Breaking News
Home / اہم ترین / تلنگانہ میں مسلمانوں کو ریزرویشن میں اضافہ ، بی سی کمیشن کی عوامی سماعت کا آغاز

تلنگانہ میں مسلمانوں کو ریزرویشن میں اضافہ ، بی سی کمیشن کی عوامی سماعت کا آغاز

حیدرآباد( ہرپل نیوز)14ڈسمبر: ریاست تلنگانہ میں مسلمانوں کے پسماندہ طبقات کوریزرویشن میں اضافہ کے معاملہ کا جائزہ لینے کے لئے تلنگانہ اسٹیٹ کمیشن برائے پسماندہ طبقات کی جانب سے عوامی سماعت کا کمیشن کے دفتر واقع خیریت آباد حیدرآباد میں آغاز ہوا‘ جس کا سلسلہ شام پانچ بجے تک جاری رہا۔ ریاست کے مختلف علاقوں سے مسلم اقلیت اور پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والی تنظیموں کے نمائندوں اور افراد نے اپنی نمائندگیاں‘ تجاویزوغیرہ کمیشن کو پیش کیں۔کمیشن کے صدر نشین بی ایس راملو اور ارکان ڈاکٹر وی کرشنا موہن راؤ‘ ڈاکٹر انجنیا گوڑ‘ جلورو گوری شنکر اور ممبرسکریٹری محترمہ جی ڈی ارونا آئی اے ایس اس سماعت کے موقعہ پر موجود تھے۔ کمیشن کی عوامی سماعت کا پروگرام 11:00بجے دن شروع ہوا۔ کمیشن کے صدر نشین بی ایس راملو نے اس پروگرام کی تفصیلات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ عوامی نمائندگیوں کی سماعت کا یہ پروگرام17 دسمبر کی شام تک جاری رہے گا۔انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کے پسماندہ طبقات کو تعلیم اور روزگار کے معاملہ میں ریزرویشن میں اضافہ کرنے کے لئے پہلے سے ہی پسماندہ طبقات کو جوریزرویشن دےئے جارہے ہیں ان کو متاثر کئے بغیر پیشرفت کرنا ہے۔ جناب جی سدھیر موظف آئی اے ایس کی سرکردگی میں مسلمانو ں کی پسماندگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے جس کے بعد ریاستی حکومت کو رپورٹ پیش کردی گئی جس کو مناسب کارروائی کے لئے بی سی کمیشن کو روانہ کیا گیا ہے‘ تاکہ مسلمانوں کوریزرویشن میں اضافہ کے لئے تجاویز پیش کی جاسکیں۔ اسی سلسلہ کے تحت آج سے دفتر بی سی کمیشن میں کھلی عوامی سماعت کا پروگرام شروع کیا گیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس ماہ کی 18اور 19تاریخ کو ماہرین قانون‘ سماجی رہنماؤں‘ ینورسٹی کے پروفیسروں اور سماج کے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے ذی اثر قائیدین کا اجلاس منعقد کیا جائے گا اوراس سلسلہ میں مزید مواد اکٹھا کیا جائے گا۔ صدر نشین کمیشن بی ایس راملو نے عوام سے اس عوامی اجلاس میں بڑی تعداد میں حصہ لیتے ہوئے آزادانہ طور پر اپنے خیالات ‘ نظریات اور تجاویز پیش کرنے کی خواہش کی۔ آج عوامی اجلاس کے پہلے روز دوپہر 12:00بجے سے مختلف گوشوں سے نمائندگیاں پیش کی گئیں۔مسلم ریزرویشن فرنٹ کے صدر معروف قانون دان جناب محمد افتخار الدین احمد نے کمیشن کے روبرو اپنا استدلال پیش کرتے ہوئے کہا کہ سدھیر کمیشن نے اپنی رپورٹ میں حکومت سے پسماندہ مسلمانوں کو 12 فیصدریزرویشن فراہم کرنے کی سفارش کی ہے۔ انہوں نے کمیشن کو بتایا کہ پسماندہ مسلمان تعلیم ‘ روزگار کے شعبوں کے علاوہ سماجی ‘ سیاسی اور معاشی طور پر انتہای پسماندگی کا شکار ہیں‘ اس حقیقت کا جسٹس رنگاناتھ مشرا کمیشن ‘ سچر کمیٹی‘ امیتابھ کندو‘ جسٹس دلوا‘ سبرامنین کمیشن نے بھی اعتراف کیا ہے۔سدھیر کمیشن نے انتہائی باریک بینی کے ساتھ حقایق کا جائزہ لیا ہے۔ انہو ں نے بی سی کمیشن کو مشورہ دیا کہ وہ مسلمانوں کی معاشی ‘ تعلیمی اور سماجی حقایق سے واقفیت حاصل کرنے کے لئے اضلاع کا دورہ کریں اور مسلمانوں کے ساتھ انصاف کریں۔ مسلمانوں کے لئیریزرویشن میں اضافہ کے لئے دلایل پیش کرنے والو ں میں ٹی این ٹی یو لیڈرجناب سید مجید اللہ حسینی‘ جناب خواجہ قیوم انور کے علاوہ کریم نگر سے آئے ہوئے مسلم اقلیتی لیڈران جناب محمد مشو‘ جناب محمد عرفان محی الدین‘ جناب خواجہ امام الدین‘ جناب محمد شہباز قابل ذکر ہیں۔ ان کے علاوہ دیگر کئی افراد نے بی سی کمیشن پہنچ کر تحریری نمائیندگیاں ‘ حلف نامے اور دیگر دستاویزات پیش کیں۔اس کے علاوہ دیگر کئی افراد نے کمیشن کے دفتر پہنچ کر درخواست فارم حاصل کیا۔ عوامی سماعت کا یہ سلسلہ دفتر بی سی کمیشن کے کانفرنس ہال میں 15‘ 16 اور17 دسمبر کو صبح 11:00تا شام 5:00بجے جاری رہے گا۔ عوام تحریری نمائندگیاں راست یا ذریعہ ڈاک یا آن لائن طریقہ سے 19 دسمبر کو شام پانچ بجے تک داخل کرسکتے ہیں۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/f4xfh

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے