Breaking News
Home / اہم ترین / جماعت اسلامی ہند بیدر کےزیر اہتمام’’بچوں کی تعلیمی حالت اور اس کی نگرانی‘‘کے عنوان پر پروگرام کاانعقاد
خالدپرواز گلبرگہ کوجماعت اسلامی ہند بیدرکے پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا(تصویر۔امین نواز)

جماعت اسلامی ہند بیدر کےزیر اہتمام’’بچوں کی تعلیمی حالت اور اس کی نگرانی‘‘کے عنوان پر پروگرام کاانعقاد

بیدر(ہرپل نیوز،محمد امین نواز)2مارچ:کسی بچے کاعلم حاصل کرنایانہ کرنا ایک انفرادی معاملہ نہیں بلکہ ملی مسئلہ ہے۔ کیونکہ 42.7%ناخواندگی آج ہندوستانی مسلمانوں میں پائی جاتی ہے۔ یعنی ساڑھے آٹھ کروڑ مسلمان لکھناپڑھنا نہیں جانتے۔ ایس سی ؍ایس ٹی کے 18.5%بجے اعلی تعلیم حاصل کرتے ہیں جبکہ مسلمانوں میں 5.63%ہی اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔ یہ بات بچوں کی تنظیم گلشن کے کنوینر جناب خالدپرواز(گلبرگہ) نے کہی۔ وہ جماعت اسلامی ہند بیدر کے ہفتہ واری اجتماع میں ’’بچوں کی تعلیمی حالت اور اس کی نگرانی‘‘ عنوان پر خطاب کررہے تھے۔ انھوں نے مزید بتایاکہ عصری علو م کے خانگی ادارے زیادہ تر شہروں میں ہیں ، اور یہ ادارے تعلیم سے زیادہ نمبرات کو اہمیت دیتے ہیں اور بچوں کو اسباق رٹنے پر مجبورکراتے ہیں۔ سرکاری تعلیمی اداروں کی دیہاتوں میں بہتات ہے۔ پوری آبادی کے 94%سرکاری تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ بی پی ایل کارڈ دہندگان کی طرح کچھ وہ لوگ ہیں جو انتہائی نچلے درجہ میں تعلیم حاصل کرتے ہیں اور ان افرادکو تعلیم سے آراستہ وپیراستہ کرنا ہے تو سرکاری اداروں کومضبوط بناناہوگا۔موصوف نے سرکاری اداروں کی کمی کوتاہی او رتساہلی پر روشنی ڈالتے ہوئے ’’نگرانی کیسے ہو‘‘ سے متعلق بتایاکہ اولیائے طلبہ سرکاری اسکولوں کیلئے وقت نکالیں، اسکول جائیں ۔کسی قسم کی کمی کوتاہی پر افسران کوتوجہ دلائیں۔ ایس ڈی ایم سی کے رکن بنیں، اولیائے طلبہ کی تنظیم بناکر بھی سرکاری اداروں میں بچوں کی تعلیم کی نگرانی کی جاسکتی ہے۔ اساتذہ کی جانچ ہوتی رہے ۔ اسکولوں کوگود لیاجاسکتاہے۔ اسکولوں کو گود لے کر تمام ٹیچرس اور طلبہ کی نگرانی کی جاسکتی ہے۔ بہتر کارکردگی پر مزید 5سال کااضافہ ہوگا۔ خالد پرواز نے 2011کی مردم شماری کاحوالہ دیتے ہوئے کہاکہ مسلمانوں کی ترقی ناخواندگی میں 2%تک ہوئی ہے۔ہمیں چاہیے کہ ہم آگے بڑھیں ملت میں قحط الرجال ہے ۔ ٹی وی پر بولنے والے، اخبارنکالنے والے،لکھنے والے، لیڈر اور سیاست دانوں کی شدید ضرورت ہے۔ اگر محنت کریں تو آئندہ 10-20سال میں منظرنامہ خوش آئندہ ہوسکتاہے۔ مولانا محمودالحسن قاسمی امام دلہن مسجد بیدر نے درس قرآن دیا۔ اور بتایاکہ رؤسائے مکہ پر بہت بڑا انعام ہوا۔ لیکن انہوں نے اس انعام کی ناقدری کی۔ اللہ کے احسانات کو نہیں مانا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ناقدری کی۔ ہرایک کواپنادین اور اپنا طریقہ اچھا لگتاہے لیکن ہمیں اللہ کاطریقہ اختیار کرناچاہیے۔ مولانا نے دوچیزوں کی تلقین کہ کہ ایمان لائیں اور اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کی شکرگذار ی کریں۔ اس موقع پر جناب محمدآصف الدین سکریٹری وزڈم ادارہ جات بیدر کو ضلع انتظامیہ کی جانب سے ضلعی ایوارڈ ملنے پر جماعت اسلامی ہند بید رکی جانب سے شالپوشی اور گلپوشی کے ذریعہ تہنیت پیش کی گئی۔محمدمعظم امیرمقامی کی دعا پر اجتماع اختتام کو پہنچا

The short URL of the present article is: http://harpal.in/Objj7

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے