Breaking News
Home / اہم ترین / بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے ایک اورقائد کو دی جائے گی پھانسی۔میر قاسم کی سزائے موت کا فیصلہ برقرار

بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے ایک اورقائد کو دی جائے گی پھانسی۔میر قاسم کی سزائے موت کا فیصلہ برقرار

جماعت اسلامی نے بنگلہ دیش کی سپریم کورٹ کے فیصلے کوکیا مسترد۔ آج بدھ کو ملک گیرہڑتال۔

(ڈھاکہ،ایجنسی) 30اگست : بنگلہ دیش کیسپریم کورٹ نے 1971ء کی جنگ آزادی کے دوران جنگی جرائم کے الزام میں جماعت اسلامی کے ایک اور رہنما میر قاسم علی کی سزائے موت کے فیصلے کو برقرار رکھا ہے جس کے بعد ان کی اس سزا پر کسی بھی وقت عملدرآمد کیا جا سکتا ہے۔جنگی جرائم کے مقدمات کے لیے قائم خصوصی ٹربیونل نے انھیں نومبر 2014ء میں سزائے موت سنائی تھی جس کے خلاف انھوں نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔63 سالہ میر قاسم جماعت اسلامی کو مالی وسائل مہیا کرنے میں کلیدی کردار کے حامل ہیں اور ان پر الزام ہے کہ وہ 1971ء کی جنگ کے دوران قتل، اغوا، تشدد اور مذہبی منافرت کو ہوا دینے میں ملوث ہیں۔اٹارنی جنرل محبوب عالم نے ڈھاکا میں صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ وہ اس عدالتی فیصلے کا دفاع کرتے ہیں اور اگر صدر کی طرف سے معافی نہیں دی جاتی تو اب کسی وقت بھی عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کیا جا سکتا ہے۔  سپریم کورٹ نے چونسٹھ سالہ قاسم علی کی سزائے موت برقرار رکھنے کا حتمی فیصلہ ایک ایسے وقت میں کیا ہے، جب ڈھاکا حکومت اسلامی فکر کے حاملین خلاف اپنی کارروائیوں میں تیزی لا چکی ہے۔ یکم جولائی کو ڈھاکا کے ایک مقبول کیفے پر ہونے والے حملے کے بعد سے بنگلہ دیشی پولیسایسے لوگوں کے خلاف کارروائیوں کا آغاز کر چکی ہے۔ 

یہ امر اہم ہے کہ سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ نے قاسم علی کی اپیل ایک ایسے وقت میں مسترد کی ہے، جب گزشتہ روز ہی امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے اپنے اولین دورہ بنگلہ دیش کے دوران کہا تھا کہ ڈھاکا حکومت انسانی حقوق کی صورتحال کو بہتر بنائے۔

میر قاسم کے وکلائے دفاع کا کہنا ہے کہ صدر سے رحم کی اپیل کرنے کا فیصلہ ان کے موکل اور ان کے اہل خانہ ہی کریں گے۔جماعت اسلامی نے عدالتی فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے آج بدھ کو ملک گیر ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ خیال رہے کہ وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے دسمبر2010ء میں خصوصی ٹربیونل تشکیل دیا تھا جو اب تک متعدد افراد کو سزائے سنا چکا ہے۔2013ء کے بعد اب تک جماعت اسلامی کے چار اہم رہنماؤں بشمول مطیع الرحمن نظامی، جماعت کے کئی ذمہ داران کی سزائے موت پر عملدرآمد کیا جا چکا ہے۔انسانی حقوق کی مقامی و بین الاقوامی تنظیموں کی طرف سے خصوصی ٹربیونل کی کارروائی کو انصاف کے بین الاقوامی معیار کے منافی قرار دیا جا چکا ہے جب کہ حزب مخالف اسے حکومت کی طرف سے سیاسی حریفوں کو انتقام کا نشانہ بنانے کے مترادف قرار دیتی ہے۔تاہم حکومت کا موقف ہے کہ وہ ملک کی آزادی کے لیے لڑی جانے والی جنگ کے دوران ہم وطنوں کے خلاف بڑے پیمانے پر تشدد اور دیگر جرائم کے مرتکب افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانا چاہتی ہے۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/ZXQCT

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے