Breaking News
Home / اہم ترین / تمام طبقات کے تحفظ کو یقینی بنانےجماعت اسلامی ہند کا حکومت سے مطالبہ ،جماعت اسلامی ہند کی پریس میٹ

تمام طبقات کے تحفظ کو یقینی بنانےجماعت اسلامی ہند کا حکومت سے مطالبہ ،جماعت اسلامی ہند کی پریس میٹ

نئی دہلی:7/اگست(ہرپل نیوز):جماعت اسلامی ہند نے آج یہاں اپنے مرکز کے وسیع و عریض ہال میں ماہانہ پریس میٹ کا انعقاد کیا جس میں اکابرین جماعت نے ملک کی موجودہ صورتحال ، ملی و بین الاقوامی امور پر اپنے خیالات کا اظہار کیا اور صحافیوں کے سوالات کا جواب دیا۔

مولاناعمری نے موقع پر صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی ہند ملک میں دلت طبقہ پر بڑھتے ہوئے مظالم پر اپنی گہری تشویش کااظہار کرتی ہے اور ان کی پر زور مذمت کرتی ہے۔ گزشتہ دنوں ریاست گجرات کی اُنا تحصیل کے ایک گاؤں میں مردہ گائے کی کھال اتارنے کی پاداش میں دلت طبقہ کے نوجوانوں کو بے دردی کے ساتھ اور سربازار برہنہ کر کے پیٹا گیا ۔ یہ سانحہ ظلم و بربریت کی واحد مثال نہیں ہے بلکہ ملک کے طول و عرض میں مختلف حیلوں اور بہانوں سے دلتوں کو بدترین مظالم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے،خواہ وہ مہاراشٹر کے احمد نگر میں ایک دلت لڑکی کی آبروریزی کا معاملہ ہو یا بہوجن سماج پارٹی کی سربراہ محترمہ مایا وتی کے خلاف نازیبا الفاظ کا استعمال ہو۔ ان سب واقعات میں نسلی برتری کی ذہنیت کا رفرما نظر آتی ہے اور شرپسندوں کے حوصلے بلند نظر آتے ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ان معاملات میں پولس اور انتظامیہ یا تو خاطیوں کی پشت پناہی کرتی ہے یا پھر لاپر واہی اور مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کرتی ہے۔

جید عالم دین و درجنوں کتابوں کے مصنف مولانا عمری نے کہا کہ جماعت اسلامی ہند کا احساس ہے کہ یوں تو دلت طبقہ ہمیشہ ہی سے نام نہاد اعلیٰ ذاتوں کے جبروستم کا نشانہ بنتا رہا ہے تاہم مرکز میں بی جے پی کی حکومت بننے کے بعد سے اس رجحان میں شدت آئی ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ وزیر اعظم ان واقعات پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل کرائم بیورو کے اعداد و شمار کے مطابق ہر سال صرف دلت خواتین کی آبروریزی کے 2500 واقعات وقوع پذیر ہوئے ہیں، دیگر جرائم اور دلتوں سے امتیازی سلوک اس پر مستزاد ہے۔

انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آزادی کے70 سال کے بعد بھی تمام تر دستوری تحفظات اور قانونی و سیاسی اقدامات کے باوجود ہندوستانی نظام دلت طبقہ کو انسانی شرف و احترام تو درکنار انسان بھی سمجھنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ نسلی فخر و غرور کی اس ذہنیت کا قلع قمع کیا جائے، انسانوں کو احترام کی نظر سے دیکھا جائے اور وحدت بنی آدم کے شعور کو عام کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی ہند مطالبہ کرتی ہے کہ دلتوں پر مظالم کے سلسلہ پر مؤثر روک لگائی جائے۔ خاطی اور مجرم افراد کے خلاف بلاروورعایت قانونی کاروائی کی جائے ، پولس اور انتظامیہ کو جوابدہ بنایا جائے۔ گائے کی حفاظت کے نام پر بننے والی گؤ رکشا سمیتیوں کی قانون شکنی کو روکا جائے اورکسی کو بھی قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت نہ دی جائے۔

جماعت اسلامی ہند کے جنرل سکریٹری سلیم انجینئر نے نامہ نگاروں سے کہا کہ جماعت ا سلامی ہند ملک کی تیزی سے بگڑتی ہوئی معاشی صورت حال پر اور عام شہریوں کی دشواریوں پر سخت تشویش کااظہار کرتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ کساد بازاری کی کیفیت نے کاروباری طبقہ کی کمر توڑ رکھی ہے جس سے معیشت مفلوج ہوکر رہ گئی ہے۔ بڑھتی مہنگائی اور افراط زر کی شرح نے اشیائے ضروریہ تک کو عام آدمی کی پہنچ سے باہر کر دیا ہے اور بے روزگاری نے نوجوانوں کو اضطراب میں مبتلا کیا ہے۔

انہوں نے انتہائی مدلل انداز میں بتایا کہ ملک کی برآمدات تشویشناک شرح سے کم ہو رہی ہیں اور موجودہ حکومت کے صرف دو سال کے قلیل عرصہ میں نصف ہو گئی ہیں۔ زراعت ، تجارت، اور صنعتکاری(مینو فیکچرنگ )جیسے شعبے جو اصلاً عوام کے لئے روزگار کے مواقع پیدا کرتے ہیں، بری طرح زوال کے شکار ہیں اور ان شعبوں میں پیدا وار بڑھانے کے لئے کوئی مؤثر منصوبہ موجود نہیں ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ملک میں سرمایہ کاری کم ہو رہی ہے۔ نئی صنعتوں اور تجارتوں کے لئے سرمایہ کاری کے مواقع کم سے کم تر ہوتے جا رہے ہیں۔ عوامی زمرہ کی کمپنیوں اور قومی اثاثوں کی فروخت کا سلسلہ اور رفتہ رفتہ اہم شعبوں میں بیرونی سرمایہ کاری کے لئے ایسی پالیسیاں وضع کی جارہی ہیں، جو ملک کے عوام کی معاشی پریشانیاں بڑھانے کا سبب بن رہی ہیں۔ ان پالیسیوں کے نتیجہ میں بے روزگاری کی شرح بڑھ رہی ہے اور نئے روزگار کے مواقع پیداکرنے میں حکومت پوری طرح ناکام نظر آرہی ہے۔ ہر سال ملک میں تقریباً ڈیڑھ کروڑ نوجوان تلاش روزگار کے لئے میدانِ معیشت میں داخل ہو رہے ہیں جب کہ ان کے لئے موجود ملازمتوں کی تعداد تیزی سے معدوم ہوتی جارہی ہیں۔ مسٹر سلیم انجینئر نے کہا کہ آئی ٹی سے متعلق شعبے جن پر ملک کو کبھی بڑا فخر تھا، اب تیزی سے گراوٹ کے شکار ہیں۔ ان سب عوامل کے نتیجہ میں قیمتیں اور خصوصاً غذائی اشیا کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور بنیادی اجناس عام آدمی کی دسترس سے باہر ہونے لگی ہیں۔

سکریٹری جنرل نے کہا کہ جماعت اسلامی ہندیہ محسوس کرتی ہے کہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کااہم سبب زرعی شعبہ پر توجہ کی کمی ہے۔ اس کے علاوہ موہوم تجارت جیسے عوامل بھی اس اضافے کے ذمہ دار ہیں اور طرفہ تماشہ یہ کہ حکومت ان منفی عوامل کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مہنگائی اور کساد بازاری کا ایک سبب ٹیکس کا وہ غیر معقول نظام بھی ہے جس کو ہر بجٹ میں پختہ تر کیا جا رہا ہے۔ اس کے تحت غریب عوام پر بالواسطہ ٹیکسوں کا بوجھ مستقل بڑھا یا جا رہا ہے اور امیر سرمایہ داروں پر راست ٹیکس کم کئے جا رہے ہیں۔ سلیم انجینئر نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تیل کی عالمی قیمتوں میں زبردست کمی کے باوجود عام آدمی کو اس کا فائدہ نہیں مل پارہا ہے۔ تیل کی قیمت بھی موجودہ مہنگائی کا ایک بڑا سبب ہے۔ راست ٹیکسوں میں ڈیڑھ ہزار کروڑ کی کمی کی گئی ہے جب کہ بالواسطہ ٹیکسوں میں بیس ہزار کروڑ اضافہ کر دیا گیا ہے ۔ تعلیم و صحت جیسی ضروری خدمات کو بھی ٹیکس کے دائرہ میں لے آیا گیا ہے ۔ امیر طبقے اور کارپوریٹ اداروں کو ہر سال ٹیکس میں بھاری چھوٹ فراہم کی جا رہی ہے۔ یہ اقدامات بتاتے ہیں کہ غریب عوام کے اجتماعی مفاد ات کی قیمت پر مٹھی بھر اندرونی و بیرونی سرمایہ داروں کو فائدہ پہنچانا موجودہ پالیسی کا ہدف ہے۔

انہوں نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ معاشی صورت حال کی ایک علامت ملک کے بنکنگ نظام کی کیفیت بھی ہے۔ غریب عوام کے ٹیکس سے وصول شدہ سرمایہ ، قومی بنکوں کے ذریعہ بڑے بڑے سرمایہ داروں کو منتقل ہو رہا ہے اور ایسے بنکوں کی جانب سے بڑے سرمایہ کاروں کو دیے گئے بھاری قرضوں کی مقدار بڑھتی جا رہی ہے۔ یہ قرضے نا قابل واپسی (این پی اے )کے زمرے میں آتے ہیں اور ہندوستانی بنکوں کے ایسے قرضے اب کئی لاکھ کروڑ تک پہنچ چکے ہیں جن کی واپسی متوقع نہیں ۔

مسٹر سلیم نے کہا کہ جماعت اسلامی ہند حکومت کویہ یاددہانی کراتی ہے کہ دستور ہند کی اسپرٹ کے مطابق ملک کو ایک فلاحی ریاست کا کردار ادا کرنا چاہیے چنانچہ حکومت کو ایسی معاشی پالیسیاں اختیار کرنی چاہئیں جن سے افزائش دولت کی حوصلہ افزائی کے ساتھ وسائل کی منصفانہ تقسیم عمل میں آتی ہو ۔ نیز دولت کا بہاؤامیروں سے غریبوں کی طرف ہو۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی ہندحکومت سے یہ مطالبہ کرتی ہے کہ زراعت، دیہی معیشت اور مینوفیکچرنگ کے شعبوں پر توجہ بڑھائی جائے ، بالواسطہ ٹیکسوں کا بوجھ کم کیا جائے، پٹرولیم پر ڈیوٹی گھٹائی جائے، غذائی اجناس اور اشیائے ضروریہ میں سٹہ بازی پر پابندی لگائی جائے اور روزگار بڑھانے اور بازار کی کساد مندی کو دور کرنے پر بھر پور توجہ دی جائے نیز سود سے پاک بنکنگ کے نظام کو پورے ملک میں متعارف کرایا جائے اورروزگار کے مواقع میں اضافے کیلئے سنجیدہ کوششیں کی جائیں تاکہ ملک کے نوجوان طبقے کومایوسی و قنوطیت سے باہر نکالا جا سکے۔

سلیم انجینئر نے کہا کہ تیل کی گرتی قیمتوں کی وجہ سے سعودی عرب نے متعدد تعمیراتی کاموں نیز کئی طرح کے پروجکٹوں کو بند کر دیا ہے جس کی وجہ سے وہاں دس ہزار سے زائد ہندوستانی ورکرس بے یارو مددگار پھنسے ہوئے ہیں۔یہ افراد اپنی ملازمت گنواچکے ہیں اور وہاں انتہائی مخدوش حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔کمپنیوں کے بند ہونے کی وجہ سے انہیں گزشتہ کئی ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی ہیں اور وہ کسمپرسی کی حالت میں ہیں۔حکومت ہند نے یہ اعلان کیا ہے کہ وہ ان ورکرس(ملازمین)کو واپس وطن لائے گی ۔ جماعت اسلامی ہند حکومت کے اس اعلان کا خیرمقدم کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی ہند اس سے باخبر ہے کہ مرکزی وزیر مملکت برائے امور خارجہ جنرل وی کے سنگھ(ریٹائرڈ)سعودی عرب پہنچ چکے ہیں اور وہ وہاں حکومت و ذمہ داران سے اس اہم ترین مسئلہ پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں اور ان ہندوستانیوں کو واپس لانے کا عمل شروع کر چکے ہیں۔جماعت یہ محسوس کرتی ہے کہ ان کی تعداد کی وجہ سے اس میں تاخیر ممکن ہے تاہم، اس عمل کو مزید تیز کیا جانا بہتر ہے تاکہ یہ افراد جلد ا زجلد اپنے ملک کی ہواؤں میں سانس لے سکیں اور ان کے اہل خانہ کو قرار آجائے۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کو نہ صرف یہ کہ امید ہے بلکہ یقین ہے کہ حکومت ہند ان ورکرس کو جلد ازجلد واپس وطن لے آئے گی اور ان کی باز آبادکاری کی سمت میں بھی مناسب کاروائی کرے گی نیز انہیں معاشی مدد بھی بہم پہنچائے گی۔

جماعت اسلامی کے اس ماہانہ پریس میٹ میں جماعت کے ذمہ دار محمد احمد،تربیتی شعبہ کے سکریٹری مولانا ولی اللہ سعیدی فلاحی سمیت متعدد ذمہ داران موجود تھے۔ پریس میٹ کی نظامت جماعت اسلامی ہند کے شعبہ میڈیا کے سربراہ ارشد شیخ نے بحسن و خوبی انجام دی۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/X8Aio

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے