Breaking News
Home / اہم ترین / تحفظ شریعت پر بھٹکل میں عظیم الشان جلسہ؛ شریعت میں تبدیلی برداشت نہیں کی جائے گی؛ بورڈ نے دیا حکومت کو انتباہ

تحفظ شریعت پر بھٹکل میں عظیم الشان جلسہ؛ شریعت میں تبدیلی برداشت نہیں کی جائے گی؛ بورڈ نے دیا حکومت کو انتباہ

بھٹکل22 دسمبر (ہرپل نیوز،ایجنسی ) سپریم کورٹ میں پرکاش اور پھولو دیوی کا وراثت کا معاملہ چل رہا تھا، جج صاحب نے پرکاش کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے عورت کو وراثت میں ایک پیسے کا بھی حق نہیں دیا، اس معاملے میں دور دور تک مسلمانوں کا تذکرہ نہیں تھا اور اس بات کا پتہ نہیں چلا کہ یہ قانونی مجبوری تھی یا جج صاحب کا اپنا کوئی ذوق تھا کہ انہوں نے جنسی توازن کا خیال رکھے بغیر پرکاش کی حمایت میں فیصلہ سنایا اور ایک عورت کو وراثت میں کچھ نہیں دیا۔ لیکن دو جج صاحبان نے اپنے فیصلے کے دوسرے حصے میں یہ تحریر فرمایا کہ مسلمان عورتوں کے ساتھ بڑا ظلم ہورہا ہے، مسلمان عورتوں کے ساتھ بڑی نا انصافی ہورہی ہے، مسلمانوں کے اندر تین طلاق کا رواج ہے، مسلمانوں کے اندر حلالہ کا رواج ہے، مسلمانوں کے اندر ایک سے زیادہ چار چار شادی تک کی گنجائش ہے، یہ چیزیں مہذب سوسائٹی کے لئے نامناسب ہے،اس لئے  دونوں جج صاحبان نے اپنے طور پر کیس کو پیش کرتے ہوئے سپریم کورٹ کو آرڈر دیا کہ کیس درج کیا جائے اور حکومت سے  پوچھا جائے کہ حکومت ان تینوں معاملات کے تعلق سے کیا کررہی ہے؟اور اس ملک میں یکساں سول کوڈ ڈ اب تک کیوں نہیں ہوا اوراب تک اس سلسلے میں کیا کوشش کی گئی ہے؟  ان باتوں کی جانکاری آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا ولی رحمانی نے دی۔ وہ یہاں بھٹکل میں مجلس اصلاح و تنظیم کے زیراہتمام تحفظ شریعت کے عنوان پر مسلمانوں کے جم غفیر سے خطاب فرمارہے تھے۔ جامعہ اسلامیہ کے وسیع وعریض میدان میں منعقدہ اس پروگرام میں حال ہی میں حکومت کی طرف سے ہورہی شریعت میں تبدیلی کی کوشش اور ملک میں یکساں سیول کوڈ لاگو کرنے کے منصوبے کے تعلق سے عوام کو آگاہ کرتے ہوئے مولانا ولی رحمانی نے کہا کہ اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ہماری عدالتیں اور عدالت کی کرسی پر براجمان حضرات بالکل غیر جانبدار ہوکر معاملات اور مسائل پر غور کرتے ہیں تو یہ صحیح نہیں ہے۔ آگے فرمایا کہ شریعت پر ہمیشہ حملے ہوتے رہے ہیں کچھ نہ کچھ شوشے چھوڑے جاتے رہے ہیں، عام طور پر اس طرح کے معاملے حکومت کی طرف سے آتے ہیں، مگر پہلی بار یہ معاملہ اب عدالت کی طرف سے آیا ہے۔

مولانا رحمانی نے واضح کیا کہ سرکاری سنسیکس رپورٹ 2011 کے مطابق طلاق کی کثرت ہندؤں کے اندرسب سے زیادہ ہے ہے، دوسرا نمبر  عیسائیوں، پھر سکھوں، پھر پارسیوں کا ہے،  اس کے بعد مسلمانوں کا نمبر آتا ہے۔اسی طرح ایک سے زیادہ نکاح بھی سب سے زیادہ ہندوؤں کے اندر ہے، حالانکہ  ہندوستانی قانون کے لحاظ سے ہندؤں میں ایک سے زیادہ شادی کرنا قانونا جرم ہے،جبکہ مسلمان چار شادیاں کرسکنے کے باؤجود اُن کی تعداد کافی کم ہے۔مولانا نے اس بات کی بھی وضاحت کی کہ سنسیکس کی جو رپورٹ حکومت نے پیش کی ہے وہ صرف عدالت کے ذریعے دی گئی طلاق کی بنیاد پر ہے اور ہندوؤں میں طلاق صرف عدالت ہی دے سکتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ طلاق کے معاملات جب عدالت میں جاتے ہیں تو فیصلہ سنانے کے لئے کبھی دس سال، کبھی پندرہ سال، کبھی بیس سال، یہاں تک کہ  27 سال بعد بھی طلاق ہونے کی بات سامنے آئی ہے، ان سب وجوہات کی بنا پر عام طور پرہندؤں میں لوگ طلاق کے لئے عدالت جاتے ہی نہیں ہیں، مگر ایسا ہونے کے باؤجود طلاق کی شرح ہندؤں میں سب سے زیادہ ہے۔  مولانا رحمانی نے  بتایا کہ ہندؤں میں اکثر لوگ نہ طلاق دیتے ہیں اور نہ دوسری شادی کا موقع دیتے ہیں، ایسے ہی عورت کو چھوڑ دیتے ہیں اور خود بھی دوسری شادی نہیں کرتے۔وزیر اعظم نریندر مودی کا نام لیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اپنی اہلیہ کو ایسے ہی چھوڑدیاہے  وہ بے چاری دوسال پہلے بھی کہہ رہی تھی کہ اگر مودی جی بلالے تو ہم خوشی کے ساتھ اُس بلاوے کو قبول کریں گے  لیکن مودی جی پتہ نہیں کہاں کہاں سے اپنے مسائل حل کرتے ہیں۔ اور بنیادی طریقے پر جو اُن کی ذمہ داری ہے وہ ادا نہیں کرتے۔ سپریم کورٹ کے جج کو نشانہ بناتے ہوئے مولانا رحمانی نے سوال کیا کہ کیا اُنہیں سرکاری رپورٹ پر اعتماد نہیں ہے؟ کیا طلاق اور ایک سے زائد شادی، دونوں معاملوں میں وہ فرقہ پرستوں کی باتوں کو ہی صحیح  نہیں مان رہے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ اگر ہمارے جج صاحب کو  مسلم مطلقہ کی فکر تھی تو میں یہ اچھی طرح جانتا ہوں کہ اُنہیں کسی ایک مسلم طلاق یافتہ عورت کے نام کا بھی پتہ نہیں ہوگا۔اسی طرح  اُنہیں مسلمانوں میں کسی ایسے مرد یا کسی عورت کا بھی پتہ نہیں ہوگا جس نے تین یا چار شادیاں کی ہوں۔ لیکن اُنہیں وزیراعظم نریندر مودی کی اہلیہ  یشودھا بین کے بارے میں ضرور خبر ہے کہ اُس کے ساتھ کس طرح کا ظلم ہورہا ہے۔ مگر افسوس جج صاحب نے اُن کی طرف توجہ نہیں کی، اگر جج صاحب میں ہمت ہوتی، ایمانداری ہوتی،انصاف ہوتا تو سب سے پہلے مودی کی اہلیہ کا انصاف کرتے۔لیکن جج صاحب کی عینک کچھ اور کہہ رہی تھی اس لئے انہوں نے کچھ اور فیصلہ لکھا۔
تازہ معاملے کے تعلق سے مولانا رحمانی نے بتایا کہ اس معاملے کی نوعیت  اب بدل گئی ہے۔۔ اور یہ معاملہ اب عدالت کے دروازے سے سامنے آیا ہے۔ حکومت پہلے ہی تیار رہا کرتی تھی اور اس موقع پر بھی تیار تھی، حکومت نے تین طلاق کی مخالفت کی، حکومت کا موقف اور جج صاحب کے ذہنی رو کے اندر جو بات آئے وہ تین طلاق کو ایک طلاق کہنے کی نہیں ہے، سیدھی سی بات ہے کہ طلاق کے انسٹی ٹیوشن کو اور طلاق کے طریقے کو ختم کیا جائے، حکومت یہ چاہتی ہے کہ اگر مسلمانوں کے اندر طلاق کا طریقہ باقی رہتاہے تو اس کے لئے کوئی دوسرا طریقہ اپنا نا ہوگا۔ حکومت نے حلالہ کا جواب بھی اسی انداز سے دیا اور ایک سے زیادہ شادی کے رواج کو، بھی غلط بتاتے ہوئے کہا کہ  اس کو ختم کرنا چاہئے، مولانا نے بتایا کہ  عدالت نے مسئلہ کھڑا کیااور حکومت نے اس کی تائید کی، اور کوشش یہ ہے کہ تینوں معاملات و مسائل کے اندر قانون بدل دیا جائے۔ جہاں تک تعلق کورٹ کا تھا حکومت نے یونیفارم سیول کوڈ کے بارے میں رائے جاننے کے لئے لاء کمیشن کو خط لکھا،  لاء کمیشن نے  ایک سوالنامہ بھیج دیا۔ او ر لوگوں کے ساتھ رائے طلب کی، مولانا رحمانی نے سوالنامہ کے تعلق سے بتایا کہ وہ سوالنامہ شرارت آمیز ہے اورایسا تیار کیا گیا ہے کہ عام آدمی  اگرجواب دے گاتو کسی نہ کسی طرح یونیفارم سیول کوڈ کی وہ حمایت کرجائے گا۔۔ بورڈ نے یہ ضروری سمجھا کہ تمام مسلک اور مکتب فکر کے لوگوں کو جمع کرکے مشاورتی میٹنگ بلائی جائے، جس کے بعد بورڈ نے اس سوالنامے کا بائیکاٹ کیا اورہم نے جواب دینے سے انکار کردیا۔ بائیکاٹ کا جو اثر حکومت، عدالت  اور خود لاء کمیشن پر پڑا،  وہ اثر رائے دینے پر نہیں ہو سکتا تھا۔ ہم نے تین باتوں کا خیال رکھتے ہوئے  دستخطی مہم چلائی، اس میں ایک یہ کہ ہم قانون شریعت سے مطمئن ہیں، بالخصوص نکاح، طلاق، وراثت۔حباء وصیت کے قانون سے۔ ہم مطمئن ہیں۔ہم مسلم پرسنل لاء میں کسی طرح کی تبدیلی نہیں چاہتے اور ہم دین اور شریعت کے معاملے میں مسلم پرسنل لاء بورڈ کو اپنا نمائندہ سمجھتے ہیں۔مولانا نے بتایا کہ کم وبیش دو کروڑ دستخط اب تک پرسنل لاء بورڈ کے دفتر تک پہنچ چکے ہیں۔ مولانا نے کہا کہ۔مسلم پرسنل لاء بورڈ کی یہ کوشش ہے کہ عدالت کے اندر پوری توانائی کے ساتھ، پوری علمی، فقہی، قانونی، قرانی، اور حدیث سے پوری تیاری کرنے کے بعد بحث کی جائے اور وہ تیاریاں مکمل ہوچکی ہے۔مولانا نے اس  بات کی توقع ظاہر کی کہ عدالت میں معاملہ آگے بڑھانے کے لئے تمام حضرات کا پورا تعاؤن ملے گا۔

آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے صدر مولانا سید رابع حسنی ندوی نے خطاب کرتے ہوئے مسلمانوں کو دین سے جڑے رہنے اور اپنے دین کے تقاضوں کو پوراکرنے کی طرف زور دیا۔مولانا نے فرمایا کہ ہندوستانی دستور نے تمام مذاہب کے ماننے والوں کو اجازت دی ہے کہ وہ اپنے مذاہب کے مطابق عمل کرسکتے ہیں، اسی طرح اپنے دین کے تقاضوں کے تحت ادارے بھی قائم کرنے کی دستور نے اجازت دی  ہے اور اپنے دینی تقاضوں کو پورا کرنے کی بھی ہمیں اجازت ہے۔لیکن بعض افراد اس میں تبدیلی چاہتے ہیں۔ہمیں یہ سمجھ لینا چاہئے کہ ہمیں موت قبول ہوسکتی ہے، لیکن دین میں تبدیلی قبول نہیں ہوسکتی،  ہم نے اسی جذبے کے تحت چودہ سو سال گذارے ہیں، اور جب تک دنیا قائم ہے، ہم اس پر قائم رہیں گے۔ مولانا نے فرمایا کہ شریعت کو قائم رکھنا صرف قائدین، علماء کی ذمہ داری نہیں ہے، بلکہ تمام مسلمانوں کی ذمہ داری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے  اپنے نبی کے ذریعیجو احکام عطا فرمائے ہیں، ہم اُس کے پابند ہیں، ہم اُس میں ترمیم نہیں کرسکتے، معمولی حدتک بھی ہم اس میں تبدیلی نہیں کرسکتے۔ ہمیں اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے جو حکم دیا گیا ہے، اس پرہمیں جم جانے کی ضرورت ہے اور جو آواز اُٹھارہے ہیں اُس کا پوری ہمت اور حوصلے کے ساتھ مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے۔ہمیں اس بات کو ظاہر کرنا ہوگا کہ  دین ہمیں اپنی جان سے زیادہ عزیز ہے، دین کے معاملے میں ہم نہیں ہٹ سکتے۔ ملک کے اندر ایسی آواز اُٹھنی چاہئے اور ہمیں اپنے ارادوں کو ظاہر کرنا چاہئے اور ہم نے دستخطوں کے ذریعے اس بات کو ظاہر کیا ہے کہ ہم دین میں کسی بھی صورت میں تبدیلی گوارہ نہیں کریں گے۔

مولانا توقیر رضاخان نے خطاب کرتے ہوئے مسلمانوں سے پہلے پوچھا کہ کیا آپ شریعت کے تحفظ کے لئے جان دے سکتے ہو؟ جب جواب ہاں میں آیاتو انہوں نے پوچھا کہ پھر آپ شریعت کی حفاظت کرنا کیوں چاہتے ہو؟  مولانا توقیررضا خان نے کہا کہ اگر آپ مسلمان ہو تو مسلمانوں جیسے اپنے اعمال بنالو، مسلمانوں جیسی اپنی شکل و صورت بنالو، مسلمانوں جیسا اپنا طریقہ بنالو، ایک اور نیک اور اچھے اور سچے مسلمان اگر بن جاؤگے تو دنیا کی کوئی بڑی سے بڑی طاقت کی بھی ہمت نہیں ہے کہ تمہاری نظر سے نظر ملاسکے۔انہوں نے مسلمانوں کو مسلمانوں جیسا نظر آنے پر زور دیا۔مولانا نے کہا کہ مسلمانوں کو شریعت کے تحفظ کے لئے جان دینے کی ضرورت نہیں ہے صرف اپنے اعمال درست کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ جب تم مسلمان تھے اور مسلمان نظر آتے تھے تو تم کو تمہارا حق ملتا تھا، تمہیں تمہاری عزت ملتی تھی، لیکن تم نے اپنا طریقہ بدل دیا، مذہب سے دور ہوگئے، اپنی شناخت کو چھپالیا، آج تم ریلوے، بس اور ہوائی جہازوں میں دیکھ لو، ہرجگہ تم ایک فیصد ہی نظر آتے ہو، جس دن تم پچیس فیصد نظر آنے لگوگے، پچاس فیصد پانے میں کامیاب ہوجاؤگے۔ پھر کوئی تمہاری شریعت کی طرف انکھ اُٹھاکر نہیں دیکھے گا۔ انہوں نے مسلمانوں سے کہا کہ آپ شریعت کے تحفظ کے لئے جان مت دو، صرف اپنی شناخت ظاہر کرو، اپنے اعمال کو درست کرو۔ انہوں نے حالات کے لئے آر ایس ایس  اور دیگر ہندو تنظیموں کو ذمہ دارکہنے کی ضرورت نہیں ہے، ہم اپنی ناکامی اور محرومی کے لئے خود ذمہ دار ہیں،انہوں نے ایسی فرقہ پرست طاقتوں کومسلمانوں میں اتحاد پیداکرنے کا ذریعہ قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ اگر مودی اور آر ایس ایس نے شریعت پر حملہ نہ کیا ہوتا تو آج ہم یہاں جمع نہ ہوئے ہوتے، انہوں نے کہا کہ نریندر مودی سے  پہلے ہم کہتے تھے کہ ایڈوانی برا ہے، آج کہتے ہیں ایڈوانی اچھا ہے، مودی برا ہے۔ایڈوانی سے پہلے واجپائی کو برا کہتے تھے،  لیکن جان لینا چاہے کہ کل مودی سے بھی خطرناک آنے والا ہے اور اُس وقت تم کہوگے کہ مودی بہت اچھا تھا۔مولانا نے فرقہ پرست طاقتوں کو اللہ کی طرف سے بھیجا ہوا عذاب قرار دیا اور کہا کہ انہیں اللہ نے اپنے بندوں پر اُتارا ہے کہ جب تک مسلمان اپنے فرائض کی ادائیگی نہ کرے، انہیں ایسے ہی ستاتے رہو، دباتے رہو،  مولانا نے مسلمانوں کو متحد ہونے پربھی کافی زور دیا اور مودی کے تعلق سے بتایا کہ اُسے اُس کا غرور مارے گا۔

اجلاس کا آغاز جامعہ اسلامیہ بھٹکل کے طالب علم سلمان انور کی دلسوز تلاوت  کلام پاک سے ہوا ،جامعہ اسلامیہ کے ہی طالب علم انس ابو حسینا نے  حضورﷺ کی خدمت  میں عقیدت کے  پھول پیش کئے ۔ مجلس اصلاح و تنظیم  کے جنرل سکریٹری محی الدین الطاف کھروری نے مہمانوں کااستقبال کرتے ہوئے  اجلاس کے انعقاد  کی غرض و غایت پر روشنی ڈالی ، پروگرام کی نظامت مولانا خواجہ معین الدین اکرمی مدنی اور عبدالرقیب ایم جے ندوی نے کی، تنظیم کے صدر مزمل قاضیا نے پروگرام کی صدارت کی۔ قائم قوم جناب ایس ایم سید خلیل الرحمن، جامعہ اسلامیہ کے پرنسپال مولانا مقبول کوبٹے ندوی، دیگر علمائ مولانا عبدالعلیم قاسمی، مولانا الیاس جاکٹی ندوی سمیت آل انڈیا مسلم پرسنل لائ بورڈ کے دیگر اہم ذمہ داران و علمائ موجود تھے۔ جنہوں نے پروگرام میں اپنے اپنے تاثرات پیش کرتے ہوئے مسلمانوں میں اتحاد و اتفاق پر زور دیا اور اس بات کا پوری اعلان کیا کہ وہ شریعت میں کسی بھی طرح کی تبدیلی ہرگز برداشت نہیں کریں گے۔

پروگرام میں مولانا سید رابع حسنی ندوی کے ہاتھوں کئی کتابوں سمیت مجلس اصلاح و تنظیم بھٹکل کے صد سالہ سونئیر کا بھی اجرائ کیا گیا۔

اجلاس میں مینگلور سے لے کر گوا تک کے ذمہ داران اور عوام نے شرکت کی اور اس بات کا ثبوت پیش کیا کہ وہ آل انڈیا مسلم پرسنل لائ بورڈ کے ساتھ ہیں۔ پروگرام کو کامیابی کے ساتھ آرگنائز کرنے میں بھٹکل مسلم یوتھ فیڈریشن نے اپنا بھرپور تعائون پیش کیا۔ مولانا اقبال  مُلا ندوی کی دُعا پر جلسہ اختتام کو پہنچا۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/kTnUq

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے