Breaking News
Home / اہم ترین / بھٹکل میں تحفظ شریعت اجلاس کی تیاریاں تقریبا مکمل، پرسنل لاءبورڈ کے ذمہ داران ہونگے شریک

بھٹکل میں تحفظ شریعت اجلاس کی تیاریاں تقریبا مکمل، پرسنل لاءبورڈ کے ذمہ داران ہونگے شریک

بھٹکل(ہرپل نیوز،پریس ریلیز)17ڈسمبر:ہمارے ملک ہندوستان کے دستور میں جس طرح تمام باشندوں کو اپنے اپنے دین دھرم پرعمل کرنے کی آزادی حاصل ہے اسی بنیاد پر ذاتی زندگی میں مختلف پرسنل لاء کو متعلقہ قوم یا طبقے کے لئے قانونی حیثیت حاصل ہے۔ یہی کیفیت مسلم پرسنل لاء کی بھی ہے جوقرآن وسنت کی بنیاد پر قائم مسلمانوں کے عائلی قوانین کا مجموعہ ہے۔ایک مسلمان کے ایمان کی بنیاد ہی اس یقین پر قائم ہے کہ اس کا جینا اور مرناصرف اور صرف اللہ کے لئے ہے اور وہ اپنے ہر عمل میں اللہ کے حکم کا تابعدار ہے۔اسی لئے مسلمانوں کے لئے اپنی ذاتی زندگی کے مسائل میں شرعی قوانین پر عمل کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔ لیکن سچائی یہ بھی ہے کہ ہمارے ملک میں یکساں سول کوڈ یا مسلم خواتین پر زیادتی کے نام پر وقفے وقفے سے مسلم پرسنل لاء میں مداخلت کی کوشش سرکاری سطح پر یا عدالتوں کی طرف سے کی جاتی ہے جو کسی بھی قیمت پر مسلمانوں کے لئے قابل قبول نہیں ہے۔آج پھر ایک بار طلاق اور مسلم خواتین پر ظلم و زیادتی کے نام پر معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچایا گیا ہے ۔ دوسری طرف سرکاری طور پر لاء کمیشن کی طرف سے یکساں سول کوڈ کے لیے راستہ ہموار کرنے کی مہم بھی مسلم پرسنل لاء کو نشانے پر رکھ کر کی جارہی ہے۔ حالانکہ یکساں سول کوڈ کا کوئی خاکہ ابھی تک کسی بھی سطح پر حکومت نے پیش نہیں کیا ہے جسے دیکھے بغیر قبول یا رد کرنے کا فیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔اور اگر یکساں سول کوڈ بنتا بھی ہے تو یہ صرف مسلمانوں ہی کا مسئلہ نہیں رہتا بلکہ ایسے تمام طبقوں ،برادریوں اور قبائل کا مسئلہ بن جاتا ہے جن کے یہاں ان کے اپنے پرسنل لا ء موجود ہیں۔مگر اشارے صاف مل رہے ہیں کہ سب سے پہلے مسلم پرسنل لاء پر چھری چلانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے ۔چونکہ مسلم پرسنل لاء کی بنیاداسلامی شریعت پر ہے اس لئے مسلمان کسی بھی قیمت پر اس سے دست بردار نہیں ہوسکتے۔ہماری شادی بیاہ، طلاق ، وراثت وغیرہ جیسے قوانین ہماری اپنی قوم کے لئے ہیں اور اس میں مداخلت کرنا یا کسی اور کی مرضی اور منشاء کے مطابق اس میں ترمیم و تنسیخ کرنا نہ کبھی ممکن ہے اور نہ ہمیں منظور ہے۔چونکہ معاملہ زیریں عدالتوں سے ہوتا ہوا سپریم کورٹ تک پہنچ گیا ہے اس لئے قانونی جنگ لڑنے کے لئے قائم مسلم پرسنل لاء بورڈ کے بینر تلے پوری ملت اسلامیہ ہند متحد ہوگئی ہے۔ ہمارا مقصد صرف اور صرف یہ ہے کہ ہمیں اپنے دین کے مطابق زندگی گزارنے کی آزادی جو دستور ہند میں دی گئی ہے اس کو سلب کرنے کی کوشش نہ کی جائے اور کسی بھی دوسری طاقت کی مداخلت سے ہماری شریعت کا تحفظ کیا جائے۔پورے ملک میں مسلمان تحفظ شریعت اورمسلم پرسنل لاء بورڈ کی حمایت میں صف بند ہوگئے ہیں اور اپنی یہی آواز سرکار اور عدلیہ تک پہنچانے کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔اسی سلسلے کی کڑی کے طور پرمجلس اصلاح وتنظیم بھٹکل کے تحت مورخہ 21؍دسمبر کوشب 8.30بجے جامعہ اسلامیہ کے احاطے میں ایک عظیم الشان جلسہ بعنوان تحفظ شریعت منعقد ہونے جارہا ہے جس میں گوا سے لے کر منگلورو تک کی مسلم جماعتوں اور اداروں کے نمائندے اور عوام ہزاروں کی تعداد میں شرکت کررہے ہیں۔ مسلم پرسنل لاء بورڈکے اعلیٰ مرکزی قائدین جیسے مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی (صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ)، مولانا ولی رحمانی جنرل سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ، مولانا واضح رشیدی ندوی، مولانا ڈاکٹر سعیدالرحمن اعظمی، مولانا سید سلمان ندوی، مولانا توقیر رضا خان، جناب کاکا سعید، جناب مولانا خالد سیف اللہ رحمانی ، جناب سعادت اللہ حسینی ، مولانا خالد ندی غازیپوری مولانا بلال عبد الحئی ندوی ، مولانا تنویر ہاشمی وغیرہ اس جلسے میں شریک ہونگے۔ مجلس اصلاح وتنظیم کی طرف سے جاری پریس ریلیز میں اس جانکاری کے بعد میڈیا کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کمیٹی کے کنوینر مولانا عبد العلیم قاسمی نے اجلاس کے لئے تمام تیاریاں مکمل ہونے کی بات کہی ۔ اس پریس میٹ میں تنظیم کے جنرل سکریٹری الطاف کھروری ، نائب صدر جعفر محتشم ، مولانا عبد الرقیب ایم جے ندوی ، صدیق ڈی ایف  سمیت میڈیا واچ کمیٹی کے کنوینر ڈاکٹر حنیف شباب وغیرہ موجود تھے

The short URL of the present article is: http://harpal.in/p8FFg

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے