Breaking News
Home / اہم ترین / بھٹکل سے قریب ہوناور اورکمٹہ کے بعد اب سرسی میں حالات بگاڑنے کی کوشش۔ انتظامیہ حالات کو قابو کرنے میں سرگرم ۔ افواہیں پھیلانے والوں پر خاص نظر

بھٹکل سے قریب ہوناور اورکمٹہ کے بعد اب سرسی میں حالات بگاڑنے کی کوشش۔ انتظامیہ حالات کو قابو کرنے میں سرگرم ۔ افواہیں پھیلانے والوں پر خاص نظر

ہوناور،کمٹہ(ہرپل نیوز)12ڈسمبربھٹکل سے قریب ہوناور میں گزشتہ دنوں ہونے والی ایک وارادات کے بعد ہوئے فرقہ وارانہ تشدد کی آگ ساحلی کرناٹکا کے اتر کنڑا ضلع کے بیشتر مقامات میں پھیل گئی ہے ۔ گزشہ دنوں ہوناور کے بعد اب کمٹہ اور سر سی میں بھی تشدد کے واقعات رونما ہو ئے ہیں ۔ اس معاملہ میں پولیس نے ہوناور میں اکتالیس افراد کو حراست میں لیا ہے جن میں انتیس مسلم نوجوان شامل ہیں ۔ واقعہ کے دو روز بعد ایک نوجوان کی لاش ملنے کے بعد علاقے میں سنسنی پھیل گئی ۔ ایک نوجوان کی موت کے بعد علاقہ میں فرقہ پرستوں نے بند کی کال دی تھی جو پوری طرح کامیاب نہیں ہو سکی جس کے بعد دکانوں اور مکانوں پر پتھراو کی خبریں بھی موصول ہوئیں ۔ اس بیچ تشدد پر اُترآئے احتجاجیوں نے انسپکٹر جنرل آف پولس کی کارنذر آتش کی جس کے بعد کئی گھنٹوں تک ہائی وے پر سواریوں کی آواجاہی متاثر رہی۔ اور پولیس کی جانب سےلاٹھی چارج اور امتناعی احکامات نافذکرنے کے بعد حالات کو قابو میں کیا جا سکا۔ واقعہ کو لیکر بھٹکل میں بی جے پی اورسنگھ پریوار نے احتجاج کر تے ہوئے سرکل پولیس انسپکٹر کے تبادلے کا مطالبہ کیا ہے ۔ ذرائع کے مطابق واقعہ کے بعد ریاستی وزیر روشن بیگ نے وزیر اعلی سے ملاقات کی جس کے بعد سی ایم نے ضلع انچار ج وزیر کو حالات کو بہتر بنانے اور اقلیتوں میں پائے جانے والے خوف کو دور کرنے کی ہدایت دی ۔

کل کے واقعہ کے بعد بتایا جا رہا ہے کہ فی الحال کمٹہ کے حالات قابو میں ہیں اور مغربی زون کے آئی جی پی ہیمنت نمبالکر نے پولیس کی گاڑیاں نذآتش کئے جانے کے معاملہ کو لیکر شرپسندوں کے خلاف سخت کارروائی کا انتباہ دیا ہے ۔گذشتہ چار دنوں سے حالات میں پائی جانے والی کشیدگی کے بعد ضلع انتظامیہ نے سوشیل میڈیا کے ذریعہ افواہیں پھیلانے والوں کی خلاف سخت قانونی کارروائی کرنے کا اانتباہ دیاہے ۔

کل ملا کر مانا جا رہا ہے کہ آنے والے چند مہینوں میں ریاست کرناٹک کے اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں جس کے لئے فرقہ پرست عناصر ماحول کو گرم رکھنے اور فرقہ واریت کو ہوا دینے کی کوشش میں لگے ہو ئے ہیں

The short URL of the present article is: http://harpal.in/YVUHU

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے