Breaking News
Home / اہم ترین / تاج کے بعداب شھید ٹیپو کے خلاف زعفرانی پارٹی لیڈران کی ہرزہ سرائی ۔ کرناٹک میں بی جے پی لیڈران کی جانب سے ٹیپو جینتی کابائیکاٹ متوقع۔دعوت نامے پرمرکزی وزیراننت کمارکانام شامل کرنے پرنیتا جی چراغ پا۔دعوت نامے سے نام ہٹانےافسران کو ہدایت۔

تاج کے بعداب شھید ٹیپو کے خلاف زعفرانی پارٹی لیڈران کی ہرزہ سرائی ۔ کرناٹک میں بی جے پی لیڈران کی جانب سے ٹیپو جینتی کابائیکاٹ متوقع۔دعوت نامے پرمرکزی وزیراننت کمارکانام شامل کرنے پرنیتا جی چراغ پا۔دعوت نامے سے نام ہٹانےافسران کو ہدایت۔

بنگلورو(ہرپل نیوز، ایجنسی ) 21 اکتوبر۔شمالی کینرا کے ایم پی اور مرکزی وزیر برائے اسکِل ڈیولپمنٹ اننت کمار ہیگڈے نے وزیر اعلیٰ کے سکریٹریٹ اور ریاست کرناٹکا کے متعلقہ افسران کو اپنے پرسنل سکریٹری کے ذریعے ہدایت جاری کی ہے کہ 10نومبر کو سرکاری طور پر منائی جارہی ٹیپو جینتی کے دعوت نامے میں ان کا نام شامل نہ کیا جائے۔ مسٹر اننت کمار ہیگڈے کا موقف یہ ہے کہ وہ ٹیپو کو ہندو مخالف اور کنڑا مخالف مانتے ہیں اس لئے ٹیپو کی جینتی کی تقریبات میں شامل ہونا نہیں چاہتے۔اننت کمار نے اپنے خط کی ایک نقل ضلع شمالی کینر ا کے ڈپٹی کمشنر کو بھی روانہ کی ہے۔اننت کمار ہیگڈے نے ٹیپو کے بارے میں انتہائی ہتک آمیز تبصرہ ٹویٹر پر لکھا ہے کہ :"(میں نے )حکومت کرناٹکا کو بتادیا ہے کہ ایک بد بخت جنونی، بے رحم قاتل اور عام عصمت دری کرنے والے کی شان بڑھانے کی تقریبات میں مجھے مدعو نہ کیا جائے۔"دوسری طرف ٹیپو جینتی کی تقریبات میں شرکت کا دعویٰ نامہ ٹھکرانے پررد عمل ظاہر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سدارامیا نے کہا ہے کہ اننت کمار ہیگڈے کوحکومت کا ایک حصہ ہونے کی وجہ سے اس طرح کا خط نہیں لکھنا چاہیے تھا۔ دعوت نامہ توسرکار سے تعلق رکھنے والے ہر ایک فرد کو بھیجا جائے گا ،اسے قبول کرنا یا نہ کرنا یہ ان کی مرضی ہے۔وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ ٹیپو سلطان نے انگریزوں کے خلاف چار جنگیں لڑی تھیں۔ مگر ٹیپو جینتی کی تقریبات کو لے کر خواہ مخواہ ہی سیاست کی جارہی ہے۔ادھراننت کمار ہیگڈے کی حمایت میں بی جے پی رکن پارلیمان شوبھا کرندلاجے بھی میں میدان میں کود پڑی ہیں اور ٹیپوکو ہندو مخالف اور کنڑا مخالف قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ ٹیپو جینتی ووٹ بینک سیاست کے لئے منائی جارہی ہے اور تمام کنڑیگاس اس کی مخالفت کرتے ہیں۔ شوبھا نے اس معاملے میں ہیگڑے کی بھر پور حمایت کرتے ہوئے کنڑ باشندوں سے اس طرح کی تقاریب سے دوری اختیار کرنے کی اپیل کی ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ سال جب پہلی بارریاستی حکومت نے ٹیپو جینتی منانے کاسلسلہ شروع کیا تھا توسنگھ پریوار کی طرف سے مخالفت سامنے آئی تھی اور خاص کر جنوبی کینرا اور کوڈاگو وغیرہ میں پر تشدد واقعات بھی رونما ہوئے تھے۔ تازہ حالات کو دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ آئندہ اسمبلی الیکشن کے پس منظر میں امسال بھی ٹیپو جینتی کے خلاف سنگھ پریوار کی طرف سے زیادہ شدت کا مظاہرہ سامنے آئے گا۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/81a5C

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے