Breaking News
Home / اہم ترین / تاج محل کی خوبصورتی میں داغ لگا رہا ہے گولڈی كارونومس

تاج محل کی خوبصورتی میں داغ لگا رہا ہے گولڈی كارونومس

نئی دہلی۔ تاج محل کی خوبصورتی میں داغ لگ رہا ہے۔ جگہ جگہ سے تاج محل ہرا ہرا نظر آنے لگا ہے۔ گولڈی كارونومس نام کے کیڑے نے تاج کی خوبصورتی سے متاثر ہو کر اس پر ٹھکانا بنا لیا ہے۔ تاج پر فضائی آلودگی کا اثر بھی خاصا دکھائی دینے لگا ہے۔ پی ایم -2.5 ذرات کی مقدار بھی بڑھ گئی ہے۔ تاج پر آلودگی کے بڑھتے ہوئے خطرے کو بھانپتے ہوئے ایک مرکزی ٹیم آج آگرہ پہنچ رہی ہے۔

ماہرین کی مانیں تو تاج محل پر بنے رنگ برنگے منقش پھولوں سے متاثر ہوکر یہ تاج کی دیواروں سے چپک رہا ہے۔ یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے جب اس کیڑے نے تاج محل کو اپنا ٹھکانا بنایا ہو۔ سینٹ جونز کالج آگرہ کے پروفیسر گریش مہیشوری بتاتے ہیں کہ یہ کیڑا جمنا میں پیدا ہوتا ہے۔ جب جمنا میں پانی کی کمی ہو جاتی ہے تو یہ پانی کی کائی میں پنپنے لگتا ہے۔

اب کیونکہ تاج محل پر بہت سارے سبز رنگ کے منقش پھول بنے ہوئے ہیں تو یہ اسی سے متاثر ہو کر تاج محل سے چپک رہا ہے۔ چونکہ اس کائی کو ہی کھاتا ہے تو اس کی بیٹ بھی سبز رنگ کی ہوتی ہے جو تاج محل کو بے رنگ کر رہی ہے۔ ایک جانکار بتاتے ہیں کہ گولڈی كارونومس کے ساتھ ساتھ تاج پر فضائی آلودگی بھی بڑھ رہی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ خطرہ پی ایم-2.5 ذرات کی مقدار بڑھنے سے پیدا ہو رہا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ جمنا میں پانی کی کمی کا ہونا بھی ہے۔

وہیں راجستھان کی جانب سے بھی ہوا کے ساتھ پی ایم -2.5 ذرات تاج محل سے ٹکرا رہے ہیں۔ اگر صرف پیر کی بات کریں تو دوپہر دو بجے پی ایم-2.5 ذرات کی مقدار 348 ایم کیو آئی تھی۔ جبکہ رات آٹھ بجے سڑک پر گاڑیوں کی تعداد بھی کم ہو جاتی ہے تو بھی پی ایم -2.5 کے ذرات کی مقدار 231 ایم کیو آئی تھی۔

تاج پر آلودگی کے خطرے کو دیکھتے ہوئے پہنچ رہی ہے ٹیم

ایک طرف تو گولڈی كارونومس کا خطرہ ہے اور دوسری طرف فضائی آلودگی مسلسل تاج کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ ایک پرانی رپورٹ پر غور کریں تو تحقیقات کے دوران تاج محل پر 55 فیصد مٹی کے ذرات، 35 فیصد براؤن کاربن ذرہ اور 10 فیصد بلیک ذرہ پائے گئے تھے۔ اسی کے بعد سے تاج محل کے ارد گرد کے علاقے میں گوبر کے اپلے جلانے پر پابندی لگا دی گئی تھی۔ بیشک اب یہ اپلے جلنا بند ہو گئے ہوں، لیکن فضائی آلودگی ابھی تک کم نہیں ہوئی ہے۔ اسی کو دیکھتے ہوئے منگل کی دوپہر مرکزی ماحولیات اور جنگلات و موسمیاتی تبدیلی کی وزارت کی ایک ٹیم آگرہ پہنچ رہی ہے۔ ٹیم یہاں مقامی حکام کے ساتھ اس سنگین موضوع پر بحث کرے گی۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/tNzPu

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے