Breaking News
Home / اہم ترین / تریپورہ وزیراعلی مانک سرکار،پی محمد اسماعیل اوراروم شرمیلاکو چنئی میں قائد ملت ایوارڈ سے نوازا گیا

تریپورہ وزیراعلی مانک سرکار،پی محمد اسماعیل اوراروم شرمیلاکو چنئی میں قائد ملت ایوارڈ سے نوازا گیا

چنئی(ہرپل نیوز،نامہ نگار)۔ سیاسی اور عوامی زندگی میں عملی طور پر دیانت داری کی مثال قائم کرنے والے تریپورہ وزیر اعلی مانک سرکار، تمل ناڈو کے سابق رکن اسمبلی پی محمد اسماعیل اور منی پور کی آہنی خاتون اور سرگرم سماجی کارکن اروم شرمیلا کو چنئی قائد ملت کالج، ایم اے جمال محی الدین پاپا آڈیٹوریم میں گزشتہ دنوں منعقد ایک تقریب میں سال 2017 کے لیے قائد ملت جناب محمد اسماعیل صاحب کے نام سے منسوب باوقار ایوارڈ سے نواز گیا۔ اس تقریب کی صدارت حکومت تمل ناڈو کے چیف قاضی مفتی ڈاکٹرصلاح الدین محمد ایوب نے کی۔ قائد ملت کالج کے پرنسپل ڈاکٹر اے رفیع نے مہمانوں کا استقبال کیا۔ قائد ملت ایجوکیشنل ٹرسٹ کے جنرل سکریٹری اورقائدملت اسماعیل صاحب کے پوتے ایم جی داؤد میاں خان نے ایوارڈ یافتگان کا اعلان کیا اور ان کی خدمت میں تہنیت پیش کیا۔انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ جب کانگریس نے برطانوی حکومت سے مکمل آزادی کا مطالبہ کیا ، اسی مطالبات کو لیکر تمل ناڈو کے ترونیل ویلی شہر میں قائد ملت نے عوامی اجلاس کا انعقاد کیا تھا۔ مہاتما گاندھی نے جب عدم تعاون کی تحریک کا اعلان کیا تھا اس وقت قائد ملت نے اپنے کالج کی پڑھائی ترک کرکے اور امتحانات چھوڑ کر عدم تعاون تحریک میں شامل ہوئے تھے اور وہیں سے ان کے عوامی زندگی کا آغاز ہوا تھا۔ آئینی کونسل کے بحث ومباحثہ کے دوران جواہر لعل نہرو نے سیکولر علیحدہ قانون کی حمایت کی تھی لیکن قائد ملت نے اقلیتوں کے لیے علیحدہ پرسنل لاء کا مطالبہ کیا تھا۔ان کے مطالبے کی وجہ سے ہی اقلیتوں کے لیے علیحدہ پرسنل لاء بنا تھا۔ آج ملک میں فسطائی طاقتیں مضبوط ہوئی ہیں ، لیکن یہ سب کچھ عرصے تک ہی ٹک پائیں گی ۔ جرمنی ، اٹلی، جاپان میں فسطائی طاقتوں کی حکومتیں تھیں لیکن عوام نے ان فسطائی حکومتوں کو نکال پھینک دیا تھا۔ اسی طرح ہمارے ملک کے عوام بھی فسطائی طاقتوں کو نکال پھینگ دیں گے۔ اس موقع پر ایوارڈ یافتگان کے خدمت میں ہدیہ تبرک پیش کرتے ہوئے پدما بھوشن موسی رضا ( آئی اے ایس ، ریٹائرڈ) ،سابق سکریٹری گورنمنٹ آف انڈیا، ڈاکٹر وی۔ وسنتی دیوی سابق وائس چانسلر اور ماہر تعلیم، ڈاکٹر دیوا سگایم، چرچ آف ساؤتھ انڈیا، پر وفیسر اے مارکس، ہیومن رائٹس کارکن اور ادیب کے علاوہ سینئر صحافی نیانی اور چنئی یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر صادق نے حاضرین سے خطاب کیا۔تقریب میں تریپورہ وزیر اعلی مانک سرکار حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس ایوارڈ کے لیے میں تریپورہ کے عوام کی جانب سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ تشویش کی بات ہے کہ آج دنیا بھر میں المناک واقعات رونما ہورہے ہیں۔ ہندوستان میں بھی کئی علاقوں میں اقلیتوں پر منظم حملے ہورہے ہیں۔ اقلیتوں کے خلاف اشتعال انگیز بیانات دیئے جارہے ہیں۔ جس سے وہ خوف و ہراس میں مبتلا ہیں۔ کچھ لوگ ہندوستان کو ہندو راشٹرا بنانے کی کوشش کررہے ہیں اور اقلیتوں پر مظالم ڈھایا جارہا ہے۔ پاکستان اور بنگلہ دیش کی آبادی سے زیادہ ہندوستان میں مسلمانوں کی آبادی ہے۔ انڈونیشیا کے بعد ہندوستان میں ہی مسلمانوں کی کثیر آبادی ہے۔ مسلمان یہاں صدیوں سے بستے آرہے ہیں ۔ ہندوستانی مسلمان اپنے وطن سے بے پناہ محبت کرتے ہیں ایسے میں انہیں پاکستان اورمشرقی وسطی ممالک جانے کو کہا جارہا ہے۔ عیسائی، جین، بدھ مت، جیسے مختلف مذاہب کے ماننے والے مختلف اقلیتیں ہندوستان میں رہتے ہیں۔ ان کی آبادی 30کروڑ سے بھی زیادہ ہے ۔ دنیا میں اتنی آبادی والے ممالک بھی نہیں ہیں۔یہ سب اس دھرتی کے سپوت ہیں ، بر سہا برس سے وہ یہیں بستے آرہے ہیں ایسے میں ان کوملک چھوڑ کر باہر جانے کے لیے کہنا کہاں کا انصاف ہے ؟۔ ملک میں روز بروز بدعنوانی بڑ ھ رہی ہے ۔ 30سے زیادہ کارپوریٹ کمپنیاں ملک کے پبلک سیکٹر بینکوں کو لوٹ رہے ہیں۔ یہ کمپنیاں 12 لاکھ کروڑ روپئے تک قرضہ ہیں۔ ان کمپنیوں کو کئی ہزار روپئے قرض معاف کیا گیا ہے۔ لیکن ہمارے ملک کے کسانوں کے چھوٹے موٹے قرضہ جات گھر ڈھونڈ کر وصول کئے جاتے ہیں لیکن بڑی کمپنیوں کے قرضہ جات کو کوئی پوچھتابھی نہیں ہے۔ ملک میں بے روزگاری کی شرح میں تشویشناک طور پر اضافہ ہوا ہے۔ ملک میں 25ملین سے زیادہ نوجوان بے روزگار ہیں ۔ ان کے صلاحتیوں کا استعمال کرکے ملک کو ترقی کی راہ پر لے جایا جاسکتا ہے۔ لیکن اس کے لیے ہمارے ملک میں کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ ہمارے ملک کے70%فیصد عوام دیہی علاقوں میں بستی ہے۔ ایک طرف انفارمیشن تکنالوجی کا بول بالا ہے اور دوسری طرف ہمارے ملک کے 35 کروڑ کی آبادی ناخواندہ ہے لیکن ملک کی GDPکی کل قدر میں 5%فیصد بھی ہمارے ملک میں تعلیم کے لیے خرچ نہیں کیا جاتا ہے۔ عوام کے مسائل حل کرنے کی بجائے ان میں تفریق ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ یہ ہندو مذہب کی تعلیمات نہیں ہیں۔ قائد ملت اسماعیل صاحب نے اس ملک کے لیے قابل ستائش خدمات انجام دی ہیں۔ جمہوریت ہماری ملک کی روح ہے۔ اس کی حفاظت کرنا ہمارا فرض ہے۔ اگر ہم اسے حفاظت کرنے میں ناکام رہے تو ملک ترقی نہیں کرے گا۔ تریپورہ وزیر اعلی مانک سرکار نے قائد ملت ایجوکیشنل ٹرسٹ کے ذمہ داران کو مشورہ دیا کہ ان کی خدمات کو صرف تمل ناڈو تک محدود نہ رکھیں بلکہ دیگر ریاستوں میں بھی اپنے خدمات کی توسیع کریں۔ تریپورہ میں ہم نے صد فیصد خواندگی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں اس کی اصل وجہ یہی ہے کہ ہم کالج سطح تک مفت تعلیم فراہم کرتے ہیں۔ آج کے نوجوان ہی مستقبل کے لیڈر ہیں ، لہذا انہیں ڈاکٹر، انجینئر، بنانے سے پہلے انہیں ایک اچھے انسان بنانے کی کوشش کریں۔ ہمارے نوجوانوں کو چاہئے کہ وہ بلا تفریق و مذہب ملت سب سے محبت رکھیں۔ تمل ناڈو کے سابق رکن اسمبلی پی محمد اسماعیل نے اپنے خطاب میں کہا کہ جواہر لعل نہرو، محمد علی جناح، راجاجی، پریار، انا جیسے لیڈروں کے ساتھ قائد ملت اسماعیل ؒ صاحب نے سیاسی سفر کیا تھا۔ ان کے خدمات موجودہ دور کے سیاست دانوں کے لیے مشعل راہ ہیں۔ منی پور کی اروم شرمیلا طبیعت کی ناسازی کی وجہ سے اس ایوارڈ تقریب میں شریک نہیں ہوسکیں۔ اس تقریب کے اختتام میں شاہ الحمید نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔ مختلف شہروں سے کثیر تعداد میں لوگ اس تقریب میں شریک رہے۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/JLwgA

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے