Breaking News
Home / اہم ترین / تین طلاق بل کے خلاف مودی کو مولانا رابع ندوی کا مکتوب۔وزیراعظم کو مسودہ قانون میں میں موجود خامیوں سے کیا گیا آگاہ

تین طلاق بل کے خلاف مودی کو مولانا رابع ندوی کا مکتوب۔وزیراعظم کو مسودہ قانون میں میں موجود خامیوں سے کیا گیا آگاہ

لکھنؤ(ہرپل نیوز،ایجنسی)25ڈسمبر۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی مجلس عاملہ نے یہاں اعلان کیا کہ شادی شدہ مسلم خواتین کے حقوق کے تحفظ سے متعلق حکومت ہندکا مجوزہ بل مسلمانان ہند کو کسی بھی صورت میں قبول نہیں ہے اس لئے کہ یہ بل خود مسلم خو اتین کے حقوق کے خلاف ہے، اور انکی الجھنوں ، مشکلات اور پریشانیوں میں اضافے کا سبب بن سکتاہے۔

مرکزی حکومت کی طرف سے تجویز کردہ تین طلاق بل کو شریعت کے خلاف قرار دیتے ہوئے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے کہا کہ قانون کے ذریعے مسلمانوں کے طلاق دینے کے حق کو چھیننے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ بورڈ کے ترجما ن خلیل الرحمن سجاد نعمانی اور آل انڈیا اتحاد المسلمین کے صدر اسدالدين اویسی سمیت مجلس عاملہ کے 50 اراکین نے یہاں منعقد ہوئے ہنگامی اجلاس میں یک زبان ہو کر کہا کہ مجوزہ بل شریعت کے خلاف ہے اور شریعت میں مداخلت کی کوشش کو قطعی قبول نہیں کیا جائےگا۔مولانا  نعمانی نے کہا کہ مسلمانوں کے مذہبی امور میں حکومت کی دخل اندازی قبول نہیں کی جائےگی۔ انہوں نے کہا مجوزہ قانون سے خواتین اور بچوں دونوں کا بھی بھلا نہیں ہوگا۔مولانا نعمانی نے کہا چونکہ یہ بل شریعت اسلامی اور آئین دونوں کے خلاف ہے، نیز مسلم خواتین کے حقوق پر اثر انداز ہوسکتا ہے اس لئے آل انڈیا پر سنل لا بورڈ اس کے سدباب کی کوشش شروع کر چکا ہے اور آئندہ بھی ہر سطح پر بھر پور کاشش کرئے گا۔انہوں نے کہا کہ بورڈ نے اس معاملے میں وزیر اعظم نریندر مودی سمیت کئی مسلم ارکان پارلیمینٹ کو خط لکھ کر بل کو واپس لینے کی درخواست کی ہے ۔ اس بیچ بورڈ کے صدر مولانا  رابع حسنی ندوی نے وزیراعظم کو ایک مکتوب لکھ کر  بل میں موجود خامیوں کو  واضح کرتے ہوئے  زیر اعظم سے اس بل کو پارلیمینٹ میں پیش نہ کرنے کی  اپیل کی ہے ۔ مولانا نے کہا ہے کہ جسطبقے کے لئے قانون بنایا گیا ہے ان سے صلاح ومشورہ نہیں کیاگیاہے ۔ بورڈ کے ترجمان مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی نے کہا کہ بورڈ خود چاہتا ہے کہ  تین طلاق کا مروجہ سسٹم ختم کیا جائے لیکن اس کو روکنےکے لئے حکومت نے جوطریقہ اختیارکیا ہے  وہ درست نہیں ہے ۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/odUJH

One comment

  1. bilkul sahi bat he allah apki mehnat ko qubul kren

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے