Breaking News
Home / اہم ترین / بی جے پی، بی ایس پی اور ایس پی نے باپو کی وراثت کو ٹکڑوں میں تقسیم کردیا

بی جے پی، بی ایس پی اور ایس پی نے باپو کی وراثت کو ٹکڑوں میں تقسیم کردیا

کانگریس نے کہا،سیٹیوں میں اضافہ کیلئے نہیں ،سرکاربنانے کیلئے یوپی الیکشن لڑرہے ہیں

لکھنؤ، 21؍اگست(ہرپل نیوز/آئی این ایس انڈیا)کانگریس جنرل سکریٹری اور پارٹی کی اترپردیش اکائی کے انچارج غلام نبی آزاد نے بی جے پی، بی ایس پی اور ایس پی پرملک کو یکجہتی کی لڑی میں پرونے والی مہاتما گاندھی کی وراثت کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے حکومتیں بنانے کا الزام لگاتے ہوئے آج کہا کہ ان کی پارٹی ریاست کے آئندہ اسمبلی انتخابات میں ملک کے اتحاد کے اصول کے تئیں اپنی وابستگی کو عوام کے سامنے رکھ کر ووٹ مانگے گی۔آزاد نے یہاں نامہ نگاروں سے بات چیت میں کہا کہ گزشتہ 27سالوں کے دوران اترپردیش میں بی ایس پی، ایس پی اور بی جے پی کو کئی بار حکومت بنانے کا موقع ملا، لیکن بدلے میں عوام کو غنڈہ راج، اقربا ء پروری، بدعنوانی اورمایوسی ہی ملی، لیکن ان پارٹیوں نے جو سب سے بڑا گناہ کیا، وہ تھا سماج کی تقسیم۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی، بی ایس پی اور ایس پی نے کبھی مذہب کے نام پر تو کبھی ذات کے نام پر صوبے کو تقسیم کرکے حکومتیں بنائیں۔مہاتماگاندھی، اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی نے ملک کو متحد رکھنے کے لیے قربانیاں دیں ، لیکن ان تینوں پارٹیوں نے ان کی وراثت کو ٹکڑے ٹکڑے کر دی ، اس کے لیے عوام انہیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔آزاد نے کہا کہ کانگریس نے ہمیشہ مل جل کر ملک کے مفاد کے لیے کام کیا۔وہ ریاست میں آج شروع ہو رہی ’27سال یوپی بے حال‘یاتر ا کے ذریعہ لوگوں کو جوڑ کر حکومت بنائے گی۔یاترا میں کانگریس عوام کو یہ پیغام دے گی کہ وہ معاشرے کو توڑ کر نہیں بلکہ جوڑ کر کے ایک کامیاب حکومت بنانا چاہتی ہے۔
آزاد نے کہا کہ ہم 27سال بعد ایک بار پھر اتر پردیش کے اقتدار میں آنے کی کوشش کر رہے ہیں، ہم صرف تعداد بڑھانے کے لیے نہیں، بلکہ حکومت بنانے کے لیے لڑ رہے ہیں۔دہلی کی سابق وزیر اعلیٰ شیلا دکشت کو اتر پردیش اسمبلی انتخابات میں کانگریس کے وزیر اعلیٰ کے عہدے کا امیدوار بنائے جانے کے حق میں دلیل دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ شیلادکشت نے اپنے15سالہ وزارت اعلیٰ کے دور میں دہلی کو ایک ’ماڈل ریاست ‘بنایا، ہم دہلی کی طرح چمکتا ہوا اترپردیش بنانا چاہتے ہیں،یہی وجہ ہے کہ شیلا کو آگے لایا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ پارلیمنٹ کا اہم اجلاس ہونے کی وجہ سے ریاست میں کانگریس کے اتنے پروگرام نہیں ہو سکے، جتنے ہونے چاہیے تھے۔اب اگلے سال کے شروع میں ممکنہ ریاستی اسمبلی انتخابات تک پارٹی کے پروگرام جاری رہیں گے۔آزاد نے بتایا کہ’ 27سال یوپی بے حال ‘یاترا کے پہلے مرحلے میں 10اضلاع کا سفر کیا گیا تھا۔اس بار اس یاترا کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے جس میں آئندہ اکتوبر تک ریاست کے باقی 65اضلاع میں جائیں گے۔ایک حصے کی قیادت شیلا دکشت جبکہ دوسرے کی قیادت پارٹی کے ریاستی صدر راج ببر کریں گے۔پریس کانفرنس میں شیلا دکشت، راج ببر، پارٹی کی اسکریننگ کمیٹی کے صدر نرمل کھتری، تشہیری کمیٹی کے صدر سنجے سنگھ اور کانگریس کے راجیہ سبھا رکن پرمود تیواری بھی اہم طور پر موجود تھے۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/fuoy0

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے