Breaking News
Home / اہم ترین / تین طلاق غیر آئینی، مسلم خواتین کے خلاف، پرسنل لاء بورڈ کا قانون آئین سے بالاتر نہیں: الہ آباد ہائی کورٹ

تین طلاق غیر آئینی، مسلم خواتین کے خلاف، پرسنل لاء بورڈ کا قانون آئین سے بالاتر نہیں: الہ آباد ہائی کورٹ

نئی دہلی(ہرپل نیوز، اہجسنی)8 ڈسمبر تین طلاق کے معاملے پر ملک میں جاری بحث کے درمیان الہ آباد ہائی کورٹ نے آج تین طلاق کو غیر آئینی قرار دیا ہے۔ کورٹ نے کہا کہ تین طلاق مسلم خواتین کے ساتھ ظلم ہے۔ یہ خواتین کے آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہے، اس لیے اسے قابل قبول نہیں ہونا چاہئے۔

کورٹ نے کہا کہ آئین میں سب کے لئے مساوی حقوق ہیں، اس میں مسلم خواتین بھی شامل ہیں۔ اس لیے تین طلاق کے معاملے پر ان کے حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہونی چاہئے۔ انہیں ان کے حقوق ملنے چاہئیں۔ کورٹ نے کہا کہ پرسنل لاء بورڈ کا قانون آئین سے اوپر نہیں ہو سکتا ہے۔ سپریم کورٹ نے دو مسلم خواتین کی پٹیشن پر یہ تبصرہ کیا۔ ادھر، آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ اس کے خلاف سپریم کورٹ جائے گا۔ پہلے سے ہی یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے۔

وہیں مرکزی وزیر وینکیا نائیڈو نے اس پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ تو حقیقت ہے۔ آئین سپریم ہے۔ مذہب یقین ہے، سب کو آئین پر عمل کرنا چاہئے۔ کسی کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں ہونا چاہئے۔ وہیں منی پور کی گورنر نجمہ ہیبت اللہ نے بھی کہا کہ کوئی بھی پرسنل قانون آئین سے اوپر نہیں ہو سکتا۔

سماج وادی پارٹی لیڈر ابو عاصم اعظمی نے اس فیصلے پر کہا کہ ٹرپل طلاق کا معاملہ مکمل طور پر مذہبی معاملہ ہے۔ ٹرپل طلاق کا مطلب مختلف ہے۔ آئین ملک کا اور قرآن شریعت دونوں الگ چیزیں ہیں۔ اڈوانی پاکستان میں پیدا ہوئے تو ہندوستان آ گئے۔ اگر کل ہندوستان میں کہہ دیا جائے کہ ہندو اپنے مردوں کو جلا نہیں سکتے، مندر نہیں جا سکتے تو ان سے پوچھا جائے گا کہ ان کا مذہب بڑا یا قانون بڑا۔ ہم اپنے اسلامی قانون میں دخل اندازی نہیں چاہتے۔

مسلم اسکالر خالد رشید فرنگی محلی نے کہا کہ مسلم پرسنل لاء بورڈ کی قانونی کمیٹی اس کی اسٹڈی کرے گی اور فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے۔ ہمیں آئین ہمارے مذہب پر عمل کرنے کا حق دیتا ہے۔ طلاق کا کچھ لوگ غلط استعمال کر رہے ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ قانون ختم کر دیں۔ اگر کوئی مرد اپنی بیوی پر ظلم کر رہا ہے تو آپ قانونی کارروائی کریں۔ کہیں بھی کوئی بے انصافی نہیں ہو رہی ہے۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/FxquX

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے