Breaking News
Home / اہم ترین / بھٹکل میں بڑھتے ہوئے حادثات کے بعد ’’روڈ سیفٹی‘‘ کا اہم پروگرام۔ نوجوانوں میں بیداری پروگرام ضروری

بھٹکل میں بڑھتے ہوئے حادثات کے بعد ’’روڈ سیفٹی‘‘ کا اہم پروگرام۔ نوجوانوں میں بیداری پروگرام ضروری

بھٹکل : (ہر پل نیوز) ۲۳ِ نومبر : بھٹکل مسلم  یوتھ فیڈریشن کی جانب سے  بھٹکل میں سڑک حادثات  کی بڑھتی ہوئی شرح  کو دیکھتے ہوئے   روڈ سیفٹی کا اہم پروگرام منعقد کیا گیا ۔جس میں بھٹکل کے مختلف محلوں کے نوجوانوں نے شرکت کی ۔پروگرام میں نوجوانوں کو محتاط  ڈرائیونگ کر نے کی ہدایت  دی گئی ۔ اجلاس سے خطاب کر تے ہوئے مقررین نے نو عمر بچوں کے ہاتھوں میں ڈارئیونگ لائنسس کے بغیر گاڑیاں دینے کے رجحان پر  تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے حادثات کی بڑھتی ہوئی شرح کے لئے سب سے بڑی وجہ قرار دیا ۔ بھٹکل کے سب سے بڑے سماجی دارے کے صدر مزمل قاضیا  نے اس قسم کے بیداری پروگرام کے انعقاد پر مسلم یوتھ فیڈریشن کو مبارکباد دی۔ٹرافک سنبھالنے اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لئے ذمہ دار پولیس کا کہنا ہے کہ وہ حادثات پر قابو پانے کے لئے آنے والے دنوں میں اسکولوں اور کالجوں میں بیداری پروگرام کا انعقاد کرے گی ۔  بھٹکل سرکل پولیس  انسپکٹر سریش نائک کا کہنا تھا کہ قانون کا لحاط نہ کر نے والوں کے ساتھ پولیس سخت رویہ اپنائے گی ۔ اجلاس کے منتظمین کے مطابق  فیڈریشن آنے والے دنوں میں ڈپارٹمنٹ کے ساتھ مل کر اس  کام کو بہتر طریقہ پر انجام دینے کی کوشش کر ے گا واضح رہے کہ بھٹکل میں ٹرافک کے بڑھتے ہوئے مسائل کے بعد سن دو ہزار چودہ سے دو ہزار سولہ  اکتوبر تک  پولیس ریکارڈ کے مطابق کل ملا کر ایک سو انتالیس سڑک حادثات ہوئے ہیں جن میں اکیس لوگوں نے اپنی جانیں گنوائیں ہیں جبکہ ایک سو اکیاسی لوگ شدید زخمی حالت میں پائے گئے ہیں ۔ آر ٹی او آفس کے ریکارڈ کے مطابق   بھٹکل میں کل ایک لاکھ سولہ ہزار سات سو ستاسی چھوٹی بڑی گاڑیاں ہیں جن میں صرف بائک کی تعداد   اٹھانوے ہزار نو سو تیس ہے ۔ان اعداد و شمار کے ساتھ روزانہ بیس گاڑیاں رجسٹرڈ ہوتی ہیں جسکے حساب سے ماہانہ چھ سو گاڑیوں  کا اضافہ ہوتا ہے  اس اعتبار سے بھی بھٹکل کرناٹک کے  ضلع اتر کنڑا   میں سب سے زیادہ گاڑیوں والا شہر ہے ۔ ایسےمیں ٹرافک کنٹرول  بھٹکل کا ایک اہم اور سنگین مسئلہ  بن گیاہے ۔  پولیس ، مقامی این جی اوز اور سماجی تنظیمیں سب مل کر ان حالات کا کیسے تدارک کریں گے  یہ دیکھنا اہم ہوگا

The short URL of the present article is: http://harpal.in/lKm7J

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے