Breaking News
Home / اہم ترین / بھگوا دہشت گردی کے وجود پرتامل فلم اداکار کمل ہاسن کی حق بیانی۔ بھگواخیمہ چراغ پا۔ ہاسن نے کہا کہ کسی بھی طور پر ہندو آتنک واد سے انکار نہیں کیا جاسکتا

بھگوا دہشت گردی کے وجود پرتامل فلم اداکار کمل ہاسن کی حق بیانی۔ بھگواخیمہ چراغ پا۔ ہاسن نے کہا کہ کسی بھی طور پر ہندو آتنک واد سے انکار نہیں کیا جاسکتا

چنئی( ہرپل نیوز، ایجنسی)3 نومبر۔سینئر اداکار اور تامل فلموں کے سپر سٹار کمل ہاسن نے انتہا پسند ہندو تنظیموں کے منہ پر طمانچہ مارتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی اور انتہا پسند ی ہندؤں کے درمیان بھی موجود ہے، ہندو اس سے انکار نہیں کر سکتے۔ تامل میگزین ’’ آنند اوکٹن‘‘ کیلئے لکھے گئے مضمون میں 62سالہ اداکار نے کہا کہ 'آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہندو دہشت گردی موجود نہیں ہے پہلے ہندو شدت پسند بات چیت کرتے تھے کرتے تھے اب تشدد کرتے ہیں'۔اپنے کالم میں کمل ہاسن نے یہ بھی کہا کہ سچائی کی جیت ہوتی ہے اس بات سے لوگوں کا بھروسہ اٹھ گیا ہے۔انہوں نے لکھا کہ سچائی کی جیت ہوا کرتی تھی لیکن اب طاقت کی جیت ہوتی ہے۔

بھگوا خیمہ میں کھلبلی:کمل ہاسن کے اس کالم پر شدید ردِ عمل سامنے آیا ہے۔ بی جے پی اور دیگر ہندو تنظیمیں کمل ہاسن کے اس بیان سے انتہائی چراغ پا ہو گئی ہیں ۔ بی جے پی لیڈر سبرامنیم سوامی نے اپنے رد عمل میں کہا کہ کمل ہاسن کا ذہنی توازن خراب ہو چکا ہے انہیں پاگل خانے داخل کرا دینا چاہئے۔ اس بیچ ونئے کٹیار اور راکیش سہنا نے مطالبہ کیا کہ کمل ہاسن ہندؤوں کے جذبات مجروح کرنے پر قوم سے معافی مانگیں وہ مسلمانوں کو خوش کر رہے ہیں۔ آر ایس ایس کے راکیش سنہا نے ٹوئٹ کیا 'کمل ہاسن کے اس بیان کا وقت بہت اہم ہے کیونکہ مرکزی حکومت پاپولر فرنٹ آف انڈیا کے خلاف کارروائی کا اشارہ دے رہی ہے تب کمل ہاسن ہندو شدت پسندی کے موضوع کو بیچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ کمل ہاسن سے قبل فلمساز انوراگ کشیپ بھی ہندو دہشت گردی کا موضوع اٹھا چکے ہیں۔ راجستھان کے شہر جے پور میں فلم 'پدما وتی' کے سیٹ پر توڑ پھوڑ اور مار پیٹ کے واقعہ کے بعد انوراگ نے کہا تھا کہ ہندو دہشت گردی ایک حقیقت ہے۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/ulhHN

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے