Breaking News
Home / اہم ترین / بھیما کورے گاؤں معاملہ؛ سماجی کارکنوں کو سپریم کورٹ کا جھٹکا؛ نظر بندی مزید چار ہفتوں تک بڑھادی گئی؛ ایس آئی ٹی سے بھی عدالت کا انکار

بھیما کورے گاؤں معاملہ؛ سماجی کارکنوں کو سپریم کورٹ کا جھٹکا؛ نظر بندی مزید چار ہفتوں تک بڑھادی گئی؛ ایس آئی ٹی سے بھی عدالت کا انکار

نئی دہلی (ہر پل نیوز/ایجنسی)  28/ستمبر۔ بھیما کورے گائوں تشدد معاملے میں نکسلیوں سے رابطہ ہونے کے الزام میں گرفتاری اور پھر نظر بندی کے خلاف سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکنانے والے پانچ سماجی کارکنوں کو آج عدالت نے بڑا جھٹکا دیا ہے۔ عدالت عالیہ نے صاف کہا ہے کہ یہ گرفتاریاں سیاسی تنازعہ  کی وجہ سے نہیں ہوئی ہے۔ عدالت نے ایس آئی ٹی  جانچ کی مانگ کو خارج کرتے ہوئے  سماجی رضا کاروں کی حراست میں  چار ہفتوں  کی توسیع کردی ہے۔ عدالت نے پونا پولس کو جانچ جاری رکھنے کو بھی کہا ہے۔

خیال رہے کہ  پانچ کارکن ورورا رائو، آرون فریرا، ورنان گونسالویز، سُدھا بھاردواج اور گوتم نولکھی کو پہلے گرفتار کیا گیا  پھر گھروں میں نظر بند کیا گیا اب ان کی گرفتاری بھی ہوسکتی ہے۔ ان سماجی رضا کاروں کی فوری رہائی اور اُن کی گرفتاری معاملے میں ایس آئی ٹی جانچ کی مانگ کے لئے رومیلا تھاپر اور دیگر کارکنوں نے سپریم کورٹ میں اپیل کی تھی۔

ملزم  کو اختیار نہیں کہ وہ یہ کہیں کہ کس کے ذریعے جانچ کروانی ہے
سپریم کورٹ نے 2-1 اکثریت سے  دئے فیصلے میں رضاکاروں کی اس دلیل کو خارج کردیا  کہ اُن کی گرفتاری سیاسی تنازعہ کی وجہ سے کی گئی ہے۔ چیف جسٹس دیپک مشرا کے ساتھ ہی جسٹس خانویلکر نے کہا کہ یہ گرفتاریاں سیاسی عدم استحکام  کی وجہ سے نہیں ہوئی ہیں بلکہ  پہلی نظر میں ایسےثبوت ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ ان کا تعلق  پابندی عائد کی گئی ماونوازوں کے ساتھ ہے۔

ٹرائل کورٹ  میں جانے کا اختیار
جسٹس خانیویلکر  نے کہا کہ ملزمین  کو یہ چُننے کا اختیار نہیں ہے کہ معاملے کی جانچ کون سی جانچ ایجنسی کرے، انہوں نے ایس آئی ٹی سے صاف انکار کردیا۔ سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا کہ بھیما کورے گاوں کیس میں گرفتار کئے گئے رضا کار چاہیں تو راحت کے لئے ٹریل کورٹ جاسکتے ہیں۔  اس سے پہلے رضا کاروں کی طرف سے داخل کی گئی عرضی میں اس معاملے کو من گھڑت بتاتے ہوئے ایس آئی ٹی جانچ کی مانگ کی گئی تھی۔

جسٹس چندرچوڑ نے پولیس پر اُٹھائے  سوال 
دوسری طرف، سپریم کورٹ کے ایک جج  جسٹس چندچوڑ کا فیصلہ الگ رہا. انہوں  نے مہاراشٹرا پولس کی چھان بین کے طریقے پر سوال اُٹھائے۔ جسٹس چندرچوڑ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ پانچ ملزموں کی گرفتاری ریاست کے ذریعے اُن کی آواز کو دبانے کی کوشش ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولس نے جس طرح سے لیٹر کو لیک کیا اور دستاویز دکھائے۔ اُس سے مہاراشٹرا پولس کی سرگرمیاں سوالوں کے گھیرے میں آتی ہیں۔ پولس نے عوامی رائے بنانے کی کوشش کی، اس معاملے میں ایس آئی ٹی جانچ کی ضرورت ہے۔ البتہ دیگر دو ججوں نے  ایس آئی ٹی  جانچ کی مخالفت کی تھی اس بنا پر ان کا فیصلہ اقلیت میں رہا۔

یاد رہے کہ بھیما کورے گاوں میں ہوئے تشدد کے سلسلے میں درج  ایف آئی آر کے  نتیجے میں مہاراشٹرا پولس نے پانچ لوگوں کو نکسل لینک کے الزام میں 28 اگست کو گرفتار کیا تھا، اُس کے بعد سے رضاکار نظر بند ہیں۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/IAqkt

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے