Breaking News
Home / اداریہ / تنظیم کامیڈیاورکشاپ کاش کہ امید کی کرن ثابت ہو

تنظیم کامیڈیاورکشاپ کاش کہ امید کی کرن ثابت ہو

ایک اچھی پہل
عالمی سطح پر اسلام اور اہل اسلام کی شبیہ بگاڑنے میں میڈیا کے منفی کردار کی وجہ سے مسلم طلبہ کو میڈیا میں فعال کردار ادا کرنے کی ضرورت کے پیش نظر بھٹکل میں مجلس اصلاح و تنظیم کی  میڈیا واچ کمٹیی کی جانب سے پانچ روزہ میڈیا ورکشاپ کاانعقاد عمل میں آیا ۔ ورکشاپ میں حصہ لینے والے طلبہ کے ساتھ میڈیا میں برسوں کا عملی تجربہ رکھنے والی شخصیات سمیت کچھ نو آموز مگر قابل نوجوانوں نے بھی اپنے تجربات شیئر کئے ۔ یوں پانچ روزہ روکشاپ ایک عظیم الشان عوامی اجلاس پر اختتام کو پہنچا ۔ تنظیم کی اس پہل کی ضرور ستائش کی جانی چاہئے کہ میڈیا کے میدان میں سرگرم مٹھی بھر بھٹکلی نوجوانوں کے ساتھ آنے والے دنوں میں مزید کچھ نوجوان اپنے بلند و بالا عزائم کے ساتھ  جڑیں گے اور اپنی قوم و برادری کے ساتھ ملت اسلامیہ کی خدمت بھی کریں گے ۔ پانچ روزہ ورکشاپ میں شرکت کرنے والوں کوتمام صحافتی اصول و ضوابط سے آگاہ بھی کیا گیا ہے اور یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مین اسٹریم میڈیا کبھی کبھار اپنے مزاج کے خلاف خبروں کو کیسے فراموش کرتا ہے ۔ ایسےمیں یہ امید بھی کی جانی چاہئے کہ جن نوجوانوں نے اس میں حصہ لیا ہے وہ اپنے طور پر مزید اس کا مطالعہ کریں گے اور وسائل کا رونا رونے کی بجائے محدود پیمانے پر ہی سہی دفاع ِاسلام کا فریضہ انجام دیں گے ۔
موجودہ صورتحال اور میڈیا
بعض نیوز چینلوں میں مسلمان بڑے سے بڑے عہدہ پر فائز ہیں لیکن  وہ عملاً اتنے بااختیار نہ ہونے سے مسلمانوں کے متعلق اکثر منفی خبریں ہی جگہ پاتی ہیں۔ ساتھ ہی دینی بنیادوں پر ان کی ذہن سازی نہ ہونے سے بھی وہ اتنے بیدار یا حساس نہیں ہوتے کہ وہ ملی مسائل کے لئے کوئی سلاٹ لے کر مستقل کام کر سکیں ۔ اسی طرح انگریزی میڈیا کا میدان بھی کافی وسیع ہے ان میں اچھے اور با صلاحیت لوگوں کا فقدان نہیں تو کمی ضرور ہے اس لئے جن طلبہ نے اس ورکشاپ میں حصہ لیا ہے ان میں سے کچھ نوجوانوں کو اس کام کے لئے ضرور آگے بڑھنا چاہئے تاکہ غیر اردو داں طبقہ میں ہما را پیغام باسانی پہنچایا جا سکے ۔ اس کے لئے نوجوان کو فضولیات سے بچتے ہوئے مختلف مذاہب اورمختلف سوچ رکھنے والے مفکرین کے ساتھ مسلم دانشوران کی کتابوں کا بھی مطالعہ کرنا چاہئے تاکہ ہم ان کے اعتراضات کا عقلی اور قابل عمل حل پیش کر سکیں ۔ ورکشاپ میں حصہ لینے والے 50وجوانوں میں سے کوئی ایک یا دو ہی سہی اس کام  میں پہل کریں تو یہ ورکشاپ نہ صرف مفید ثابت ہوگا بلکہ اس سے بڑا کام انجام پائے گا ۔
 مگر اس طرف بھی توجہ دی جائے
خدا کا شکر ہے کہ ایک بڑے عرصہ کے بعد اب قوم نہ صرف یہ کہ میڈیا کی اہمیت سمجھنے لگی ہے بلکہ اس میں اپنے بچوں کو آگے بڑھنے کی تلقین کرتی نظر آتی ہے ۔ بعض سرمایہ دار حضرات میڈیا ہاوس کے قیام کا خواب بھی دیکھتے ہیں مگر ان کی محددو کوششوں اور صرف زبانی جمع خرچی سے لگتا ہے کہ یہ ان کے بس کا روگ نہیں ۔ بعض ادارے اور جماعتیں ، این جی اوز وغیرہ میڈیا اور جرنلزم کے لئے اسکالرشپ  بھی  دےرہے ہیں جس سے جرنلزم کی  اہمیت کے تئیں ان کی دلچسپی کا  اظہار بھی ہو رہا ہے ۔ لیکن بڑے افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے بھٹکل میں مقامی سطح پر جو لوگ اپنا سرمایہ حیات داو پر لگا کر اوراپنی صلاحیت ، اپنا وقت اور اپنا سب کچھ لگا کر میڈیا کی خدمت میں دن رات ایک کئے ہوئے ہیں ان پر کوئی خاص توجہ نہیں دی جا رہی ہے ۔ ان کی خدمات کسی بڑےمیڈیا ہاوس سے کم نہیں ہے مگر مالی اعتبار سے ان کے جو حالات ہیں اس کو بہتر بنانے کی فکر بہت ہی کم لوگوں کو ہے ۔ اور جن کو ہے وہ اپنی  بساط بھر مدد بھی کرتے ہیں لیکن عمومی طور پر اس معاملے میں چشم پوشی سے کام لیا جاتا ہے ۔ اب ایسے میں  قوم کے  ایک موقر ادارے کی جانب سے میڈیا کے میدان میں  دلچسپی رکھنے والے طلبا کی مزید رہنمائی کرنے اور انہیں آگے بڑھنے میں ہر ممکن مدد کی بات کہی گئی ہے تو ہماری ذمہ داری بھی دو گنی ہو جاتی ہے کہ ان کومعاشی طور پر مستحکم کر نے کی بھی کوئی سبیل نکالی جائے ، اور اس کا سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ موجودہ بھٹکل کے میٖڈیا اداروں کے کام کو دفاع اسلا م کا کام سمجھ کر اسے کار ثواب سمجھیں اوراس کےمالی استحکام کی کوشش کریں تاکہ باصلاحیت نوجوان کو اپنی صلاحیتیں ملت کے لئے وقف کرنے کا صلہ بھی مل جائے اور ایک بہتر پیش رفت بھی جاری رہے ۔ امید کہ ارباب حل و عقد  اس اہم پہلو پر بھی توجہ دیں گے ۔ بقلم :برماور سید احمد سالک ندوی

The short URL of the present article is: http://harpal.in/Zp3Uj

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے