا تھا۔ اس فیصلے کے خلاف عدالت عظمی میں اپیل کی گئی ہے، جس کی سماعت چل رہی ہے۔ پٹیشن میں الہ

آباد ہائی کورٹ کے 20 مئی 2010 کے حکم کو مسترد کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ہائی کورٹ نے خصوصی عدالت کے فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے تعزیرات ہند (آئی پی سی) کی دفعہ 120 بی ( مجرمانہ سازش) ہٹا دیا تھا۔ گزشتہ سال ستمبر میں سی بی آئی نے عدالت سے کہا تھا کہ وہ اپنی پالیسی کا تعین خود کرتی ہے اور نہ ہی وہ کسی سے متاثر ہوتی ہے نیز سینئر بی جے پی لیڈروں کے خلاف مجرمانہ سازش رچنے کے الزامات ہٹانے کی کارروائی اس کے کہنے پر نہیں ہوئی ہے۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/uvjIn

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے