Breaking News
Home / اہم ترین / جھوٹے ثبوتوں کی بنیاد پربے قصورنوجوان عبد الرحمن کوسنائی گئی تھی سزا،گلبرگہ گرینڈ کیس ہائی کورٹ میں اپیل کی بحث مکمل مگر فیصلہ محفوظ

جھوٹے ثبوتوں کی بنیاد پربے قصورنوجوان عبد الرحمن کوسنائی گئی تھی سزا،گلبرگہ گرینڈ کیس ہائی کورٹ میں اپیل کی بحث مکمل مگر فیصلہ محفوظ

hckgul1

بنگلور/ممبئی ،8جون(ہرپل نیوز/ایجنسی)دہشتگردی اور ملک سے بغاوت کے الزام میں گلبرگہ سیشن کورٹ سے پانچ مرتبہ عمر قید کے سزایافتہ عبدالرحمن کے اپیل کی سماعت گزشتہ تین روز سے کرناٹک ہائی کورٹ کے گلبرگہ بینچ پر جاری ہے ،آج دوران سماعت جمعیۃ علماء مہاراشٹرا کی لیگل ٹیم نے کرناٹک ہائی کورٹ کے گلبرگہ بینچ کے روبرو بھی اہم قانونی نکات پر سوالوں اور سپریم کورٹ کے اشاروں کے استغاثہ کے کیس کی ہوا نکال دی اور کورٹ کے سامنے یہ واضح کردیا کہ اس کیس کا نہ صرفSection Ditectiveتھابلکہ عبدالرحمن کی گرفتاری اور ہتھیاروں کی فراہمی کا آزادانہ طور پرچشم دید گواہ نہ ہونے اور برآ مدنی کے گواہوں کا ناقابل بھروسہ ہونے کے ساتھ ساتھ وکیل استغاثہ کی جانب سے دکھائی جارہی گرفتاری کی جانچ سے 15دن قبل سے ہی غیر قانونی ڈھنگ سے بے قصور کی تحویل کو ثابت کیا ۔ مسلسل چل رہی بحث کی تشکیل کے بعد گلبرگہ ہائی کورٹ نے فیصلہ محفوظ کرلیا ہے ۔واضح رہے کہ ممبئی جوگیشوری علاقہ کا رہنے والے بے قصورمسلم نوجوان (عبدالرحمن ) جھوٹے ثبوتوں کی بنیاد پر گلبرگہ کی نچلی عدالت نے پانچ بار عمر قید کی سزا سنائی تھی ،

جن میں ملک کے خلاف جنگ کے الزام میں ایک عمر قید کی سزا ،ملک کے خلاف جنگی ہتھیار اور کارگن فراہم کرنے کے الزام میں دوسری عمر قید ، لوگوں کو جہاد کے لئے اکسانے کے الزام اور ملک کے خلاف ماحول تیار کرنے کے کے الزام میں تیسری عمر قید، اور دیگر دو عمر قیدسزائیں گرینڈ اور ہتھیار کی برآمدنی کی پاداش میں سنائی گئی تھی ۔جمعیۃ علماء مہاراشٹرا نے نچلی عدالت کے اس فیصلے کے خلاف کرناٹک ہائی کورٹ کے گلبرگہ بینچ میں اپیل دائر کی تھی جس کی سماعت گزشتہ تین دنوں سے جاری تھی ،مختلف قانونی نکات پر مشتمل بحث مکمل ہونے کے بعد گلبرگہ ہائی کورٹ نے فیصلہ محفوظ کرلیاہے ۔اس کیس کی پیروی جمعیۃ علماء مہاراشٹرا کے ایڈوکیٹ طہور خان پٹھان اور ایڈوکیت عشرت علی خان کر رہے ہیں ۔جمعیۃ علماء مہاراشٹرا کے محمد ندیم صدیقی نے لیگل ٹیم کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ اعلی کڑی محنت اور عوام کی دعاؤں کے نتیجہ میں اس میں منصفانہ فیصلہ آنے کی امید کی جارہی ہے انہوں نے تمام مسلمانوں سے خصوصی دعاؤں کی اپیل کی ہے۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/eJF4Y

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے