Breaking News
Home / اہم ترین / تین طلاق اور تعدد ازواج کی مخالفت میں حکومت کا سپریم کورٹ میں حلف نامہ مسلم پرسنل لاءکے تحفظ کے لئے بڑا چیلنج

تین طلاق اور تعدد ازواج کی مخالفت میں حکومت کا سپریم کورٹ میں حلف نامہ مسلم پرسنل لاءکے تحفظ کے لئے بڑا چیلنج

نئی دہلی(ہرپل نیوز، ایجنسی)10 اکتوبر:۔مرکزی حکومت نے تین طلاق اور تعداد ازدواج کی مخالفت کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں جو حلف نامہ داخل کیا ہے،اس کے بارے میں کافی دنوں پہلے ہی خدشہ ظاہر کیا جاچکا ہے اور وہی ہوا۔مرکز کے رویے سے یہ لگتا ہے کہ اس بار مسلم پرسنل لاءبورڈ اور دیگر تنظیموں کو اپنی لڑائی لڑنے کیلئے ذہنی طور سے تیار رہنا چاہےے۔دوسری طرف لاکمیشن نے یکساں سیول کوڈ اور تین طلاق پر لوگوں کی رائے مانگی ہے تاکہ سماجی نا انصافی کو ختم کیا جاسکے۔بظاہر ایسا محسوس ہورہا ہے کہ اس معاملے پر بورڈ اور دیگر فریقوں کو اس معاملے میں ایک بار پھر عدالتی لڑائی میں ہار ہوگی۔جیسا کہ ماضی میں ہو اہے۔یہ وقت جذبات اور اشتعال میں آنے کا نہیں بلکہ صبر و تحمل کے ساتھ قانونی لڑائی کو انجام تک پہنچانے کا ہے۔کیونکہ یہ لڑائی عدلیہ میں ہوگی۔زبانی بیان بازی کااس پر کوئی اثر نہیں ہوگا۔یہ بات مختلف قانونی اور آئینی امور کے ماہرین کی برف کہی جارہی ہے کہ مسلم پرسنل لاءبورڈ نے جو حلف نامہ داخل کیا ہے اس میں کئی ایسی خامیاں ہیں جن کی بنیاد پر مقدمہ کا فیصلہ ہمارے خلاف جاسکتا ہے۔لکھنو سے ملی باوثوق خبر کے مطابق اکتوبر کے اوائل میں مسلمانوں کے کئی سرکردہ رہنماﺅں اور مذہبی تنظیموں کے لیڈروں نے بورڈ کے صدر کو ایک خط لکھ کر کئی امور کی طرف ان کی توجہ مرکورد کی،ان کے مطابق سب سے اہم بات یہ ہے کہ بورڈ نے اپنے حلف نامہ میں کئی اہم باتوں کی طرف توجہ دلائی ہے لیکن طلاق اور نفقہ سے متعلق ملکی عدالتوں نے متعدد فیصلے دئےے ہیں۔جن میں ان دلائل کا لحاظ نہیں رکھا۔ جو بورڈ نے پیش کئے ہیں۔اس کے باوجود انہیں کبھی بھی بورڈ کی جانب سے چلینج نہیں کیا گیا ہے۔عدالت یہ کہہ سکتی ہے کہ اس سے قبل جب ان امور پر جن میں ایک مجلس کے تین طلاق،طلاق سے تحکیم،طلاق کیلئے دو گواہوں کی موجودگی،مطلقہ کا تاحیات نفقہ،دفعہ125 کے تحت،نفقہ مطلقہ قانون کے باوجود عدلیہ کے فیصلوں کو سند جواز عطا کرنا چاہتا ہے تو ان باتوں کو کیوں اٹھایا جارہا ہے۔اس کا کوئی معقول جواب ہمارے حلف میں نہیں دیا گیا ۔پورے حلف نامہ میں ایک مجلس کی تین طلاق کو حق بجانب اور جائز ٹھہرانے کیلئے متعدد تاریخی حوالے دئےے گئے ۔لیکنن اسلام نے خود طلاق کو کتنا دشوار بنا یا ہے اس کاذکر نہیں کیا ہے۔طلاق کا ناپسندیدہ،حلال چیزوں میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ ہونے سے متعلق حدیث وغیرہ تو بیان کی گئی ہیں۔لیکن طلاق سے پہلے تحکیم اور قرآنی طریقہ طلاق کا ذکر نہیں کیا گیا ہے۔حلف نامہ میں اس بات کا ذکر ہے کہ اگر کسی شخص نے تین یا اس سے زائد لفظ طلاق کاذکر کیا،لیکن ان کا منشاءایک طلاق دینے کا ہے تو صرف ایک طلاق ہی واقع ہوگی لیکن حلف نامہ میں یہ بات بھی آسکتی تھی کہ اکثرلوگ شریعت کے طریقہ طلاق سے عدم، واقفیت اور جہالت کی بنا پر تین طلاق دیتے ہیں۔اس لئے اگر ان کا منشا ایک ہی طلاق دینے کا تھا تو ایسی صورت میں وہ ایک ہی طلاق ہوگی۔وہیں ایک مجلس کی تین طلاق کو حق بجانب ٹھہرانے کیلئے چاروں مسالک اور ائمہ کا ذکر کیا گیا،لیکن اس سلسلے میں اہل حدیث مسلک اور جعفری مسلک کی رائے کا ذکر نہیں کیا گیا،ضرورت اس بات کی ہے کہ تین طلاق کے تعلق سے ملت میں جتنے مسالک پائے جاتے ہیں ان کا ذکر بھی حلف نامہ میں کیا جاتااور یہ کہا جاسکتا ہے کہ جو جس مسلک سے وابستہ ہے وہ اپنے مسلک پر عمل کریگا۔کیونکہ بورڈ صرف ایک مسلک کے افراد کا پلیٹ فارم نہیں،بلکہ اس میں تمام مسالک کی نمائندگی ہے اور یہ مسلمانوں کے سب سے معتبر ،باوقار اور معزز ادارہ ہے۔ذرائع کے مطابق مسلم پرسنل لاءبورڈ کے کئی سینئر اراکین دو بڑی مذہبی جماعتوں کے لیڈراور بورڈ کی مجلس عاملہ کے ارکان اور مسلمانوں کے ایک مشترکہ پلیٹ فارم کی جانب سے بورڈ کے صدر مولانا سیدمحمد رابع حسنی ندوی صاحب کی خدمت میں گذشتہ دنوں ایک خط ارسال کیا گیا تھا،جس میں اس بات کی نشاندہی کی گئی تھی کہ بورڈ کے حلف نامہ میں قانونی ماہرین کی نظر میںکچھ پہلو کمزور ہیں،ان کو درست کیا جانا چاہےے۔سب سے تشویشناک بات یہ ہے کہ اب حالات بدل چکے ہیں۔اس وقت سرکار،میڈیا،ماحول،نام نہاد سیکولر پارٹیاں کوئی بھی بورڈ کے موقف کا ساتھ دینے کیلئے بظاہر تیار نہیں ہوگا۔میڈیا کے بڑھتے دائرے اور سوشیل میڈیا میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف جاری مہم کے ساتھ مسلم خواتین کی مظلومی کا جس طرح ڈھنڈورا پیٹا جاتارہا ہے،ان حالات میں کوئی بھی تحریک چلانا مشکل ہوگااور چلتی بھی ہے تو ٹکراﺅ،تصادم کے خطرات کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔شاہ بانو کے وقت حالات کا موجودہ وقت سے کوئی مواز نہ نہیں کیا جاسکتا۔اسی کے ساتھ خود مسلمانوں کی طرف سے کئی اداروں نے سائرہ بانو و دیگر کی پٹیشن کی حمایت اور بورڈ کی مخالفت میں سپریم جانے کااعلان کیا۔ان میں مسلم خواتین تنظیموں کے علاوہ مسلم خواتین پرسنل لاءبورڈ اور شیعہ پرسنل لاءبورڈ وغیرہ شامل ہیں۔اس طرح مسلم پرسنل لاءبورڈ کو چوطرفہ لڑائی کا چلینج درپیش ہے۔اگر اس موقع پر مسلم تنظیموں اور مذہبی اداروں نے مل بیٹھ کر کوئی لائحہ عمل تیار نہیں کیااور صرف بیان بازی پر ہی ساری طاقت جھونک دی تو اس کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوگا۔عدلیہ کا رویہ دیکھ کر یہ کہا جاسکتا ہے کہ فیصلہ تین طلاق کے خلاف ہی آئیگا۔سوال ایک نشست میں تین طلاق کا نفاذ یا صرف تین طلاق کے نفاذ کا نہیں بلکہ مسلم پرسنل کے تحفظ کا ہے ،جس کی آئین میں گیارنٹی دی گئی ہے اور حکومت اسی آئین کی دہائی دیکر یہ شرعی حقوق چھیننا چاہتی ہے۔بورڈ کو یہ بات بھی ذہن نشین رکھنی ہوگی کہ حلف نامہ میں اس بات کاتذکرہ تو ہے کہ اگر طلاق کو عدالت سے مشروط کردیا گیا اسے مشکل بنادیا گیا تو کئی طرح کے مسائل پیدا ہونگے۔لیکن یہاں مسئلہ طلاق کو مشکل بنانے یا مشروط بنانے کا نہیں بلکہ یہاں ایک مجلس کی تین طلاق زیر بحث ہے۔حلف نامہ میںیونیفارم سیول کوڈ کی بات ایک اضافی چیز ہے،اس لئے کہ ” سیوموٹو“ پٹیشن میں یونیفارم سیول کوڈ موضوع نہیں بنایا گیا ہے۔بہر اس وقت پوری قوم بورڈ کے پس پشت کھڑی ہوئی ہے اور ا س کی اپیل پر ہر طرح کی جدوجہد کیلئے ذہنی طو رپر تیار ہے۔مگر ہمیں ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھا نا ہوگا۔بد قسمتی سے حکومت اسی آئین اور دستور کی دہائی دے رہی ہے جس کے تحفظ کیلئے بورڈ عرصہ دراز سے مہم چلا رہا ہے۔بہر حال بورڈ کے وکلاءنے حلف نامہ میں جو ریسرچ اور تحقیق کی ہے اسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/rVmT9

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے