Breaking News
Home / اہم ترین / ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں روسی سفیرکا قتل،امریکہ اوربرطانیہ نے کی مذمت

ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں روسی سفیرکا قتل،امریکہ اوربرطانیہ نے کی مذمت

انقرہایجنسی)20ڈسمبر:۔ ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں کل ایک آرٹ گیلری میں روسی سفیر ایڈری كارلوف پر حملہ کیا گيا اور روسی نیوز ایجنسی آر آئي اے کا کہنا ہے کہ حملے میں سفیر کی موت ہو گئی ہے۔ اناطول نیوز ایجنسی نے بتایا کہ حملے کے بعد ہی سلامتی دستہ نے حملہ آور کو ہلاک کردیا۔ بظاہر یہ حملہ شامی خانہ جنگی میں روس کی شمولیت پر سخت رد عمل معلوم ہوتا ہے۔ این ٹی وی اور دیگر نشریاتی چینلوں نے بتایا کہ مسٹر كارلوف پر ایک پروگرام سے خطاب کے دوران فائرنگ کی گئی۔ انہیں سنگین حالت میں اسپتال لے جایا گیا۔ ترکی کے خصوصی فورس نے آرٹ گیلری کی عمارت کو گھیر لیا ہے۔ این ٹی وی نے بتایا کہ حملے میں دیگر تین افراد بھی زخمی ہوئے ہیں۔ ماسکو سے موصولہ رپورٹ کے مطابق روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریہ زخاروف نے روسی خبر رساں ایجنسیوں سے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ انقرہ میں روسی سفیر مسٹر كارلوف پر حملہ ہوا ہے اور انہیں اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حملے کے بارے میں روس ترکی کے حکام کے رابطے میں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آج ایک پروگرام کے دوران ایک نامعلوم شخص نے مسٹر كارلوف پر فائرنگ کی جس میں وہ شدید زخمی ہو گئے۔صدر ولادیمیر پوتن کو حملے کے بارے میں اطلاع دے دی گئی ہے اور وہ اس واقعہ کے سلسلے میں انٹیلی جنس سروس اور وزارت خارجہ کی ایک رپورٹ کا مطالعہ كررہے ہیں۔ایک عینی شاہد نے رائٹر کو بتایا کہ حملے کے بعد جائے واردات پر گولی باری اب بند ہو گئی ہے۔ حریت اخبار کے صحافی نے بتایا کہ حملہ آور نے اسلامی تکبیر کی آواز لگائی تھی۔دریں اثناء، برطانوی وزیر اعظم ٹیرسا مے اور امریکہ نے ترکی میں روسی سفیر پر حملے کی مذمت کی ہے۔

روسی وزارت خارجہ نے سفیر کی موت کی تصدیق کی

دریں اثنا، روس کی وزارتِ خارجہ نے بھی اپنے سفیر کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ روس نے اسے دہشت گردانہ کارروائی قرار دیا ہے۔ وزارت نے کہاکہ حملہ آور ترکی کا پولیس افسر تھا اور حملے کے وقت وہ ’حلب کو بھول نہ جانا‘ اور اللہ اکبر‘ کے نعرے لگا رہا تھا۔اطلاعات کے مطابق حملے میں تین دیگر افراد بھی زخمی ہوئے جنھیں روسی سفیر سمیت ہسپتال منتقل کر دیا گیا تھا جہاں ان کی موت ہوگئی۔ ترکی کے خصوصی دستوں نے عمارت کو گھیر لیا ہے اور روسی سفارتخانہ کی سیکورٹی بڑھا دی گئی ہے۔ روسی ٹی وی کے مطابق روسی سفیر جس نمائش میں شرکت کر رہے تھے اس کا نام تھا: ’ترکوں کی نظر سے روس‘ تھا۔روسی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریا زاخاروا کا کہنا ہے کہ ’دہشت گردی اس طرح نہیں رہ سکتی، ہم اس سے لڑنے کے لیے پر عزم ہیں۔‘ انھوں نے کہا کہ روس کے سفیر غیر معمولی شخصیت کے مالک سفارت کار کی یادیں جنھوں نے دہشت گردی کو ختم کرنے کے لیے بہت کچھ کیا ہمیشہ ہمارے دلوں میں رہیں گی۔ دریں اثنا امریکی محکمہ خارجہ کےترجمان جان کربی نے کہا ’ہم تشدد کے اس واقعے کی مذمت کرتے ہیں، چاہے اس کے پیچھے کوئی بھی ہو۔ ہماری سوچیں اور دعائیں ان کے اور ان کے خاندان والوں کے ساتھ ہیں۔‘ واضح رہے کہ 62 سالہ اندرے کارلوو ایک منجھے ہوئے سفارتکار تھے جنھوں نے 1980 کی دہائی کا بیشتر حصہ شمالی کوریا میں بطور روسی سفیر گزارا۔ 1991 میں سویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد انھیں جنوبی کوریا منتقل کر دیا گیا تھا اور 2001 میں وہ واپس شمالی کوریا میں بطور سفیر گئے۔اندرے کارلوو جولائی 2013 میں ترکی میں روسی سفیر تعینات کیے گئے۔ ان کے دور میں روس اور ترکی کے درمیان تعلقات میں کشیدگی آئی اور گذشتہ سال شامی سرحد کے قریب ایک ترک طیارے نے روسی جنگی جہاز مار گرایا تھا۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ حملہ شام میں روسی مداخلت کی وجہ سے کیا گیا ہے۔ ترکی میں روس کے سفیر کی ہلاکت پر ترک صدر  رجب اردوغان نے ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اندرے کارلوف کی ہلاکت ترک قوم پر حملہ ہے۔ روسی صدر ولادمیر پوتن کا کہنا ہے کہ روسی سفیر پر حملے کا مقصد دونوں ممالک میں کشیدگی بڑھانے کی اور شام میں امن کی بحالی کی کوشش کو نقصان پہنچانا ہے۔ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں روس کے سفیر پر حملہ ایک ایسے وقت کیا گیا ہے جب گزشتہ کئی دنوں سے شام میں روسی فوج کی کارروائیوں کے خلاف ترکی میں مظاہرے کئے جا رہے تھے۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/j3xzK

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے