Breaking News
Home / اہم ترین / جرائم کو میڈیا میں لانے سے قبل ملزمین کے خلاف سخت کارروائی کریں اعلیٰ پولیس افسران کی سالانہ کانفرنس کے افتتاح کے موقع پر وزیراعلیٰ کی ہدایت

جرائم کو میڈیا میں لانے سے قبل ملزمین کے خلاف سخت کارروائی کریں اعلیٰ پولیس افسران کی سالانہ کانفرنس کے افتتاح کے موقع پر وزیراعلیٰ کی ہدایت

بنگلورو(ہرپل نیوز، ایجنسی)17؍جنوری:وزیراعلیٰ سدارامیا نے کہاکہ جس طرح اطلاعاتی ٹکنالوجی کی سہولت عام ہونے لگی ہے جرائم کی تشہیر بھی بڑھ رہی ہے۔ اس لئے پولیس اہلکار احتیاط کے ساتھ اپنی ذمہ داری انجام دیں۔ پولیس ہیڈکوارٹر میں اعلیٰ پولیس افسران کی سالانہ کانفرنس کا افتتاح کرنے کے بعد وزیراعلیٰ نے سال2016 کے دوران پولیس کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے بعد پولیس اہلکاروں کو کئی نصیحتیں کیں اس کے بعد اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہاکہ تشہیری کے لئے پولیس تھانوں میں جھوٹے مقدمات دائر کرکے تشہیر حاصل کرنے والے افراد کی تعداد بڑھنے لگی ہے۔ انہوں نے پولیس والوں کو ہدایت دی کہ وہ کوئی بھی معاملہ میڈیا میں آنے سے قبل ملزمین کا سراغ لگاکر ان کے خلاف کارروائی کرنے میں دلچسپی دکھائیں تبھی عوام پولیس پراعتماد کرسکتی ہے۔ وزیراعلیٰ نے پولیس والوں سے کہاکہ عوام دوست بن کر اپنی ذمہ داری نبھائیں۔ آبادی میں اضافہ کے ساتھ جرائم کی وارداتوں میں بھی اضافہ ہونے لگا ہے۔ ان وارداتوں کی روک تھام کے لئے ریاستی حکومت ہرطرح کی سہولت فراہم کرتی آرہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ اگر پولیس ایمانداری سے کام کرتے ہوئے عوام سے قریبی مراسم رکھے تو نظم وضبط اورامن وامان کو برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ پولیس اہلکاروں کے لئے ریاستی حکومت خصوصی بھتہ، گاڑیوں کی سہولت، میڈیکل جانچ کی سہولت، اسکولس اور اسپتالوں میں علاج کی سہولت رعایتی قیمتوں میں غذائی اجناس کی دستیابی کے لئے کینٹین کی سہولت اور دیگر کئی سہولتیں مہیا کی ہیں۔ ان تمام سہولیات سے استفادہ کرتے ہوئے جرائم کی وارداتوں میں کمی لاتے ہوئے عوام سے بہتر تعلقات قائم کرنے پر زوردیا۔ انہوں نے کہاکہ پولیس تھانوں میں ڈیوٹی انجام دے رہے پولیس افسران پر کافی زیادہ ذمہ داری عائد ہے اگر وہ اپنی ذمہ داری کو فریضہ سمجھ کر ادا کریں تو جرائم کی وارداتوں میں کافی کمی لائی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ مقامی پولیس تھانوں کے انسپکٹرس کو اپنے علاقوں میں مقیم جرائم پیشہ افراد کے متعلق ہرطرح کی جانکاری موجود رہا کرتی ہے۔ اس لئے غنڈہ عناصر، اور جرائم سرگرمیوں میں ملوث افراد پر کڑی نظر رکھنے کی تاکید کی۔ وزیراعلیٰ نے اعلیٰ پولیس افسران سے کہاکہ وہ مقامی پولیس تھانے کے انسپکٹرس پر تمام ذمہ داری عائد کرکے اپنی ذمہ داری سے منہ نہ موڑیں بلکہ تھانے کی حدود میں پیش آنے والے معاملات کو سنجیدگی سے لے کر معاملات کو جلد از جلد نپٹانے میں تعاون کریں۔ اس کے علاوہ اضلاع کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ،تعلقہ جات کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ڈی وائی ایس پی) اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس (اے سی پی) اور ڈپٹی کمشنر آف پولیس (ڈی سی پی) سطح کے افسران پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں مقیم غنڈوں اور جرائم پیشہ افراد پرکڑی نظر رکھیں اور وقتاً فوقتاً تفصیلات حاصل کرتے رہیں۔ جس سے بھی جرائم کی وارداتوں میں کمی لائی جاسکتی ہے۔ مسٹر سدارامیا نے بتایا کہ حال ہی میں منڈیا ضلع مدور تعلقہ میں دوسیاسی گروپوں کے درمیان ہوئے جھگڑے میں دوافراد کی موت ہوگئی تھی۔ اگر بروقت مقامی تھانے کے انسپکٹر احتیاطی اقدامات کرتے تو ان اموات کو روکا جاسکتا تھا۔ وزیراعلیٰ نے پولیس والوں سے کہاکہ وہ معاملات کی جانچ کرتے ہوئے ملزمین کو سخت سزا دی جائے تو کوئی مجرم جرائم کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے سے دور بھاگے گا۔ انہوں نے کہاکہ نئے سال کی آمد کے موقع پرشہر میں چند ناخوشگوار واقعات پیش آئے تھے۔ پولیس نے کمنہلی کے معاملہ میں بروقت اقدام کرتے ہوئے 6؍ملزمین کی گرفتاری عمل میں لائی تھی لیکن کے جی ہلی کے معاملہ میں پولیس کو گمراہ کیاگیا تھا۔ اسی طرح کے جھوٹی شکایتیں درج کرنے والے افراد کے خلاف اب آئندہ سخت کارروائی کرنے کا حکم دیا۔ سدارامیا نے کہاکہ ان کی حکومت برسراقتدار آنے کے بعد محکمۂ پولیس کو کئی سہولیات فراہم کئے ہیں۔ بیک وقت 12؍ہزار نچلی سطح کے پولیس اہلکاروں کو ترقی دی ہے۔ جو گزشتہ 35؍برسوں سے نہیں ہوسکی تھی۔ اس کے علاوہ تنخواہوں میں اضافہ بھی کیاگیا ہے۔ اب آئندہ بجٹ میں ساتویں پے کمیشن کی سفارشات پر بھی عمل کیا جائے گا جس سے ریاست کے تمام 7؍ لاکھ سرکاری ملازمین کو فائدہ پہنچے گا۔ ان میں پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ اس موقع پر ریاستی وزیر داخلہ ڈاکٹر جی پرمیشور۔ ان کے صلاح کار کیمپیا ،ڈائرکٹر جنرل وانسپکٹر جنرل آف پولیس اوم پرکاش سمیت دیگر اعلیٰ پولیس اہلکار موجود تھے۔ اس دوران وزیراعلیٰ نے ’’PLOICE IT) پولیس آئی ٹی ) ویب سائٹ نیوز لیٹر اور پولیس سالانہ رپورٹ کتاب کا بھی اجراء کیا۔
The short URL of the present article is: http://harpal.in/9J3Q1

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے