Breaking News
Home / اہم ترین / بنگلورنارتھ میں غیر قانونی لے آؤٹس کو ای کھاتہ جاری 300؍کروڑ سے زائد کی بدعنوانی میں ملوث 15؍ ملازمین برطرف

بنگلورنارتھ میں غیر قانونی لے آؤٹس کو ای کھاتہ جاری 300؍کروڑ سے زائد کی بدعنوانی میں ملوث 15؍ ملازمین برطرف

بنگلورو(ہرپلنیوز، ایجسنی)۔10؍دسمبر شہر میں کروڑوں کی جائیداد ہیں جن کے لئے بی کھاتہ جاری کئے گئے ہیں۔ جبکہ رجسٹریشن کے بعد ان کاکھاتہ رد کردیاگیا ہے۔ جس کی وجہ سے نہ صرف حکومت کو نقصان ہوا ہے بلکہ جائیداد مالکان بھی اس سے پریشان ہیں۔ اس سلسلہ میں ریاستی حکومت نے وظیفہ یاب آئی اے ایس افسر آر بی اگوا نے کی قیادت میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی تاکہ وہ تحقیقاتی رپورٹ پیش کریں۔ ان خیالات کا اظہار اخباری نمائندوں سے بات چیت کے دوران وزیر برائے دیہی ترقیات وپنچایت راج ایچ کے پاٹل نے کیا۔ انہو ں نے کہا کہ کمیٹی نے اپنی رپورٹ پیش کردی ہے۔ جس میں ملزمین کی نشاندہی کے ساتھ ان کے خلاف کارروائی کی سفارش بھی کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ان تمام ملزمین کے خلاف سخت کارروائی کرے گی۔ فی الحال ان میں سے اہم ملزمین کو ملازمت سے معطل کردیا گیا ہے۔ بنگلور نارتھ تعلق کے پنچایت ایگزی کیٹیو افسر ایس آر بابو، گرام پنچایت کے صدر شیوشنکر پی ڈی او ، ایس وی وینکٹ رنگن ، سکریٹری ایم این پروین ڈاٹا اینٹری آپریٹرس کے نام بھی شامل ہیں۔ مسٹر پاٹل نے بتایا کہ ہرالی چکن ہلی میں گرام پنچایت کے صدر مہالکشمی ، گریپا ، مارنہلی میں شوبھا ،راج شنکر، باگلور میں سبیا ، نریندربابو ، ہسرگٹہ میں ایس نارائن ایس ایس گریش اور گریپا کے نام شامل ہیں جنہو ں نے ای کھاتہ میں بدعنوانی کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس سے جملہ 6510؍افراد متاثر ہوئے ہیں۔ تمام کا تعلق بنگلورنارتھ تعلق سے ہے۔ اس کے لئے 300؍ کروڑ روپئے کا لین دین کیاگیا ہے۔ دستاویزات کے سلسلہ میں مسٹر پاٹل نے بتایا کہ فارم 9؍تمام سائٹ مالکان کو جاری کیاگیا ہے۔ حالانکہ یہ سب غیر قانونی لے آؤٹس ہیں۔ جیسے ہی زمین رجسٹریشن کی کارروائی مکمل ہوئی اس کے فوراً بعد گرام پنچایت نے فارم 11بی جاری کرنے کے بجائے انہیں فارم 9جاری کیا گیا۔ جبکہ یہ فارم صرف قانون کے دائرے میں تیار کئے گئے لے آؤٹس کے سائٹ مالکان کو جاری کیا جاتا ہے۔ مسٹر پاٹل نے اخباری کانفرنس کے دوران کہا کہ اس میں کروڑوں کی بدعنوانی کی گئی ہے۔ اعداد وشمار کے مطابق لگ بھگ 300-400؍ کروڑ روپئے کی بدعنوانی کی گئی ہے۔ اس کے لئے ذمہ دار تمام 15؍ ملازمین کو حکومت نے ملازمت سے برطرف کردیا ہے۔ انہو ں نے بتایا کہ لینڈ ڈیولپرس ،سب رجسٹرار ، پنچایت صدر ، ،پنچایت ڈیولپمنٹ افسران اور سکریٹریز ایک دوسرے کے ساتھ مل کر اس بدعنوانی کو انجام دے رہے تھے۔ اخباری نمائندو ں کو یقین دہانی کراتے ہوئے انہو ں نے کہا کہ اس بدعنوانی سے جڑے تمام افراد کے خلاف کریمنل مقدمہ دائر کیا جائے گا۔ کمیٹی کی تشکیل کے بارے میں انہو ں نے بتایا کہ اس بدعنوانی کی تحقیقات کے لئے وظیفہ یاب افسر کی قیادت میں کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جنہو ں نے اپنی ذمہ داری بحسن خوبی انجام دی ہے۔ جبکہ اسی سلسلہ میں ایک دوسری کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ اس کی قیادت وظیفہ یاب آئی اے ایس افسر گوپال کرشنا گوڈا کررہے ہیں۔ انہیں ہدایت دی گئی ہے کہ اس سلسلہ میں مزید معلومات حاصل کرکے ان تمام6510؍سائٹ مالکان کی تفصیلات بھی فراہم کریں۔ حکومت ان تمام نکات پر غور کرے گی اور کمیٹی کی تمام سفارشات پر عمل آوری کیلئے احکامات جاری کئے جائیں گے۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/uxqMj

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے